اچھا تو یہ بات تھی۔۔!! PDM کا لاہور جلسہ ناکام کیوں ہوا؟ حامد میر نے اصل وجہ ڈھونڈ نکالی

" >

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مینار پاکستان پر اب سے پہلے جتنے بھی جلسے ہوئے ہیں وہ دسمبر کی اتنی سخت سردی میں نہیں ہوئے ، بینظیر بھٹو کا جو بہت بڑا جلسہ تھا وہ اپریل کا مہینہ تھا۔

عمران خان کا اکتوبرمیں جلسہ تھا ، اکتوبر میں تواتنی سردی نہیں ہوتی، میری نظرمیں سخت سردی کی وجہ سے پی ڈی ایم کا جلسہ ناکام ہوا، اس کے علاوہ پی ڈی ایم قیادت کو جلسے کے اوقات کار کا خیال رکھنا چاہئے تھا، لاہو رجلسے سے پہلے پی ڈی ایم قیادت نے ایاز صادق کے گھر پر تاخیر کی، بلاول بھٹو زرداری نے واضح پیغام دیدیا ہے کہ ڈائیلاگ نہیں ہوگا اب فون کرنا بند کردیں،بلاول کا یہ پیغام ان لوگوں کیلئے ہے جو سمجھتے تھے کہ پیپلز پارٹی کو لانگ مارچ میں شامل ہونے سے روک لیں گے۔ حامد میر کامزید کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کا جلسہ صرف مینار پاکستان تک محدود نہیں تھا پورے لاہور میں پھیلا ہوا تھا، عمران خان کا 2011 کے جلسہ کا بہت اثر پڑا تھا، پی ڈی ایم ان سیاستدانوں کو بھی مینار پاکستان تک لے آئی جو ہمیشہ پنجاب اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے رہے ہیں، اختر مینگل نے اپنی تقریر میں پنجاب سے کھل کر شکوہ شکایت کیا ہے۔دوسری جانب سینئر صحافی عمران ریاض خان نے اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کا مینار پاکستان کا جلسہ بری طرح فلاپ ہو ا، مینار پاکستان نے ماضی میں بہت عجیب عجیب سی چیزیں دیکھی ہیں لیکن جو کچھ گزشتہ روز ہوا وہ پہلے کے مقابلے میں کافی مختلف ہے ، جو جماعتیں ماضی میں ایک دوسرے کو گالیاں دیتی رہیں وہ آج مینار پاکستان کے سائے تلے جمع ہیں ، سب کے گانے ایک ہی سٹیج سے چل رہے ہیں ، وزیر اعظم عمران خان نے کم از کم یہ تو کردیا ہےکہ سب مخالفین کو ایک کردیا ، اتفاق ہوگیااور اتفاق میں برکت بھی ہوتی ہے

، مریم نواز نے کہا کہ ہمارا جلسہ پوری طرح بھراہو ا تھا، لیکن مریم نواز کی تقریر سے پہلے اختر مینگل تقریر کر رہے تھے تو اس وقت پنڈا ل کی حالت یہ تھی کہ پیچھے والا حصہ خالی تھا، لوگ 10, 10، 20،20فٹ کے فاصلے پر کھڑے تھے ، مینار پاکستان کا گرائونڈ بہت بڑا ہے جس میں لاکھوں لوگ سما سکتے ہیں ، لیکن ن لیگ نے جلسے کیلئے گرائونڈ کیصرف 30فیصد کا انتخاب کیا اور باقی 70فیصد خالی تھا، فضل الرحمن کے جملے بہت اچھے تھے کاش بندے بھی اتنا ہی زیادہ ہوتے ، اس جلسے کا موازنہ کیا جارہا تھا عمران خان کے جلسے سے جو انہوں نے 2011میں کیا تھا ، مجھے یاد رہے کہ ہمیں انار کلی سے پیدل جانا پڑا تھااس جلسے میں، میرے دوست ہیں عارف حمید بھٹی صاحب وہ یہ بتارہے ہیں کہ وہ یہ سارا علاقہ گاڑی میں گھوم کر آئے ہیںاور 2گھنٹے سڑکوں پر گھومتے رہے ہیں ،2مرتبہ مینار پاکستان کے سامنے سے گزرے، ہمیں اس جلسے میں کوئی فیملی نظر نہیں آئی ، ن لیگ کے لاہور سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کا ردعمل بہت مایوس کن تھا، باہر سے لوگ لائے گئے ، عمران خان ، بینظیر کا جلسہ تو اس سے بہت بڑا تھا، علامہ خادم حسین رضوی صاحب کا نماز جنازہ بھی اس سے بڑا تھا ، طاہر القادری کا جو سالانہ پروگرام ہوا کرتاتھا یہ تعداد اس سے بھی کم تھی ، انہوں نے دفاع پاکستان کونسل ، جماعت الدعوة کے اجتماعات کا بھی حوالہ دیا جہاں عوام اس سے بھی زیادہ وہوتی تھی ، لوگوں کی تعداد کے حوالے سے یہ کمزور جلسہ تھا، لاہور کی ایک کروڑ 20لاکھ آبادی ہے لیکن عوام نہیں نکلے،جلسہ مایوس کن تھا جس کی وجہ سے نوازشریف انتہائی برہم تھے ، مجھے 2ذرائع سے یہ پتہ چلا ہے ، سابق وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کرائینگے کہ کس نے ہمیں آخری وقت میں دھوکا دیا، انہیں جلسے کی ایک ایک لمحے کی فیڈ مل رہی تھی ، جب ان کی تقریر کی باری آئی تو بیشتر عوام جا چکے تھے ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں