کیا اگلے الیکشن کے لیے (ن) لیگ ملتان سے جاوید ہاشمی کو ٹکٹ دے گی ؟ اہم خبر

" >

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اگلے عام انتخابات میں اگر کوئی علاقہ کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ جنوبی پنجاب ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں، سب سے بڑی وجہ اس خطے کی کسی خاص جماعت سے وابستگی کا نہ ہونا ہے۔

2018ء کے انتخابات کو ہی لے لیں، تحریک انصاف نے یہاں سے خاطر خواہ کامیابی حاصل کی، حالانکہ ایک زمانے میں یہ پیپلزپارٹی اور بعد میں مسلم لیگ (ن) کا گڑھ کہلاتا تھا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے جنوبی پنجاب کے عوام ہر بار حالات کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں، اس وقت بھی یہ علاقہ سیاسی طور پر ایک کھلا میدان بنا ہوا ہے۔ کوئی جماعت یہ پیشگوئی نہیں کر سکتی کہ آئندہ انتخابات میں وہ یہاں سے کلین سویپ کرے گی آج کل بلاول بھٹو زرداری جنوبی پنجاب کے پانچ روزہ دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ آصف علی زرداری نے بہت پہلے اس حقیقت کو بھانپ لیا تھا کہ سیاست کا اگلا مرکز جنوبی پنجاب ہے یہی وجہ ہے انہوں نے ملتان میں بلاول ہاؤس قائم کیا اور آج کل یہی بلاول ہاؤس پیپلزپارٹی کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بہت پہلے آصف علی زرداری یہ بھی کہہ چکے ہیں اگلے انتخابات میں جنوبی پنجاب کے الیکٹیبلز پیپلزپارٹی میں شامل ہو جائیں گے اور ہم مرکز اور پنجاب میں بھی حکومتیں بنائیں گے۔ فی الوقت تو یہ بات دیوانے کی بڑ نظر آتی ہے تاہم اس حد تک اس میں صداقت ضرور موجود ہے مستقبل کے سیٹ اپ میں جنوبی پنجاب ایک کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ پیپلزپارٹی کا اس خطے کو قبل از وقت فوکس کرنا اسے فائدہ پہنچا سکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کیا پیپلزپارٹی اپنی مجموعی سیاسی ساکھ کو اتنا بہتر بنا پائے گی کہ لوگ اس کے بارے میں سوچنے لگیں۔ فی الوقت تو ایسے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے،
پیپلزپارٹی کو اس وقت شدید عدم مقبولیت کا سامنا ہے، خاص طور پر پنجاب میں۔تحریک انصاف بھی اس بات سے غافل نہیں، وہ جنوبی پنجاب پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ اگر اسے اگلے انتخابات میں پھر اپنی جیت کو یقینی بنانا ہے تو جنوبی پنجاب میں اپنی مقبولیت برقرار رکھنا ہو گی، آج والی مقبولیت نہیں بلکہ وہ مقبولیت جو گزشتہ انتخابات کے وقت تھی۔ اس کے لئے اپنے تیئیں تحریک انصاف کوشیں تو کر رہی ہے بعض اچھے اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں، اس خطے کے لئے سیاست کا سارا بوجھ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے کاندھوں پر ہے۔ شاہ محمود قریشی بھی جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں مگر وہ خود ملتان میں غیر مقبول ہو چکے ہیں، ملتان سے تحریک انصاف کو عام انتخابات میں سب سے زیادہ سیٹیں ملی تھیں لیکن اب کہا جا رہا ہے یہاں سے ایک دو نشستیں جیتنا بھی آسان نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے شاہ محمود قریشی نے صرف اپنے حلقے کی سیاست کی ہے اور پارٹی میں انتظامی انتشار پیدا کیا ہے، وہ کبھی جنوبی پنجاب کے دورے پر گئے ہی نہیں اور کبھی انہوں نے یہ کوشش ہی نہیں کی پارٹی کے مرکزی رہنما ہونے کی حیثیت سے یہ جائزہ لیں سیاسی طور پر تحریک انصاف کہاں کھڑی ہے۔ البتہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دیئے ہوئے ہیں، انہوں نے ہی جنوبی پنجاب سکریٹریٹ کو فعال کیا ہے، اسے رولز آف بزنس کے تحت اختیارات دیئے ہیں، ترقیاتی بجٹ کا 33 فیصد حصہ جنوبی پنجاب کے لئے مختص کیا ہے
جو کسی دوسری جگہ خرچ نہیں ہو سکتا۔ وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں جنوبی پنجاب میں یکساں ترقی کو یقینی بنائیں گے، یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں مگر زمینی حقائق یہ ہیں، تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی عوام کو دستیاب نہیں ہوتے، ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل بھی حل نہیں کرتے، جنوبی پنجاب کی سیاست ڈیرے داری کی بنیاد پر چلتی ہے، جس کے ڈیرے آباد ہوتے ہیں وہی کامیاب سیاستدان کہلاتا ہے۔ پچھلے تین برسوں میں جنوبی پنجاب کے عوام نے بالعموم اور ملتان کے عوام نے بالخصوص یہ دہائی دی ہے،ان کے ارکانِ اسمبلی انہیں دستیاب نہیں ہوتے، چھپتے پھرتے ہیں، یہ چیز تحریک انصاف کو آئندہ انتخابات میں نقصان پہنچا سکتی ہے۔مسلم لیگ (ن) جنوبی پنجاب کی دوڑ سے نجانے ابھی تک باہر کیوں کھڑی ہے؟ ایک مدّت گزر گئی شہباز شریف، مریم نواز یا کسی مرکزی رہنما نے جنوبی پنجاب کا دورہ نہیں کیا۔ پارٹی کس حال میں ہے، اس کی خبر نہیں لی، حالانکہ یہی وہ جنوبی پنجاب تھا جہاں سے مسلم لیگ (ن) کو بھاری اکثریت ملتی رہی ملتان، ڈیرہ غازیخان اور بہاولپور ڈویژنوں میں مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت مسلمہ تھی، 2018ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو سب سے زیادہ نقصان جنوبی پنجاب ہی میں اٹھانا پڑا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی آخر وقت پر اس کے کئی الیکٹیبلز اسے چھوڑ گئے تھے اور دوسری وجہ تحریک انصاف کی وہ لہر تھی جس نے نئے پاکستان کے نام پر عوام کو متاثر کر رکھا تھا۔
مگر اس وقت جنوبی پنجاب میں میدان کھلا پڑا ہے۔ کوئی جماعت بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتی، مستقبل اس کا ہے، اس لئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اس طرف کا رخ کرنا چاہتے۔ مسلم لیگ (ن) کو یہ سوچ بدلنی ہو گی کہ وہ اپر پنجاب کی جماعت ہے، صرف لاہور یا بالائی پنجاب کے بل بوتے پر معرکہ سر نہیں کیا جا سکتا۔ ابھی کل ہی شہباز شریف نے کہا ہے مسلم لیگ (ن) قبل از وقت انتخابات کے لئے تیار ہے یہ کیسی تیاری ہے کہ جو جنوبی پنجاب میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ ملتان جیسے بڑے شہر میں مسلم لیگ (ن) کے کئی دھڑے موجود ہیں اور ایک دوسرے کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی جیسے سینئر رہنما کو پیچھے دھکیلنے والے بھی موجود ہیں کیونکہ سابق ایم این اے طارق رشید کو کھٹکا ہے اگر مخدوم جاوید ہاشمی نے ملتان شہر کے حلقے سے الیکشن میں حصہ لیا تو انہیں ٹکٹ نہیں ملے گی۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں جاوید ہاشمی ا پنے آبائی علاقے مخدوم رشید ہی سے انتخاب میں حصہ لیں۔ گزشتہ انتخابات میں برے حالات کے باوجود پیپلزپارٹی مظفر گڑھ سے تین نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی، جبکہ مسلم لیگ (ن) کا صفایا ہو گیا تھا، اب بھی اگر مسلم لیگ (ن) کی جنوبی پنجاب پر توجہ اسی طرح کی رہی تو شاید وہ یہاں سے ایک نشست بھی نہ جیت سکے۔جنوبی پنجاب کی سیاست اس ایک نکتے کے گرد گھوم رہی ہے یہاں علیحدہ صوبہ بننا چاہئے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے اس حوالے سے دعوے بھی کئے اور نیم دلی سے اقدامات بھی اٹھائے، تحریک انصاف نے چونکہ علیحدہ صوبے کے نام پر ووٹ بھی لئے تھے، اس لئے اس پر دباؤ زیادہ تھا۔ اس دباؤ کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت نے جنوبی پنجاب میں علیحدہ سکریٹریٹ بنانے کی راہ نکالی، پہلے سو دنوں میں صوبہ بنانے کا وعدہ کرنے والے تین سال بعد صرف سکریٹریٹ بنا سکے۔ تاہم یہ کامیابی بھی کچھ کم نہیں اور اس کی بنیاد پر اگلے انتخابات میں تحریک انصاف یہ وعدہ لے کر جا سکتی ہے اسے بھاری اکثریت ملی تو علیحدہ صوبہ بھی بنا دے گی۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو بھی ایسا ہی وعدہ کرنا پڑے گا چاہے اسے پورا کرنے کی نوبت نہ آئے۔ حالانکہ جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبے سے زیادہ صنعتی ترقی کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو روز گار ملے۔ اب انہیں یہاں سے بڑے شہروں یا خلیجی ریاستوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ تحریک انصاف نے بھی اپنی حکومت میں اس طرف توجہ نہیں دی۔ اس لئے اب بھی یہ خطہ سیاسی لحاظ سے ایک کھلا میدان ہے اور کوئی بھی سیاسی جماعت بہتر حکمتِ عملی سے عوام کے دل جیت سکتی ہے۔

105

اپنا تبصرہ بھیجیں