32

’’ پاکستا ن میں سرکاری پروجیکٹ میری منظوری کے بغیر شروع نہیں کیا جاسکتا۔۔۔‘‘حکومت نے کرپشن سے بچنےکا انوکھا طریقہ ڈھونڈ نکالا

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے بڑے منصوبوں کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بڑا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت تمام بڑے منصوبوں کے کاغذات منظوری سے قبل تصدیق کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب)کو بھجوائے جائیں گے،پنجاب حکومت کے اس فیصلے کے بعد کسی بھی بڑے پراجیکٹ کی منظوری اب نیب کی اجازت سے مشروط

ہو گئی ہے۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ اس فیصلے کے بعد بیوروکریسی نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کسی پراجیکٹ میں سیاسی مداخلت ہوئی بھی تو افسران نیب میں جا کر صفائیاں پیش نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدارکی سربراہی میں ہونیوالے اجلاسوں میں بعض افسران نے اس معاملے سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا۔بعض افسران نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اتھارٹیز کو میرٹ پر فنڈز جاری کئے جائیں۔بیوروکریسی نے موقف اختیار کیا تھا کہ گزشتہ دور حکومت میں کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں اس لیے ہم اب مزید کوئی رسک نہیں لے سکتے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج کسی بھی قسم کے مس ایڈونچر کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہے ،مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر مکمل نظر ہے ۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف نے فارمیشن ہیڈ کوارٹر گلگت کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یاد گار شہدا پر پھول چڑھائے اور پھر پاک فوج کے جوانوں سے خطاب کیا ۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہم مشرقی سرحد پر موجود خطرے سے آگاہ ہیں ،مشرقی سرحد پر خطرے کا تعلق مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے ہے،ہمار مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر مکمل نظر ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے ۔اس موقع پر آرمی چیف نے موسمی چیلنجز اور زمینی صورتحال کے باوجود جوانوں اور افسروں کی تیاری کو سراہا اور دنیا کے بلند ترین میدان جنگ میں جوانوں کے جذبے کو بھی سراہا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں