جب میں چھوٹا تھا تو اکثر والد کے لیے بینظیر بھٹو کے فون آتے ، جب میں فون اٹھاتا تو وہ سب سے پہلے کیا کہتیں ؟ بابر اعوان کے صاحبزادے عبداللہ بابر اعوان کی خصوصی تحریر

" >

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عبداللہ بابر اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آفر کو عزت دو‘ پی ڈی ایم مرحومہ کی آخری رسومات کا سب سے بڑا نوحہ ہے‘ لیکن پہلے آفر کی ایک مختصر داستان سن لیجئے۔ تب بے نظیر بھٹو صاحبہ کی پاکستان واپسی کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔

ہمارے گھر کی لینڈ لائن پر گھنٹی بجتی تو اکثر مجھے فون اُٹھانے کا موقع مل جاتا۔ اس طرح سے میں نے بی بی صاحبہ کی بے شمار ٹیلی فون کال اٹینڈ کیں۔ ایک دن مگر ایسی ہی فون کال سننے کے لیے والد صاحب کو بلایا۔ وہ روٹین سے کافی لمبی گفتگو تھی جس میں بار بار ہنسنے کا سپیل بھی آتا رہا۔ اس گفتگو کے دوران ”آفر‘‘ کا ذکر بھی آیا۔ مختصراً یو ں کہ بی بی صاحبہ نے میرے والد صاحب سے پوچھا کہ آپ کو حکومت کی طرف سے کوئی آفر آئی ہے؟ پھر جواب نفی میں پا کر انہوں نے پنجاب کے دو بڑے لیڈروں اور کے پی سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما کا نام لے کر کہا کہ وہ دبئی میں آ کر مجھے باری باری ملے تھے۔ کہنے لگیں کہ سرکاری محکمہ خاص کے افسر نے مجھے سیاسی کیریئر کا پیکیج آفر کیا ہے‘ مگر میں نے جمہوریت کی محبت میں اُسے ٹھکرا دیا (یاد رہے یہ تینوں رہنما مشرف دور میں پیٹریاٹ المعروف فارورڈ بلاک میں شامل ہوئے اور وفاقی وزیر بن گئے)۔ان دنوں سامنے آنے والی آفرز کی کہانی ٹرائی اینگولر ہے۔ ہم سب کو یاد ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آتے ہی بوریا بستر باندھ کر پی ڈی ایم کے قافلے اسلام آباد پہ چڑھ دوڑے تھے۔ آپ اسے آفر کو عزت دینے کا کرٹن ریزر بھی کہہ سکتے ہیں۔ اُن دنوں مولانا کے لہجے اور واک سمیت اُٹھک بیٹھک کا انداز کچھ اقتداری اقتداری لگتا تھا مگر بھاشن اور تقریر کے ذریعے وہ اپنے برانڈ کا اسلامی جمہوری انقلاب لانے کی بات کر رہے تھے۔

184

اپنا تبصرہ بھیجیں