1,172

پاکستان پر 5ارب97کروڑ جرمانہ،ٹی ٹی سی کمپنی کی کیس جیتنے کے باوجود پاکستان کو بڑی پیشکش،پاکستان کا خیر مقدم،پیشکش قبول کرلی

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے ریکوڈک کیس میں کمیشن بنانے کی ہدایت کردی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ریکوڈک کیس میں پاکستان کو جرمانے کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے کمیشن بنانے کی ہدایت کی ہے، کمیشن تحقیقات کرے گا یہ صورتحال کیسے

پیدا ہوئی اور پاکستان کو جرمانہ کیوں ہوا، کمیشن ملک کو نقصان پہنچانے والوں کا تعین بھی کرے گا۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان کے دفتر سے جاری اعلامیہ میں کہاگیاکہ وزیراعظم عمران خان نے معاملے معاملہ پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کی ہدایت کر دی ہے جو ریکوڈک معاملہ میں ذمہ داران کا تعین کرے گا اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کیلئے سفارشات بھی دے گا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل آفس اورصوبائی حکومت بلوچستان فیصلے کے قانونی اورمالی اثرات کاجائزہ لے رہے ہیں تمام پہلوؤں کاجائزہ لیکر آئندہ کالائحہ عمل طے کیا جائیگا۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ حکومت پاکستان بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام قانونی آپشنز استعمال کرنے کاحق رکھتی ہے۔ اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان ٹی ٹی سی کمپنی کی جانب سے معاملے کے مذاکرات کے ذریعے حل کے بیان کو خوش آئند قراردیتی ہے پاکستان بطور ذمہ دار ریاست بین الاقوامی معاہدوں کوسنجیدگی سے دیکھتا ہے اور تمام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہتا ہے پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے قانونی حقوق اورمفاد کا تحفظ یقینی بنائے گا۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان ریکوڈک ذخائر کی ڈیلپمنٹ میں دلچسپی رکھتا ہے۔واضح رہے انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے ریکوڈک کا معاہدہ منسوخ کرنے کی پاداش میں پاکستان پر 4 ارب 10 کروڑ ڈالرجرمانہ عائد کیا ہے جس پر ایک ارب 87 کروڑ ڈالر سود بھی ادا کرنا ہوگا۔مجموعی رقم

5ارب97کروڑ بنتی ہے۔دریں اثناء اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا ہے کہ ٹیتھان کمپنی کی جانب سے مذاکرات کی دعوت خوش آئند ہے اور ہم مذاکرت پر تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جتنے بڑے نقصان کا سامنا ہے اس کو کم کرنے کے لیے جو بھی کرنا پڑا وہ کریں گے جبکہ مذاکرات تو تنازعات کا حل ہوا کرتے ہیں۔یہ مذاکرات کب اور کیسے ہونگے اس حوالے سے فریقین آپس میں رابطہ قائم رکھیں گے۔ اس وقت اٹارنی جنرل آفس میں عالمی معاہدات کے تنازعات کے حل سے متعلق ایک سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو اس معاملے پر کام کرے گا۔ انور منصور کے مطابق اس مقدمے میں بھاری فیسیں ادا کی گئی ہیں اور اب ہم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ آئندہ ہمارے پاکستانی وکیل ایسے مقدمات میں پیش ہوا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں