حفیظ شیخ اور ثانیہ نشتر کو سینیٹر کا ٹکٹ دیے جانے پر سلیم صافی نے دل کی بھڑاس نکال ڈالی

" >

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے اگر فرض کریں آپ پی ٹی آئی کے ایم این ہوتے تو آپ کیا حفیظ شیخ کو خوشی سے ووٹ دے کر سینیٹر منتخب کرواتے ؟وہ حفیظ شیخ جو پہلے مشرف کے ساتھ

تھے، پھر زرداری کے ساتھ اور مستقل آئی ایم ایف کے ساتھ۔ جوحکومت میں تو شامل ہیں لیکن پی ٹی آئی میں سینیٹ کا ٹکٹ ملنے کے بعد شامل ہوں گے ۔جو روز مہنگائی کروا ، ٹیکس بڑھا کر، بجلی اور گیس مہنگی کرکے بطور ایم این اے آپ کو اپنے حلقے میں ووٹرز کے سامنے شرمندہ کررہے ہیں ۔ عمران خان کے ساتھ پندرہ بیس سال جھک کچھ اور لوگوں نے ماری لیکن وہ روز عمران خان کے پاس بیٹھے انہیں ڈکٹیٹ کررہے ہوتے ہیں جبکہ آپ ایم این اے ہوکر بھی عمران خان تو کیا ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سے بھی ملنے کا تصور نہیں کرسکتے ۔عام ایم این اے تو کیا خود اسد عمر بھی کیا دل سے چاہے گا کہ ان کو وزارت خزانہ سے نکالنے والے حفیظ شیخ سینیٹر بن کر ان کے لئے مستقل چیلنج بنا رہے ۔آپ اگر خیبر پختونخوا اسمبلی کے پی ٹی آئی کے رکن ہوں تو آپ ثانیہ نشتر کو کیوں خوشی سے ووٹ دیں گے ؟ جو اب ٹکٹ ملنے کے بعد پارٹی میں شامل ہورہی ہیں ۔آپ فیصل سلیم کو کیوں ووٹ دیتے جن کی واحد کوالیفکیشن یہ ہے کہ وہ بڑی سگریٹ انڈسٹری کے مالک اور پارٹی کے کچھ رہنماوں کے اے ٹی ایم ہیں۔ علی ہذالقیاس آپ اگر پنجاب اسمبلی کے پی ٹی آئی کے رکن ہوں تو آپ علی ظفر کو کیوں خوشی سے ووٹ دینا چاہیں گے جن کا ماضی میں پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ ان کےوالد مسلم لیگی اورپرویز مشرف کے

وزیرقانون تھے لیکن علی ظفر نے پی ٹی آئی حکومت پہلے جوائن کی اور پارٹی میں اب شمولیت اختیار کریں گے۔آپ اگر سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن ہوتے تو سیف اللہ ابڑو کو ووٹ کیوں دیتے ؟ جن کی واحد کوالیفیکیشن ارب پتی ہونا ہے اور جن کے بارے میں خود پی ٹی آئی سندھ کے عہدیدار تحریری شکایت کرچکے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماوں کے اے ٹی ایم ہیں ۔ ویسے جملہ معترضہ کے طور پر عرض کروں کہ بدنام صرف جہانگیر ترین تھے کہ وہ عمران خان صاحب کے اے ٹی ایم ہیں لیکن یہاں تو پتہ چلا کہ پی ٹی آئی میں ہر طرف اے ٹی ایم ہی اے ٹی ایم ہیں اور خود پارٹی عہدیداروں کے شکایتی خطوط میں نشاندہی کی جارہی ہے کہ فلاں امیدوار ،فلاں رہنما کا اے ٹی ایم ہے ۔تاہم معاملہ یہاں پر آکر نہیں رکتا ۔ ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ سینیٹ الیکشن میں جبکہ عمران خان ابھی ایکسپوز نہیں ہوئے تھے اور جبکہ حفیظ شیخ ، زلفی بخاری اور ثانیہ نشتر پیراشوٹرز نہیں اترے تھے، تو اس وقت بھی صرف پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے دو درجن ایم پی ایز جن میں ایک وزیر اور ایک مشیر بھی شامل تھے، بک گئے تھے تو نہ جانے اب کیا صورت حال ہوگی ؟ لیکن مسئلہ اس بار ایک اور حوالے سے بھی سنگین ہے ۔وہ یوں کہ پرویز خٹک ، اسد قیصر اور اسد عمر جنہیں سینیٹ الیکشن کے دوران لوگوں
کو قابو رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ، وہ بھی دل سے کام نہیں کریں گے ۔دوسری طرف پنجاب میں اصل گرو گورنر چوہدری سرور ہیں لیکن وہ پچھلی مرتبہ کی طرح زور نہیں لگائیں گے اور جہاں تک بزدار صاحب کا تعلق ہے وہ تو اس معاملے میں بھی جادو کی چھڑی کے منتظر رہیں گے ۔ بلوچستان میں جب انتخابات ہورہے تھے تو صوبائی صدر سردار یار محمد رند تھے لیکن اب ان سے صدارت لے لی گئی ہے اور صوبے کو زونز میں تقسیم کیاگیا ہے ۔رند صاحب جام کی کابینہ کے رکن ہیں لیکن جام اور رند کے ٹکراو کا یہ عالم ہے کہ بات چیت تک بند ہے ۔ بلوچستان کے سب سے بڑے قبیلے اور ماضی میں وفاقی وزیر رہنے والے یار محمد رند سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسلسل وعدہ خلافی ہوئی ۔عمران خان وہاں پارٹی معاملات کے لئے ڈپٹی ا سپیکر قاسم سوری کی طرف دیکھتے ہیں لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ کیسے منتخب ہوئے اور اب کیسے سپریم کورٹ کے ا سٹے پر چل رہے ہیں۔سندھ کی حالت اور بھی تشویشناک ہے ۔ وہاں کی تنظمیں ابڑو کے بارے میں تو واضح کرچکی ہیں کہ وہ بعض رہنماوں کے اے ٹی ایم ہیں۔دوسری طرف فیصل واوڈا کو عمران خان نے ٹکٹ دیا ہے اور وہ بہ ہر صورت انہیں سینیٹ میں لانا چاہتے ہیں لیکن گورنر عمران اسماعیل اور علی زیدی فیصل واوڈا کی جگہ محمودمولوی کوسینیٹر بنوانا چاہتے ہیں جو ارب پتی ہونے کے ساتھ ساتھ علی زیدی کے بھی لاڈلے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں