20

تشدد والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے مگر ۔۔۔۔۔۔ نامور صحافی عارف نظامی نے پاک فوج کو شاندار مشورہ دے دیا

لاہور (ویب ڈیسک) شمالی وزیرستان کے علاقے بویہ کی خارکمرچیک پوسٹ پر حملہ ہر لحاظ سے انتہائی افسوسناک واقعہ ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی یہ ٹویٹ کہ وزیرستان میں امن کے قیام کی دہائیوں پر مشتمل جد وجہد کے ثمرات کو ضائع کرنے اور بہادر قبائلیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں

نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جانے دینگے، مبنی برحقائق ہے ۔اس افسوسناک واقعہ میں پختون تحفظ محاذ جس کا چند سال پہلے تک کسی نے نام بھی نہیں سنا تھا کے تین کارکن ہلاک اور دس زخمی ہو ئے جبکہ اس جھڑپ میں پانچ فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے لیکن اس واقعے پر اپوزیشن بیک زبان ہے کہ اس کی بے لاگ تحقیقات ہونی چاہیے۔لیڈر آف اپوزیشن میاں شہباز شریف کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے پا رلیمانی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔پیپلزپا رٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے درست کہا کہ بقول ان کے پرامن اور سیاسی لوگوں کے خلاف ظلم نہیں ہونا چاہیے ۔ اس ضمن میں انہوں نے بلوچستان میں پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں کا بھی ذکر کیا ۔ غالبا ً ان کا اشارہ نواب اکبر بگٹی کو ایک آپریشن کے ذریعے ہلاک کر نے کے واقعے کی طرف تھا جسے محض ایک حا دثاتی موت قرار دیا گیا ۔ اکبر بگٹی بنیادی طور پر میانہ رو سیاستدان تھے جنہوں نے بعدازاں سیاسی طور پر انتہا پسندانہ اور علیحد گی پسند رویوں کو اپنا لیا تھا لیکن ان کی موت کا نتیجہ بلو چ علیحد گی پسند وں جن میں سے بعض دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں بھی کھیل رہے ہیں کی تخر یبی کا رروائیوں کی صورت میں ملا ۔ اگر پختون تحفظ محاذ نے پا رلیمنٹ میں نمائندگی ہونے کے باوجود بندوقیں اٹھالی ہیں تو یہ انتہائی تشویشناک ہے ۔چیک پوسٹ پر حملہ کرنے کا مطلب یہ لیاجا سکتا ہے کہ

پختون تحفظ محاذ نے اپنی ہی فوج کے خلا ف مسلح جد وجہد کا آغاز کردیا ہے ۔ واضح رہے کہ ابھی چند روز قبل ہی ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس کانفرنس میں پی ٹی ایم کے ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو بھا رتی ایجنٹ قرار دیا تھا ، چونکہ بقول ڈی جی آئی ایس پی آر علی وزیر کو چیک پوسٹ حملہ کے دوران گرفتار کر لیا گیا جبکہ محسن داوڑ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا لہٰذا یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ اس واقعہ کے محرکات قوم کے سامنے رکھے جا ئیں ۔ بلاول بھٹو جو سیاست میں نسبتا ً نوآموز ہونے کے با وجو د تاریخی حوالے سے درست باتیں کرتے ہیں کی اس رائے سے اختلا ف نہیں کیا جا سکتاکہ سیاسی عناصر کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کو حل کیا جانا چاہیے بشرطیکہ وہ سیاسی ہوں ۔ واقعی پاکستان کی تاریخ اتنی قابل رشک نہیں ہے ۔ محض غدار قرار دینے سے پیچید ہ سیاسی مسائل حل نہیں ہو پاتے۔ ہمارے انہی رویوں کی بنا پر1971ء میں وطن عزیز دولخت ہو گیا تھا۔ آمر مطلق ایوب خان نے 1968ء میں عوامی لیگ کے سربراہ مجیب الرحمن کے خلاف’’اگرتلہ سازش‘‘ کے الزام میں غداری کا مقدمہ قا ئم کیا اور تحقیقا تی ٹربیونل بنایا ۔ شیخ مجیب الرحمن پرالزام تھا کہ انہوں نے بھا رتی شہر اگرتلہ میں بھارتی فوجی افسروں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف شورش برپا کرنے کی سازش تیار کی ۔ اسی سازش کے شاخسا نے کے طور پر اس وقت 1500بنگالیوں کو گرفتار کیا گیا ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ

اس سہ رکنی ٹربیونل کا سربراہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے جسٹس ایس اے رحمان کو لگایا گیا۔بد قسمتی سے بنگالی عوام کی مشرقی پاکستان میں صوبائی خود مختاری حا صل کرنے کی کوششو ں کو غداری قرار دینا انہیںڈس کریڈٹ کرنے کے مترادف تھا ۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ اگر تلہ سازش کیس کے خلا ف عوامی رد عمل کے نتیجے میں یہ کیس ختم کرنا پڑا۔ اگرتلہ سازش میں کو ئی حقیقت تھی یا نہیں لیکن ڈھاکہ کے پلٹن میدان میںشیخ مجیب کو’ بنگلہ بند ھو ‘کا خطاب دیا گیا۔ بعدازاں گول میز کانفرنس میں مجیب الر حمن نے اپنے 6نکا ت پیش کیے تھے جنہیں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیادی دستاویز قرار دیا جا سکتا ہے ۔ 1971ء میں جنرل یحییٰ خان کے ملٹری ایکشن جسے ذوالفقار علی بھٹو کی مدد حاصل تھی۔ عام انتخابات میں جس میں شیخ مجیب الرحمن کو اکثریت حاصل ہوئی مینڈیٹ کوتسلیم نہ کرنے سے نہ صرف بنگلہ دیش بن گیا بلکہ پاکستان کو اپنی تاریخ کی بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا۔لیکن آدھا ملک کھونے کے با وجود ہم نے اس سے سبق نہیں سیکھااور سقوط ڈھاکہ کے دوسال بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بلوچستان اور صوبہ سرحد کی حکومتوںکو برطرف کرتے ہوئے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے خلا ف فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا ۔ بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد اکبر بگٹی کو گورنر بنا دیا گیا۔ پاکستان کے رقبے کے لحا ظ سے سب سے بڑے صوبے میں اس ملٹری ایکشن کے محرکات سے

ہم آج بھی نبردآزما ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ستم ظریفی ہے 1975ء میں حیدرآباد ٹربیونل قائم کیا گیا جس کا مقصد پاکستان کے خلاف غداری اورنظریہ پاکستان کے خلاف کام کرنے کے حوالے سے مقدمہ چلاناتھا ۔ حیدرآباد جیل میں نیشنل عوامی پارٹی کے عبد الولی خان کے علاوہ بلوچ رہنما نواب خیر بخش مر ی،غوث بخش بزنجو اور عطاء اللہ مینگل بھی شامل تھے ۔ اسی الزام میں حبیب جا لب اور نجم سیٹھی کو بھی پابند سلاسل کیا گیا تھا ۔ بالآخر جنر ل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت پر شب خون مارا ،انھوں نے حیدرآباد ٹربیونل ختم کرکے ان نام نہاد سازشیوں کو رہائی دی۔لیکن بلاول بھٹو کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ 1971ء کے فوجی ایکشن، بلوچستان میں مہم جوئی اور حیدرآباد ٹربیونل کیس میں ان کے نانا جان ذوالفقار علی بھٹو کا کلید ی کردار تھا ۔ یہ الگ بات ہے کہ ذوالفقا رعلی بھٹو نے جنر ل ضیاء الحق کے سامنے سرنہیں جھکایا بلکہ پھانسی کے پھند ے کوچو م لیا ۔ یقیناًآ ج ایسی کو ئی صورتحال نہیں ہے، وزیرستان اور باقی علاقوں میں پاک فوج اور عوام نے قربانیاں دے کر تحریک طالبان کے دہشت گردوں سے ملک کو چھٹکارا دلایا ہے لیکن ایک بنیا دی فرق ہے کہ پی ٹی ایم کے لو گ پاکستان میں غیر ملکی نہیں لہٰذا ان کے خلا ف جو بھی کا رروائی ہوملکی قانون کے تحت ہو نی چاہیے۔ پا رلیمانی تحقیقا ت کا مطالبہ بھی صائب ہے لیکن اس ضمن میں طاقت کے بجا ئے ڈائیلاگ کا راستہ ہی احتیار کرنا چاہیے۔ جہاں تک پی ٹی ایم کے ان عنا صر کا تعلق ہے جو تشدد کے مرتکب ہوئے ہیں تو انھیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے قانون کو حرکت میں لانا چاہیے کیونکہ تشدد چاہے ریاستی ہو یا سیاسی ایک جمہوری معاشرے میں اس کی گنجائش نہیں۔ (ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں