55

گیڈر بھبکیاں لگانے والا بھارت گھٹنوں کے بل آگیا۔۔۔ نریندر مودی نے پہلی بار پاکستان کو ایسی درخواست دے دی کہ پوری دنیا حیران رہ گئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) بھارت نے پاکستان سے فضائی حدود کھولنے کے لیے باضابط درخواست کردی ہے پاکستانی دفتر خارجہ اہلکار کے مطابق پاکستان میں یہ درخواست فی الحال زیرِ غورہے اور اس پر حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے. بھارتی حکومت نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے

جہاز کو 13 جون کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دے‘ اس ضمن میں ملک میں انڈین ہائی کمیشن نے باضابطہ درخواست بھیجی ہے.تاہم بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار نے اس سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشنل معلومات ہیں جو وہ شیئر نہیں کرسکتے‘ بھارتی وزیراعظم مودی آئندہ ہفتے کرغستان کے شہر بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کریں گے‘وزیر اعظم عمران خان بھی اس اہم اجلاس میں شریک ہوں گے تاہم دونوں سربراہان کے درمیان باضابطہ ملاقات تاحال طے نہیں ہوئی ہے.خیال رہے کہ پاکستان نے اس سے قبل رواں برس مئی میں انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج کے طیارے کے لیے اس وقت فضائی حدود کھولی تھی جب وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک جا رہی تھیں. پاکستان میں دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس وقت بھارت کی جانب سے طویل مسافت سے بچنے کے لیے پاکستان سے اس کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی.واضح رہے کہ فروری میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارت کے نیم فوجی دستے پر خودکش حملے، بالاکوٹ میں انڈین طیاروں کی بمباری اور پھر پاکستان کی جانب سے انڈین جنگی طیارہ گرائے جانے کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی کے باعث پاکستان کی فضائی حدود تمام کمرشل اور نجی پروازوں کے لیے بند کر دی گئی تھی. اس کے کچھ عرصے بعد ملک کی دیگر فضائی حدود تو آپریشنل کر دی گئی تاہم انڈین سرحد کے ساتھ یعنی مشرقی فضائی حدود تاحال ایئر ٹریفک کے لیے بند ہے.سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی مشرقی فضائی حدود 14 جون تک بند رہے گی‘اس پابندی سے سب سے زیادہ متاثر یورپ سے جنوب مشرقی ایشیا کی جانب آنے والی وہ عالمی پروازیں ہوئی ہیں جو انڈین ایئر سپیس استعمال کرتی ہیں. اس کے نتیجے میں جہاں فضائی کمپنیوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں وہیں پروازوں کا دورانیہ بھی بڑھا ہے اور کئی پروازیں جو نان سٹاپ تھیں اب انھیں ایندھن کے لیے رکنا پڑتا ہے جس کے مزید اخراجات ہیں. اس بندش سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان کے ہمسایہ ممالک ہو رہے ہیں جن کی مختصر دورانیے کی پروازوں کو اب ایک طویل راستے سے گزر کر جانا ہوتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں