خان صاحب : آپ کی کابینہ میں 4 لوگ ایسے ہیں جو آپ کا مستقبل تاریک کررہے ہیں ۔۔۔۔۔ اوریا مقبول جان نے صاف صاف بتا دیا

" >

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔عمران خان صاحب کی وزارتی ٹیم کے کچھ ’’اعلیٰ دماغ‘‘ اراکین کو ایسے معاملات میں بہت جلدی بھی ہوتی ہے مگر وہ عوامی ردِعمل کے خوف سے اپنی اس حرکت کو خفیہ بھی رکھنا چاہتے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں

سرِعام مسترد کردہ بل کو دوبارہ منظور کروانے اور وہ بھی اسے قومی سطح پر قانون کا درجہ دلوانے کی سازش انہی وزیروں کے دماغ کا نفرت انگیز ’’پھوڑا‘‘ تھا، ورنہ سندھ میں زرداری، بلاول بھٹو، شیری رحمان اور رضا ربانی جیسے سیکولر، لبرل سیاسی رہنمائوں کا اس معاملے میں حشر دیکھ کر بھی یہ وزراء اگر مخلص ہوتے تو کبھی بھی عمران خان کو اس آگ میں کودنے کا مشورہ نہ دیتے۔ لیکن ان کا تو ایجنڈا ہی اور ہے۔ یوں لگتا ہے انہوں نے عمران خان کو عوامی سطح پر ذلیل و رُسوا کرنے کا پورا بندوبست کر رکھا ہے۔ اس بل کا آغاز ایک جھوٹ پر مبنی فقرے سے ہوتا ہے۔ “The Government of Pakistan is obligated to fulfill its commitment under international convention on civil and political rights and International convention of Economic culture and social rights” ’’حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی کنونشن برائے سول اور سیاسی حقوق اور عالمی کنونشن برائے معاشی و معاشرتی اور سوشل حقوق کی پاسداری کرے‘‘۔ وزارتِ قانون اور وزارتِ انسانی حقوق کی ’’جہالت‘‘ کا عالم یہ ہے کہ یہ دونوں “Convention” نہیں بلکہ “Covenant” یعنی ’’عہد نامہ‘‘ ہیں۔ یہ دونوں عہد نامے 16 دسمبر 1966ء کو اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں منظور ہوئے۔ ان دونوں میں کسی آرٹیکل میں کہیں یہ درج نہیں کہ کس عمر سے پہلے آپ مذہب تبدیل نہیں کر سکتے، بلکہ ایسے معاملات کا ذکر تک نہیں ہے۔ لیکن اسی جھوٹی وجۂ تسمیہ کی بنیاد پر اس بل کی شق نمبر (2)5 کے تحت اگر کوئی اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکا یا لڑکی اسلام قبول کرتا ہے

تو قانون اسے مسلمان تسلیم نہیں کرے گا۔ ان دونوں ’’عہد ناموں‘‘ پر یورپ اور امریکہ جیسے لاتعداد ممالک نے بھی دستخط کئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک ملک میں بھی ایسا قانون نہیں ہے کہ کوئی لڑکا یا لڑکی اٹھارہ سال سے پہلے مذہب تبدیل نہیں کر سکتے۔ شاید ان عالمی ’’عہد ناموں‘‘ کی ’’انگریزی‘‘ کی خصوصی سمجھ صرف شیریں مزاری کی وزارتِ انسانی حقوق کی حاصل ہے۔ ان سیکولر، لبرل حضرات کی مہربانی ہے کہ آج اس اسلامی ملک میں ایک اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی یا لڑکے کو گھر سے بھاگنے کی تو اجازت ہے، اسے والدین کی بجائے دارالامان بھیجا جاتا ہے لیکن مسلمان ہونے والے لڑکے یا لڑکی کو اس قانون کے مطابق واپس ’’پنڈتوں‘‘ کے حوالے کیا جائے گا جو اسے پھر ہندو ہونے پر قائل کریں گے۔ بل چونکہ اب وزارتِ مذہبی اُمور کے پاس ہے۔ اس لئے ان کی سفارشات کا انتظار رہے گا۔ لیکن ایسی ہی خاموشی، راز داری اور سازش سے پہلے خواجہ سرائوں کے نام پر بل منظور کروایا گیا، ’’گھریلوزدوکوب ‘‘ کا بل پیش کیا گیا، تجربے کی بنیاد پر خوف یہی ہے کہ اس بل کے ساتھ بھی کہیں ایسا نہ ہو جائے۔ لیکن ایسا کرنے سے یہ وزراء حضرات پاکستان کے اسلامی تشخص کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، البتہ عمران خان کے عوامی مستقبل کو مکمل تاریک ضرور کر دیں گے۔ خان صاحب !آپ کی وزارت میں چار وزراء ایسے ہیں، کہ اگر وہ اپنی سازشوں میں کامیاب ہو گئے تو آپ اور آپ کے اُمیدواران اگلے الیکشنوں میں عوامی اجتماعات منعقد کروانا تو دُور کی بات ہے، لوگوں کا سامنا تک نہیں کر سکیں گے۔ اس چار کے ٹولے کو آپ بخوبی جانتے ہیں

21

اپنا تبصرہ بھیجیں