50

بھارتی الیکشن میں مودی کی جیت : مگر اب پاک بھارت تعلقات کا مستقبل کیا ہے ؟ صف اول کے پاکستانی صحافی نے پیشگوئی کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) بھارت کی 17 ویں لوک سبھا کی 542 نشستوں کے لیے 11اپریل تا 19 مئی کُل سات مرحلوں میں انتخابات منعقد ہوئے اور ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو عمل میں آئی۔ بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹرز کا ٹرن آئوٹ 67.11 فیصد رہا جو آج تک منعقدہ انتخابات میں سب سے زیادہ تھا۔

نامور کالم نگار شاہد رشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ٹرن آئوٹ 2014 ء کے عام انتخابات کی نسبت 1.16 فی صد زیادہ رہا جب 65.95 فیصد بھارتیوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ان انتخابات میں بھارتی خواتین نے بھی ریکارڈ تعداد میں مرد ووٹرز کے برابر اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔یہ انتخابات بنیادی طور پر دو بڑے اتحادوں کے درمیان لڑے گئے۔ ایک اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) تھا جس کی قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کر رہی تھی جبکہ دوسرا یونائیٹڈ پروگریسو الائنس (UPA) تھا جس کی قیادت انڈین نیشنل کانگریس کر رہی تھی۔ بھارت میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے راج سنگھاسن پر براجمان ہونے کی خاطر اسے لوک سبھا کی 272 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ حالیہ انتخابات میں بی جے پی کے اتحاد نے 351 جبکہ کانگریس کے اتحاد نے محض 100 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ حقیقت پسند تجزیہ نگار لوک سبھا کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے متعلق بڑے وثوق سے پیشگوئیاں کر چکے تھے مگر افسانوں اور انہونی پر یقین رکھنے والے نریندرا مودی کی شکست کے منتظر تھے ۔ دیکھا جائے تو اب نریندرا مودی کو حکومت سازی کے لیے اپنے اتحادیوں کے سہارے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ انتخابات میں کانگریس کی بدترین کارکردگی کے باعث اب وہ سرکاری طور پر تسلیم شدہ اپوزیشن پارٹی بھی نہیں رہی کیونکہ اس منصب کے لیے لوک سبھا کی کل نشستوں کے دس فیصد یعنی 55 نشستوں پر کامیابی لازم ہے

مگر کانگریس صرف 51 نشستیں حاصل کر پائی۔ چنانچہ نظری طور پر یہ کہنا درست ہو گا کہ بھارتی لوک سبھا حزب اختلاف کے بغیر ہی کام کرے گی۔واضح رہے کہ حالیہ انتخابات میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے 900 ملین بھارتی شہری انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے جن میں 468 ملین مرد‘ 432 ملین خواتین جبکہ 38,325 ووٹرز تیسری جنس سے تعلق رکھتے تھے۔ 2014ء کے انتخابات کی نسبت ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل افراد کی تعداد میں 84.3 ملین کا اضافہ ہوا۔ بھارتی الیکشن کمیشن نے پورے بھارت میں 1,035,918پولنگ سٹیشنز پر 3.96 ملین الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیں۔ مزید برآں انتخابات کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کی خاطر تقریباً 270,000 پیرا ملٹری اور 2 ملین ریاستی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2014ء کے عام انتخابات کی طرح اس بار بھی پاکستان اور مسلم دشمنی کے ایجنڈے کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی مگر بظاہر ان کا نعرہ ’’سب کا ساتھ… سب کا وکاس‘‘ تھا لیکن نریندرا مودی کی کامیابی کا اصل کریڈٹ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کو جاتا ہے جو نوشتۂ دیوار پڑھنے سے قاصر رہی۔اگر یہ کہا جائے کہ اپنی تنگ نظری اور گھمنڈ کے باعث یہ جماعت انتہا پسند نریندرا مودی کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے جرم کی مرتکب ہوئی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ یہاں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ نریندرا مودی کا دور اقتدار متعدد محاذوں پر شدید ناکامیوں مثلاً معاشی محاذ پر ناقص کارکردگی‘

بدانتظامی یا گڈ گورنننس کا فقدان‘ بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کے خلاف کھلی جنگ اور کسانوں کو درپیش شدید مالی مشکلات سے عبارت رہا مگر ان ناکامیوں کو انتخابی ایشو بنانے کی بجائے کانگریس کا زیادہ وقت رافیل طیاروں کی خریداری کے مبینہ سکینڈل کے تناظر میں نریندرا مودی کو ’’چوکیدار چور ہے‘‘ قرار دینے اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے انتخابی محاذ آرائی میں گزرا جسے عوام میں پذیرائی نہ مل سکی۔ دوسری طرف بی جے پی نے نہ صرف اپنے پرانے اتحادیوں کو گلے لگائے رکھا بلکہ ہر ریاست میں نئے اتحادی تلاش کرنے اور انہیں اپنا دست و بازو بنانے پر بھرپور توجہ دی۔ اس کے برعکس کانگریس اپنی ہٹ دھرمی اور رجعت پسندانہ سوچ کے باعث اپنی ہم خیال جماعتوں مثلاً بہوجن سماج وادی پارٹی‘ سماج وادی پارٹی‘ تری نامول کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو بھی اپنے ساتھ ملانے سے قاصر رہی حالانکہ یہ سب جماعتیں بی جے پی اور نریندرا مودی سے جان چھڑانے کے یک نکاتی ایجنڈے پر متفق تھیں۔بی جے پی نے ان انتخابات کو ایک فوجی تنظیم کی مانند لڑا اور راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ کی سینکڑوں ذیلی تنظیموں اور ان کے سخت جان اور بے لوث کارکنوں نے ان انتخابات میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ اپنی انتخابی مہم میں بی جے پی نے بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف انتہائی نفرت انگیز زبان استعمال کی‘ اس کے خلاف جنگی جنون کو ہوا دی اور اتنے متاثر کن انداز میں جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈہ کیا کہ جس پر نازی جرمنی کا بدنام زمانہ دروغ گو لیڈر گوئبلز بھی فخر محسوس کرتا ہو گا۔

بی جے پی کے امیدواروں نے بھارتی مسلمانوں کو کھلم کھلا پاکستان کا وفادار قرار دے کر ان سے ووٹ مانگنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔ نریندرا مودی اور اس کے ساتھیوں نے پلوامہ واقعہ بلکہ ڈرامہ کے بعد پاکستان کے اندر نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس کو اس انداز سے ذرائع ابلاغ میں اجاگر کیا کہ عام ہندو ووٹر سمجھنے لگ گیا کہ پاکستان کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے پاس نریندرا مودی سے بہتر کوئی آپشن نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ اور مودی کے گجراتی ساتھی امیت شاہ نے بڑے منظم انداز میں اپنی پارٹی کو لوک سبھا کے ان انتخابات میں اتارا اور بھارتی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے 20 ہزار واٹس ایپ گروپس‘ محلہ کمیٹیوں نیز مندروں‘ اکھاڑوں اور سکولوں کے نیٹ ورک کو استعمال کیا جس کے نتیجہ میں نہ صرف مخالف جماعتوں کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ 542 اراکین پر مشتمل لوک سبھا میں صرف 27 مسلمان منتخب ہو سکے جن میں دو خواتین بھی ہیں۔ ان میں دبنگ مسلمان رہنما اسد الدین اویسی بھی شامل ہیں جن کا تعلق ’’آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین‘‘ سے ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی حکومت کے مطابق کل آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 20 کروڑ یعنی لگ بھگ 14 فیصد ہے جبکہ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ بھارتی حکومت حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے اور مسلمانوں کی تعداد اصل سے کہیں کم دکھا رہے ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 35 کروڑ ہے

اور اگر ان کے ساتھ یہی ظالمانہ اور امتیازی سلوک روا رکھا گیا تو مستقبل میں یہ مسلمان بھارت کے اندر ایک اور پاکستان بنانے کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے جس نے آج تک ہماری آزادی کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ دشمن سے خیر کی توقع حماقت ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی جو ہندو توا کی علم بردار ہے‘ اس سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی امیدیں وابستہ کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ 2014ء کے انتخابات پاکستان دشمنی کی بنیاد پر جیتنے والے نریندرا مودی نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیے رکھا‘ وہ اظہر من الشمس ہے اور اس کے تناظر میں ہم مستقبل کے حالات کا کافی حد تک درست اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اگرچہ بھارتی مظالم کی بازگشت اب اقوام متحدہ‘ یورپی و برطانوی پارلیمنٹس اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں میں سنائی دینے لگی ہے مگر امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی کے باعث بھارت اسے کوئی اہمیت دینے پر قطعاً تیار نہیں ہے بلکہ کشمیر میں استصواب رائے سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بے اثر بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور وہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب کم کرنے کے لیے باہر سے ہندو پنڈتوں اور سابق بھارتی فوجیوں کو بسانے کا منصوبہ بنا چکا ہے۔اگرچہ ہندوتوا کا فلسفہ صدیوں سے موجود ہے مگر دور حاضر میں بی جے پی اس کی سب سے بڑی علم بردار جماعت بن کر ابھری ہے۔

2014ء اور 2019ء کے بھارتی عام انتخابات میں جس طرح اس فلسفے کو بروئے کار لایا گیا ہے‘ اس نے بالواسطہ دو قومی نظریے کو بھرپور طریقے سے اجاگر کر دیا ہے۔ اہل فہم و فراست بالخصوص نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سابق چیئرمین محترم مجید نظامی مرحوم پاکستانی قوم کو مسلسل باور کراتے رہے کہ دو قومی نظریہ ہی پاکستان کی غایتِ وجود ہے اور اس سے مضبوطی کے ساتھ جڑے رہنا ہی ہماری بقاء کا ضامن ہے مگر خود پاکستان کے اندر کچھ مخصوص حلقے اسے شدت پسندی سے تعبیر کرتے رہے تاہم آج ساری دنیا ان باتوں کی حقیقت تسلیم کر رہی ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان بنانے کا جو مطالبہ کیا تھا‘ وہ مبنی پر حقیقت تھا۔ واقعی مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتیں۔حالیہ انتخابات میں نریندرا مودی اب خود کو پہلے سے کہیں زیادہ طاقت ور محسوس کریں گے اور اپنا انتہا پسندانہ مسلم دشمن پالیسیوں کو مزید جوش و جذبے سے آگے بڑھائیں گے۔ پاکستان کے حوالے سے ان کا رویہ مزید جنگجویانہ ہو جائے گا‘ بھارتی مسلمانوں پر عرصۂ حیات مزید تنگ کریں گے اور لامحالہ جنوب مشرقی ایشیاء کے ان دو ممالک کو ایٹمی تصادم کے کنارے لا کھڑا کریں گے۔ ایسا ہوا تو یہ اس کرۂ ارضی کی بڑی بدقسمتی ہو گی اور اس تصادم کے مہلک اثرات سے سات سمندر پار کے وہ ممالک بھی محفوظ نہ رہ سکیں گے جو آج بھارت کی پاکستان اور مسلمان دشمن پالیسیوں سے مجرمانہ چشم پوشی کر رہے ہیں۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں