ایمریٹس ایئرلائن کی سابق ایئرہوسٹس نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

" >

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی ایمریٹس ایئرلائن کی ایک سابق ایئرہوسٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایمریٹس ایئرلائن اپنے عملے کے وزن کی نگرانی کرتی ہے اور جس ایئرہوسٹس یا عملے کے کسی اور فرد کا وزن کچھ بڑھتا ہے تو اسے کمپنی کی طرف سے وارننگ جاری کر دی جاتی ہے۔

میل آن لائن کے مطابق کارلا بےسن نامی اس سابق ایئرہوسٹس نے بتایا ہے کہ اس نے ایمریٹس میں اپنی ملازمت کے دوران اپنی کئی کولیگز کو وزن بڑھنے پر وارننگ ملتے ہوئے دیکھی۔انسائیڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کارلا بیسن کا کہنا تھا کہ کمپنی کی طرف سے ’اپیئرنس مینجمنٹ پروگرام‘ (Appearance Management Programme)بھی چلایا جاتا ہے اور موٹاپے کا شکار ہونے والے عملے کے افراد کو اس پروگرام میں شامل کرکے ان کی کونسلنگ کی جاتی ہے اور انہیں وزن کم کرنے کے لیے ڈائٹنگ پلانز اور ورزش کے متعلق سکھایا جاتا ہے۔وزن کم کرنے کے لیے کچھ لوگوں کو تو 2ہفتے سے بھی کم وقت دیا جاتا ہے۔کمپنی میں عملے کے وزن کی جو آفیسرز نگرانی کرتے ہیں انہیں کمپنی کے ورکرز ’ویٹ پولیس‘ (Weight Police)کہتے ہیں۔ یہ آفیسرز گاہے ایئرہوسٹسز کو ایئرپورٹس پر روک کرانہیں کہتے ہیں کہ ’ہے بے بی، تمہیں وزن کم کرنے کی ضرورت ہے۔“36سالہ کارلا کا کہنا تھا کہ اس نے ایمریٹس میں 9سال ملازمت کی اور 2021ءکمپنی کو چھوڑا۔ اس نے بتایا کہ ”جب کمپنی کے کسی ملازم، بالخصوص ایئرہوسٹسز، کا وزن بڑھتا ہے تو اس ’ویٹ پولیس‘ کی طرف سے اس ملازم کو پہلے وارننگ جاری کی جاتی ہے اور پھر تنخواہوں میں کٹوتی سمیت دیگر سزائیں دی جاتی ہیں۔کمپنی کی طرف سے لباس کا ایک سائز مقرر کیا گیا ہے اورہر ملازم کو اس سائز تک ہی محدود رہنا ہوتا ہے۔ کمپنی کی طرف سے یہ اقدامات اپنے ’گلیمرس فیس‘ (Glamorous Face)کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے جاتے ہیں۔“

68

اپنا تبصرہ بھیجیں