23

ایک ایسا شخص بھی پاکستان کا اعلیٰ سرکاری افسر تھا ۔۔۔۔۔ایک درویش صفت بیورو کریٹ کے حالات زندگی و سفر آخرت

لاہور (ویب ڈیسک) ہسپتال سے واپس آتے ہی دوبارہ ڈرائیور کا انتظار کئے بغیر میرے بیٹے پروفیسر ڈاکٹر محمد راشد سراج نے خود جس تیزی سے گاڑی چلائی اس سے یہ اندازہ تو ہو گیا تھا کہ ایمرجنسی بہت ہی شدید نوعیت کی مگر اس کی ساری پروفیشنل زندگی میں اس طرح کی ایمرجنسی کا مشاہدہ نہیں کیا تھا

نامور کالم نگار ڈاکٹر اے آر خالد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو ایمرجنسی میں بھی سکون و طمانیت اللہ کے ذکر میں تلاش کر لیتا ہے۔ میں نے فوراً فون کیا کہنے لگا عباس ارسلان کے ابو کی طبیعت خراب ہے اس کی طرف جا رہا ہوں۔ میں نے کہا آرام سے گاڑی چلانا۔ پھر اس کا چند منٹ بعد فون آ گیا کہ انکل بہتر ہیں۔ خطرہ ٹل گیا ہے۔ پرسکون ہیں، تھوڑا ہوش سے بے گانہ ہوئے اب ٹھیک ہیں میں انشاء اللہ جلد گھر آ رہا ہوں۔ اس کی پریشانی کی وجہ سمجھ آ گئی عباس ارسلان معروف بیورو کریٹ سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ مہر جیون خاں کا چھوٹا بیٹا ہے۔ راشد کے ساتھ کلاس ون سے ہے اور اس کی کلاس کے محمد رضا سیکرٹری (ایف بی آر) کنسلٹنٹ ڈاکٹر عثمان بشیر، ڈاکٹر عبدالرئوف اور عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی اعصام الحق کریسنٹ سکول کی کلاس ون ڈی سے دوست ہیں۔ یک جان اور کئی قالب۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں ہمہ وقت شریک۔ ان میں سے ہر ایک کی ہر ترجیح اس دوستی کی ترجیح کو پیچھے نہیں کر سکی۔ سگے بھائیوں کا سا پیار ہے بے لوث محبت ، بے پناہ خلوص بے پناہ اپنائیت اور بے لوث، راشد گھر آ کر بھی اس کیفیت سے نہیں نکلا تھا۔ یہ سارے نوجوان مجھے اور میرے اہل خانہ کو اپنے بچوں کی طرح عزیز ہیں اور بھی اس کے دوست ہیں مگر یہ تو عجیب محبتیں رکھتے ہیں۔ میں نے عباس ارسلان کو فون کیا۔

اس کے ابو کا حال پوچھا وہ راشد کے ساتھ بے تکلفی اور بے لوث تعلق کے باوجود آج اظہار تشکر میں کچھ زیادہ ہی فارمل ہو رہا تھا یہ اس کی اپنے باپ کے ساتھ محبت تھی یا اپنے دوست کے سوچ سے بھی پہلے وہاں پہنچنے کا عمل۔ مطمئن تھا کہ طبیعت سنبھل گئی میرا بھی شکر گزار تھا کہ میں نے دلجوئی کے لیے فون کیا۔ بتانے لگا ابو آرام کر رہے ہیں راشد کے بعد ایک دو اور ڈاکٹر آ گئے اور انہوں نے بھی راشد کے مشورہ کی کہ انہیں آرام کرنے دیا جائے تائید کی۔ افطاری سے پہلے عباس ارسلان کو فون کیا تو اس نے اٹینڈ نہ کیا مغرب کے بعد عشا اور پھر تراویح پڑھ کر میں گھر آیا تو راشد لان میں ٹہل رہا تھا کہنے لگا عباس ارسلان کی طرف چلنا ہے میں نے پوچھا اس کے ابو کی طبیعت ہے کہنے لگا وہ تو انتقال کر گئے۔عصر سے پہلے اٹھے تو گھر والوں کو ناراض ہوئے کہ انہیں جگایا کیوں نہیں ، جلدی سے وضو کیا نماز کی نیت باندھی اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ رمضان المبارک کا مہینہ روزے دار نماز کی حالت میں ہو اور اس کی روح پرواز کر جائے ۔ ایسی موت واقعی کسی مقدر والے کو آتی ہے۔رات بیٹے کے ساتھ تراویح پڑھ کر آئے۔ سحری کھا کر روزہ رکھا۔ فجر پڑھی سارے کام معمول کے مطابق کئے ۔ ابھی ہم راستے میں ہی تھے کہ میری بیگم کا فون آ گیا وہ بھی اس وقت عباس ارسلان کے گھر جانا چاہتی تھیں

واپس آ کر ان کوساتھ لیکر جب مہر جیون خاں کے گھر پہنچے تو مجھے ان کے ساتھ وہ ساری ملاقاتیںیاد آ گئیں جو کسی پیشہ وارانہ فرض کی ادائیگی کے لیے تھیں نہ انہوں نے کبھی یہ ظاہر کیا کہ وہ میرے بیٹے کو جانتے ہیں نہ میں نے کبھی بتایا کہ ہمارے بچوں کی دوستی مثالی ہے۔ ایکبار روزنامہ جنگ کی طرف سے میں نے کسی مذاکرہ کا انتظام کیا یہ پنجاب کے سیکرٹری خوراک کے طور پر شامل تھے۔ وزیر خوراک سے بھی میری زیادہ دوستی تھی یہ پورے وقار سے گفتگو کرتے رہے نہ سوچا کہ یہ کسی کی ناراضی کا باعث بنے گی نہ یہ کہ کہیں وزیر برا نہ منا جائے۔ سچ کہا سچ سنا اور اگر کہیں سچ میں ملاوٹ دیکھی تو ملاوٹ کو دخل در معقولات کر کے شفاف کر دیا۔ ان کے ساتھ دوسری کبھی نہ بھولنے والی وہ ملاقات تھی جب یہ پنجاب پبلک سروس کمشن کے قائمقام چیئرمین کے طور پر کام کررہے تھے۔ میں نے ایک اوبجیکٹو پرچہ تیار کیا جس کا طریقہ کار یہ تھا کہ ایک سو سوال تیار کر کے پہلے متعلقہ ممبران کے پینل کے ساتھ ایک ایک سوال پر بحث مباحثہ اور پھر پینل کے ممبروں، کنٹرولر امتحانات اور پیپر سیٹ کرنے والے کا گروپ کی شکل میں چیئرمین سے اسی طرح ایک ایک سوال پر سوچ بچار کر کے سوال کو فائنل کرنا۔ اس وقت میرے ساتھ پینل میں میجر جنرل اشرف اور چودھری ریاض بطور ممبر پبلک سروس کمشن تھے اور امتحانات کے کنٹرولر مسٹر خالد تھے۔

جب ہم مہر جیون خاں کے کمرے میں داخل ہوئے وہ فون پر کسی کو ڈانٹ رہے تھے۔ چہرہ غصہ سے سرخ آواز میں گھن گرج اور الفاظ انگریزی زبان میں تلفظ کی ادائیگی کے ساتھ جس طرح ادا ہو رہے تھے اس پر جب یہ سنا کہ خدا کا شکر کرو تم نے پہلے میرے ساتھ کہیں کام نہیں کیا تو میں نے جنرل اشرف سے پوچھا کہ پی اے کو ڈانٹ رہے ہیں کہنے لگے نہیں کمشن کے سیکرٹری کی کھچائی ہو رہی ہے جو خود گریڈ بیس کا افسر ہے۔ فون ختم ہوا تو نہ ہمیں اپنے غصہ کی وجہ بتائی نہ سیکرٹری کو مزید برا بھلا کہا۔ نہ ہی مصنوعی مسکراہٹ سے ہمارا استقبال کیا۔ نہ کسی قسم کی معذرت نہ وضاحت بس پیپر پکڑا اور کام شروع کر دیا بالکل نارمل انداز میں، ایک سوال اور ان کے چار چار جوابات پر جوابات کی ترتیب تک کو پورے غور و خوض سے پڑھتے جہاں کسی قسم کے تحفظات محسوس کرتے کھل کر بات کرتے فراخدلی سے پینل کے ساتھیوں کی بات سنتے نہ کہیں انا نہ کہیں ضد نہ احساس برتری نہ ٹیلی فون کے غصہ کے مابعد اثرات بعض سوالات کے بارے میں رویہ ایسا جیسے پہلی بار کوئی چیز سامنے آ کر علم اوراطلاع میں اضافہ کرے۔ سوالات کی تعریف میں فراخدلی اور زیادہ مشکل سوالات کو ذرا آسان کرنے کے مشورہ کے ساتھ انداز ایسا کہ جیسے امتحان دینے والوں کی طرفداری کر رہے ہوں۔ دونوں ممبران سے میرے کافی اچھے مراسم تھے جن کی ان کو اطلاع نہیں تھی مگر پرچے کے معیار کو دیکھ کر کہنے لگے آپ تینوںمیں کافی انڈر سٹینڈنگ لگتی ہے۔ خوب محنت کی ہے مجھے تو اب اپنے شامل ہو کر اسے دوبارہ دیکھنے کی صرف فارمیلٹی لگتی ہے مگر اس فارمیلٹی میں میں نے کافی سیکھا۔ شکریہ ادا کیا ہاتھ ملایا اور رخصت ایسے کیا جیسے اگلی پیشہ وارانہ مصروفیت کا وقت ہو گیا تھا۔ مہر جیون خاں ایک بھلا بیورو کریٹ جس بھلے انداز سے اس دنیا سے رخصت ہوا وہ اس کی دنیا میں صاف ستھری، پاکیزہ زندگی گزارنے ، اصولوں کو اپنانے اور رزق حلال کمانے ، کھانے اور بچوں کو کھلانے کے ساتھ ساتھ اللہ کی رحمتیں سمیٹ کر اس جہان سے جانے کا معتبر حوالہ بن گیا۔ یہ موت ایک درویش صفت کی موت ہے۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا ۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں