35

بریکنگ نیوز: ہم بالکل تیار ہیں ۔۔۔۔۔آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نےا علان کر دیا

راولپنڈی(ویب ڈٰیسک ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مشرقی سرحد پر موجود خطرے سے آگاہ اور کسی بھی مس ایڈونچر کو ناکام بنانے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف نے بلند ترین میدان جنگ میں موسمی چیلنجز اور

زمینی صورتحال کے باوجود جوانوں، افسروں کی تیاری اور جذبے کو سراہا۔آرمی چیف کا فارمیشن ہیڈکوارٹرز گلگت میں افسروں اور جوانوں سے خطاب میں کہنا تھا ہم مشرقی سرحد پر موجود خطرے سے آگاہ ہیں، اس خطرے کا تعلق مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال سے ہے ۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فارمیشن ہیڈ کوارٹرز گلگت کا دورہ کیا اور یادگار شہدا پر پھول بھی چڑھائے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ (یواین)کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گویٹرس سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی یکطرفہ اقدامات کے بعد وادی اور خطے کی مخدوش صورتحال سے آگاہ کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیریوں کی جانیں بچانے کیلئے عالمی ادارے اور دنیا کو آگے آنا ہوگا،دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق شاہ محمود نے سیکرٹری جنرل سے مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گفتگو کی ،اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ بیس روز سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن کر رکھا ہے ، ذرائع مواصلات پر پابندی ہے ، وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بتایا کہ راہول گاندھی کی قیادت میں بھارتی اپوزیشن کا وفد جب صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے سری نگر ایئرپورٹ پہنچا تو انہیں ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا، بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے جو رپورٹس سامنے آرہی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ انسانی جان بچانے والی ادویات اور خوراک کی

شدید قلت ہے ۔ شاہ محمود نے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے لوگوں کو بھارتی بربریت سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔بھارتی یکطرفہ اقدام کو پاکستان ، کشمیری عوام اور بھارتی اپوزیشن کے بہت سے رہنما یکسر مسترد کر چکے ہیں۔اس موقع پرسیکرٹری جنرل انٹونیو گویٹرس نے کہا کہ وہ اس تشویشناک صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل نے کہاکہ اس معاملے پر بھارتی وزیراعظم سے بات کرونگا،بعدازاں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہاکہ میں نے انٹونیوگویٹرس کا شکریہ ادا کیا کہ جس طرح انہوں نے اپنے بیان میں قانونی اور سیاسی طور پر درست موقف پیش کیا تھا، اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ نہتے کشمیریوں کو بھی حوصلہ ملا ہوگا۔میں نے یواین سیکرٹری جنرل کو بتایا کہ مقبوضہ وادی کی صورتحال پرسلامتی کونسل کا اجلاس بروقت تھا اور معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اسے طلب کیا گیا تھا، اس اجلاس کی بند کمرہ گفتگو سے ہمیں یہ پیغام ملا کہ سب اراکین معاملے کا پرامن حل چاہتے ہیں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیر تنازع کے 3 فریق ہیں، جس میں سے 2 فریق 5 اگست کے اقدام پر اپنا واضح موقف پیش کرچکے ہیں، پاکستان مکمل طور پر اس اقدام کو مسترد کرچکا ہے ، اور اس قدم کو غیرآئینی، غیرقانونی، سکیورٹی کونسل کی قراردادوں سے متصادم اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی قرار دے چکا ہے جبکہ کشمیری بھی اس اقدام کو مسترد کرچکے ہیں۔ تیسرا فریق آج تقسیم ہے ، جس کا عملی مظاہرہ آج سری نگر ایئرپورٹ پر دیکھ لیا۔مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام بند ہے ، قدغنیں ہیں، کوئی خبر باہر نہیں آنے دی جاتی لیکن میں ان لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو اپنے ذرائع سے فوٹیج بنا کر عزیز و اقارب کے ذریعے باہر منتقل کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں