78

کیا ان کرتوتوں کے ساتھ منظور پشتین ، علی وزیر اور محسن داوڑ کسی رعایت کے مستحق ہیں ؟ شرپسند عناصر کی یہ چارج شیٹ ملاحظہ کیجیے اور اپنی رائے بھی دیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) ابھی حال ہی میں شہزاد ٹائون اسلام آباد کی حدود میں مہمند قبیلے کی ایک 10سالہ بچی فرشتہ کے ساتھ اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ بہت بڑا تھا۔ جسے میڈیا نے اٹھایا اور میڈیا کے ذریعے اربابِ اقتدار و اختیار تک بھی پہنچا۔

نامور کالم نگار اسرار بخاری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس افسوس ناک واقعہ کا نوٹس صرف مقامی انتظامیہ ہی نے نہیں لیا بلکہ وزیراعظم کو بھی اس کا نوٹس لینا پڑا۔ انہوں نے واقعہ میں ملوث ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی بات کی۔ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور کوتاہی پر ایس ایچ او تھانہ ’’شہزاد ٹائون‘‘ اور متعلقہ ڈی ایس پی کو معطل کر دیا گیا جبکہ ایس پی کو او ایس ڈی بنا دیا گیا۔ کئی سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما اور کئی حکومتی وزیر اظہارافسو س اور متاثرہ خاندان سے اظہارِ ہمدردی کیلئے مقتولہ بچی کے گھر پہنچے فوج کی طرف سے بھی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ایک مذمتی بیان جاری کیا جس میں ناصرف مظلوم خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا بلکہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر مظلوم خاندان کو انصاف دینے کی بات کی گئی۔ چونکہ مقتولہ بچی فرشتہ کا تعلق پٹھان کمیونٹی سے تھا اس لیے پی ٹی ایم یعنی پختون تحفظ موومنٹ کے متعدد رہنما بیان بازی کر نے لگے۔ اُنکے بیانات کا ہدف پاک فوج تھی حالانکہ اس واقعہ سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ یہ معمول کا ایک اندوہناک واقعہ تھا لیکن پی ٹی ایم والوں نے ایک خاص مقصد کے تحت فوج کو بھی اس سارے معاملے میں گھسیٹنے کی کوشش کی جبکہ فوج کے ترجمان ناصرف اس افسوس ناک واقعہ کی پُرزور الفاظ میں مذمت کر چکے تھے بلکہ مظلوم خاندان کو اپنے تعاون کا یقین بھی دلا چکے تھے۔

ایسے میں پی ٹی ایم کی ریاست مخالف سرگرمیاں اس بات کا عندیہ دے رہی ہیں کہ پی ٹی ایم کے پیچھے ضرور کچھ نادیدہ قوتیں موجود ہیں۔ یہ وہ قوتیں ہیں جو پاکستان کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں۔ سی پیک انہیں کھٹکتا ہے اور ریاست پاکستان کی دنیا میں ہر حال میں نفی چاہتی ہیں۔ یہ ہمارا شک نہیں، یقین ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پی ٹی ایم کی فنڈنگ کر رہی ہے تاکہ پی ٹی ایم ریاست پاکستان اور اُس کے دفاع کے سب سے مضبوط ستون فوج کے خلاف کام کر سکے۔ یہ اب حکومت پاکستان اور اسکے متعلقہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھے پی ٹی ایم کن مقاصد کے تحت وجود میں آئی ہے اور اس سے وابستہ افراد کے رابطے کن سے ہیں اور کہاں کہاں جڑے ہوئے ہیں۔ مقامی سطح پر کون لوگ انکی مدد کرتے ہیں؟ کراچی میں ایس پی رائو انوار کے ہاتھوں جب نوجوان نقیب اللہ محسود کا قتل ہوا تو تب بھی پی ٹی ایم نے اس واقعہ کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ناصرف سڑکوں پر آئے بلکہ اسلام آباد میں طویل دھرنا دے کر اسکے ایک خاص حصّے کو معطل کئے رکھا۔ اس دوران جو کچھ ہوتا رہا ، پی ٹی ایم والوں نے کمیونٹی کی بنیاد پر جو نفرتیں پھیلائیں،اُس پر کافی گفتگو کی جا سکتی ہے۔ پی ٹی ایم جو کرتی رہی ، ریاست اور پاک فوج کیخلاف نفرت کے جو بیج بوئے ، وہ حقیقت سب کے سامنے ہے۔ منظور پشین، محسن داوڑ، علی وزیر اور گلالئی اسماعیل جیسے لوگ ایک خاص شیطانی سوچ کے ساتھ ہمارے دشمنوں کے

آلۂ کار بن کر ہماری سلامتی اور یک جہتی کے خلاف جو منظم سازشیں کرتے ہیں اور نفرتوں کا بیج بو کر لسانیت کو ہوا دیتے ہیں اُس پر ایک بڑے آپریشن کی ضرورت ہے۔میں نہیں کہتا کہ ہمارے انٹیلی جنس کے ادارے پی ٹی ایم کی ریاست دشمن سرگرمیوں سے آشنا نہیں ہوں گے یا مکمل آگاہی نہیں رکھتے ہونگے، اُنکے پاس پوری معلومات ہوں گی کہ پی ٹی ایم ریاست پاکستان اور فوج کیخلاف کن مذموم سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے، اُسکے رابطے کن کن سے ہیں؟ تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی دقیقہ فروگزاشت کئے بغیر اُن کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے جو عرصۂ دراز سے جاری ہیں۔ گلالئی اسماعیل، محسن داوڑ، علی وزیر اور منظور پشین کون ہیں؟ اُن کا پس منظر اور پیش منظر کیا ہے؟ اس حوالے سے ہمیں اچھی طرح سے جاننے اور ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں پہلے ہی کچھ کالعدم تنظیمیں درپردہ پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب خیبر پختونخوا میں پی ٹی ایم جیسی تنظیم کا وجود ہمارے لئے الارمنگ ہے۔ ہمیں ایسی تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کے ناصرف مکمل کوائف حاصل کرنا ہونگے بلکہ اُنکی سرے سے بیخ کنی کیلئے بھی کام کرنا ہو گا۔ گزشتہ ہفتے ’’پی ٹی ایم‘‘ نے علی وزیر اور محسن داوڑ کی قیادت میں شمالی وزیرستان کی ایک فوجی چوکی پر جو حملہ کیا اُس سے پی ٹی ایم کی اصلیت مزید کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پی ٹی ایم، پاکستان اور فوج کے حوالے سے کیا مذموم عزائم رکھتی ہے ، یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ علی وزیر کو تو کئی ساتھیوں سمیت فوج نے حراست میں لے لیا ہے جبکہ محسن داوڑ نے راہِ فرار اختیار کر لی ہے۔ پی ٹی ایم کے سرکش رہنمائوں کیخلاف قائم ہونے والے دہشت گردی کے مقدمات کن عدالتوں میں زیر سماعت ہوں گے۔ یہ فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے۔ شاید عام عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات چلنا مشکل ہوں ، اس لئے فوجی عدالتوں کا قیام بہت ہی ضروری ہو گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق محسن داوڑ،علی وزیر اوران کے دیگر چند ساتھیوں کو گرفتار کر کے تحقیقاتی اداروں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ گلالئی اسماعیل تاحال مفرور ہے۔ یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اسی لئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے یہ کہا ہے کہ پاک فو ج نے بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ اللہ تعالی پاکستان کو دشمنوں کے عزائم سے محفوظ رکھے۔آمین۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں