31

کیا موجودہ مسائل معاشی بحران اور خاص طور پر مہنگائی کی موجودگی میں عمران خان کو اپنی مدت پوری کرنے کا حق ہے ؟ ایک خصوصی تحریر پڑھیے اور اپنی رائے بھی دیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) حکومت اور اپوزیشن میں تلخی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ہماری مہذب اپوزیشن جوش رقابت میں حکومت کے اہم ترین حاکموں کے خلاف بدتمیزی کی حدوں کو پار کر رہی ہے ہماری سیاسی تاریخ میں اگرچہ حکومت اور اپوزیشن میں تلخیاں اپنی انتہا کو پہنچتی رہی ہیں لیکن اپوزیشن نے

نامور کالم نگار ظہیر اختر بیدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی اتنی بدتمیزی کا مظاہرہ نہیں کیا جیسا کہ آج دیکھا جا رہا ہے۔اپوزیشن کے رہنما ملک کے وزیر اعظم کو نالائق سمیت کئی القابات سے نواز رہے ہیں اور اہل اخلاق اور اہل دانش اس قسم کی بدتمیزیوں پر منہ میں گھگنیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بد زبانی کرنے کو اسی طرح قبول کرلیا جاتا رہا تو ہمارے قومی اخلاق کا دیوالیہ نکل جائے گا۔پارلے منٹ (معاف کرنا میں نے پارلیمنٹ کو پارلے منٹ کہہ دیا کیونکہ ہمارے ایک کرانکت (یعنی سینئر ترین سیاسی رہنما دانستگی یا نادانستگی میں ہمیشہ پارلیمنٹ کو پارلے منٹ کہتے رہتے ہیں) بہرحال گزارش یہ ہے کہ حکومت پر تنقید کرنا اپوزیشن کی روایت ہے لیکن ملک کے وزیر اعظم کی خواہ اس کا تعلق کسی جماعت سے ہو ایک اہمیت اور عزت ہوتی ہے اگر ’’پارلے منٹ‘‘ کے شرفا اس حد تک کو کراس کرجائیں تو وہ پارلیمنٹ کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ کیا جوش جہالت میں ہمارے معزز رکن وزیر اعظم کے خلاف بدزبانی سے پرہیز کریں گے۔پاکستان کی جمہوری تاریخ میں یہ تک ہوتا رہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو اٹھا کر باہر پھینکا گیا لیکن یہ نصف صدی پہلے کی بات ہے۔ ایک پارلیمنٹیرین کے اخلاق حمیدہ کافی بلند ہوگئے ہیں لیکن جن ملکوں میں اب تک قبائلی اور جاگیردارانہ کلچر باقی ہے وہاں زبان و بیان پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ ہماری اشرافیہ خواہ وہ زمینی ہو یا صنعتی اپنے کردار میں قبائلی اور وڈیرہ شاہی اخلاق کی پیرو کار ہے حالانکہ اب ہماری جمہوریت 71 سالہ زندگی میں داخل ہو رہی ہے

اب اس میں نظریاتی اور اخلاقی پختگی آ جانی چاہیے تھی لیکن اس بدقسمتی کو کیا کہیں کہ ہماری اخلاقیات گلی محلے کے ’’نوجوانوں‘‘ کی اخلاقیات بن گئی ہے۔اس حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ اقتدار کو اپنی جاگیر سمجھنے والی اشرافیہ کے ہاتھوں سے اختیار و اقتدار پھسل رہا ہے ایک تو اشرافیہ اقتدارکے چھن جانے سے ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی ہے، دوسرا بڑا خطرہ اسے یہ درپیش ہے کہ اس کے خلاف اربوں روپوں کی کرپشن کے کئی کئی ریفرنسز عدالتوں میں دائر ہیں جن سے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، اس مایوسی کا علاج اشرافیہ نے یہ تلاش کیا ہے کہ حکومت کو چلنے ہی نہیں دیا جائے۔ہر روز پارلیمنٹ جیسے مہذب ادارے کو مچھلی بازار بنایا جا رہا ہے اور اپوزیشن کا ہر للو پنجو اٹھتے بیٹھتے وزیر اعظم کے خلاف بے ہودہ زبان استعمال کر رہا ہے اور حکومت کوگرانے کی بات ایسے کر رہا ہے جیسے ناجائز عمارتوں کوگرانے کی بات بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کرتی ہے حکومت 22 کروڑ عوام کی نمایندہ جماعت ہوتی ہے اسے گرانے کا مطلب جمہوری نظام کو گرانا ہوتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اپوزیشن حکومت کی کوتاہیوں پر جائز تنقید کرنے کی بجائے ’’ڈیمالیشن اسکواڈ‘‘ کا کردار ادا کر رہی ہے جو نہ صرف اخلاقی حوالے سے بہت گری ہوئی حرکت ہے بلکہ جمہوری قدروں کے بھی منافی ہے۔71 سالوں میں جمہوریت کے نام پر جو اشرافیائی حکومتیں برسر اقتدار آتی رہیں انھوں نے عوام کو اس قدر مایوس کردیا ہے کہ اب وہ کسی حکومت سے کوئی ہمدردی

یا تعلق رکھنے کے لیے آمادہ نہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بری حکومتوں کے ساتھ ساتھ اچھی کارکردگی رکھنے والی حکومتیں بھی عوام کی حمایت سے محروم ہوگئیں۔یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کا نتیجہ بہت مایوس کن ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن جس حد تک حالات کے نرغے میں آگئی ہے ان حالات نے اسے مایوسی کے اندھیرے میں دھکیل دیا ہے اور جو بدتمیزیاں عوام دیکھ رہے ہیں وہ اسی مایوسی کا نتیجہ ہیں۔ہمارا ملک جس اشرافیائی طبقے کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔ اس چنگل سے نکلنے کے امکانات پیدا ہورہے ہیں جس کے خوف سے اشرافیہ کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں اور وہ اپنے بچاؤ کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کے لیے تیار نظر آرہی ہے۔ دوسرے ملکوں میں بھی اپوزیشن ہوتی ہے لیکن وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں ملکی سالمیت اور قوم کی حرمت کو نظرانداز نہیں کرتی۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں حصول اقتدار کے لیے ہر بدتر سے بدتر قدم اٹھانے کو جائز سمجھا جاتا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ جمہوریت کا سربلند رکھنے کی باتیں بھی ہوتی ہیں۔مسئلہ حکومت کی حمایت کا ہے نہ اپوزیشن کی حمایت کا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک مڈل کلاس کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے اور وہ عوام کی وقتی پریشانیوں کو برداشت کرکے عوام اور ملک کے بہتر مستقبل کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ نااہل اورکرپٹ حکومتوں کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے مواقع ملتے رہے ہیں تو ایک ملک و قوم کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے والی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کیوں نہیں دیا جا رہا ہے؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر موجودہ حکومت کو دو تین سال حکومت کرنے کا موقع مل گیا تو اشرافیہ کا مستقبل تاریک ہوجائے گا؟(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں