57

وزارت قانون نے باضابطہ طور پر جج ارشد ملک کو کام کرنے سے روک دیا، عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے،اگر جج کو دھمکیاں دی گئیں تو کیا ہو گا؟

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ وزارت قانون نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو کام کرنے سے روک دیا اور انہیں لا ڈویژن کو رپورٹ کرنے کا کہا ہے، حکومت قانون اور انصاف کے ساتھ کھڑی ہے جب کہ اس بات کی

اجازت نہیں دے گی کہ عدلیہ پر دبا ڈالا جائے،نیب قانون میں جج کو دھمکانے پر بھی سزا موجود ہے، جب تک ہائی کورٹ شاخسانے کا کوئی فیصلہ نہیں کرتی جج کے خلاف سزا جزا کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا تاہم دیکھنا پڑے گا کہ کیا فیصلہ دبا ؤمیں دیا گیا کہ نہیں،کسی کو دباؤ اور ٹمپر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اگر ثابت ہوا کہ جج کو دھمکیاں دی گئیں تو سیکشن 31 موجود ہے۔اسلام آباد میں وزیر قانون نے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہائیکورٹ کی جانب سے موصول خط میں کہا گیا ہے کہ بیان حلفی اور پریس ریلیز کے تناظر میں جج ارشد ملک کواحتساب عدالت نمبر 2 کے جج کے عہدے سے سبکدوش کردیا جائے اور اپنے پیرنٹ ڈپارٹمنٹ لاہور ہائی کورٹ کو رپورٹ کریں۔ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو دیکھا گیا اور فوری طور پر جج ارشد ملک کو مزید کام کرنے سے روک دیا ہے اور انہیں محکمہ قانون کو رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پریس ریلیز اور بیان حلفی دیکھنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ارشد ملک کہتے ہیں کہ انہیں کو کسی سیاہ سفید کو دیکھے بغیر فیصلہ کیا، مجھے رشوت دینے اور دھمکیاں دینے کی کوشش کی گئی اور اگر اس بیان کو دیکھیں تو پھر تو جج ارشد ملک نے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے۔بیان حلفی کے بارے میں وزیر قانون نے بتایا کہ اس کے مطابق جج ارشد ملک پر ہر قسم کا دبا تھا لیکن پاکستان اور نیب

کے قانون کے تحت کوئی بھی شخص کسی فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے تو اس کی سزا الگ ہے۔انہوں نے بتایا کہ نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 31 اے کہتا ہے کہ کوئی بھی شخص انصاف کی راہ، تحقیقات، عدالتی فیصلے میں رکاوٹ بنتا ہے تو اس پر 10 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھا کہ یہ کیس اس حکومت نے تو نہیں بنایا اور نہ ہی اس کی تحقیقات اس حکومت نے نہیں کی، نواز شریف کے کیس میں اگر اتنا دبا تھا تو پھر تو انہیں دونوں کیسز میں سزا ہوجاتی لیکن جج نے انہیں ایک کیس میں بری کردیا جبکہ ایک میں سزا سنائی۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ العزیزیہ اسٹیل ملز کے فیصلے کے خلاف اپیل کو اسلام آباد ہائی کورٹ دیکھ رہا ہے اور جب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک وزارت قانون، نیب یا کوئی بھی کیس کے بارے میں مزید کارروائی نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرنا ہے، اس دوران کوئی سزا بڑھائی یا کم نہیں کی جاسکتی، لہذا یہ ایک قانونی معاملہ ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا احتساب عدالت کے جج نے فیصلہ کسی دبا میں دیا۔پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ جج ارشد ملک کے مطابق انہوں نے کوئی دبا میں فیصلہ نہیں دیا لیکن ویڈیوز کو بھی اسی تناثر میں دیکھا جائے گا، تاہم کسی کو عدالتوں پر دبا کی اجازت نہیں دی جائے گی۔دوسری جانب معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جج ارشد ملک کا بیان حلفی ایک

ہی طرف اشارہ کرتی ہے، اس میں وہی لفظ لکھا ہوا ہے جو پاناما کے فیصلے میں تھا اور وہ لفظ مافیا کا تھا۔انہوں نے کہا کہ بیان حلفی کے مطابق جج ارشد ملک سے 2 مواقع پر رابطے کیے جاتے ہیں، ایک اس وقت جب نواز شریف کے خلاف کیس چل رہا تھا تو ناصر جنجوعہ، ماہر جیلانی اور ناصر بٹ رابطہ کرتے ہیں، یہ لوگ لالچ اور دھمکیاں بھی دیتے ہیں جبکہ دوسرا موقع فیصلے کے بعد کا ہے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ جج کا تقرر بھی اپنے مقاصد کے لیے کروایا جاتا ہے، لہذا ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ تقرر کیسا ہوا اور اس میں کون ملوث تھے کیونکہ اس عدالت کے لیے تقرر میں وزیر قانون، سیکریٹری قانون، وزیر اعظم کا دفتر بھی شامل ہوتا ہے۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ حلفیہ بیان میں جج کہہ رہے ہیں کہ ان کا تقرر کروایا گیا، اس پوری اسکیم کا آغاز تقرر سے ہوتا ہے جس کے بعد انہیں 10 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس دوسرے جج کو منتقل بھی انہیں کی درخواست پر ہوا تھا کیونکہ یہ کیس پہلے جج محمد بشیر کی عدالت میں تھا لیکن ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ کیس جج ارشد ملک کی عدالت میں گیا تھا۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ پورا منصوبہ تھا کہ کسی طرح پسند کا فیصلہ لے لیا جائے لیکن جب اپنی مرضی کا فیصلہ نہیں آتا تو بیان حلفی کے مطابق فروری 2019 سے ان سے دوبارہ رابطہ کیا جاتا ہے اور نیا کردار خرم یوسف اس میں شامل ہوتا ہے جبکہ اس کے بعد ایک اور کردار میاں طارق سامنے آتا ہے۔پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ جج کے بیان

حلفی کے مطابق میاں طارق کی وجہ سے بلیک میلنگ شروع ہوتی ہے اور جج کو ایک ویڈیو دکھائی جاتی ہے، جس کے بعد وہ بلیک میل ہونا شروع ہوئے، اس کے علاوہ اس میں شدید الزامات لگائے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں