5,142

کون سی دوستی کہاں کی دوستی ۔۔۔۔ کشمیر کی صورت حال پر چین بھی میدان میں آ گیا ، پاکستان کے ہوش اڑا دینے والا اعلان کر دیا گیا

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ، چین نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی پر پاکستان اور انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات حل کریں۔چین کی

دفتر خارجہ کی ترجمان ہووا چن ینگ کی پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے سوال پوچھا کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین ایل او سی پر کشیدہ صورتحال ہے جس کے باعث خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں، انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں مزید فوج بھیج دی ہے اور کشمیرکی خصوصی حیثیت بھی ختم کردی ہے، اس پر چین کا موقف کیا ہے؟۔چین کی دفتر خارجہ کی ترجمان ہووا چن ینگ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ چین کو جموں و کشمیر کی صورتحال پر سخت تشویش ہے، کشمیر کے مسئلے پر چین کی پوزیشن واضح اور دوٹوک ہے۔ اس پر عالمی اتفاق رائے بھی موجود ہے کہ کشمیر پاکستان اور چین کے مابین متنازعہ علاقہ ہے۔ دونوں ملکوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی بھی کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس کے باعث حالات میں مزید کشیدگی پیدا ہو۔ ہم پاکستان اور انڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور خطے میں امن و امان کو یقینی بنائیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی ثنا مفتی نے اپنا آڈیو پیغام جاری کردیا جس میں انہوں نے مقبوضہ وادی کے کشیدہ حالات سے آگاہ کیا۔سابق وزیراعلیٰ کی صاحبزادی نے اپنی دوست کو آڈیو پیغام بھیجا جس میں انہوں نے بتایا کہ وادی کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور یہاں خوف کا ماحول ہے جبکہ

کشمیریوں کے ساتھ بھارتی فوج جانوروں جیسا برتاؤ کررہی ہے۔ثنا مفتی کا کہنا تھا کہ ’’آرٹیکل 370 ختم ہونے کے بعد کشمیریوں میں اشتعال پایا جارہاہ ے، البتہ انہیں اپنے جذبات کے اظہار کی اجازت نہیں، میری والدہ کو بھی بلاجواز حراست میں لے لیا گیا، اُن پر تو سخت نظر بندی تھی اب انہیں کسی سے بھی ملنے کی اجازت نہیں ہے‘‘۔سابق وزیر اعلیٰ کی صاحبزادی نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں ٹیلی فون سروس بند کر کے بھارتی قیادت کشمیریوں کے حوصلے پست کرنا چاہتی ہے، اگر آرٹیکل 370 ختم کرنا اچھا اقدام ہے تو بھارت نے کشمیریوں سے بولنے کا حق کیوں چھین لیا۔انہوں نے کہا کہ ’’آپ کو اکھنڈ بھارت پر بڑا غرور ہے کیا یہی وہ بھارت ہے جہاں عوام کے حقوق چھینے کے بعد جشن منایا جارہا ہے۔ ثنا مفتی کا کہنا تھا کہ بھارت آخر کب تک کشمیریوں کو گھروں میں بند رکھے گا، یہ آوازیں کب تک دبائے گا، جلد ہی اُسے منہ کی کھانی پڑے گی‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں