53

جن مجرموں کو عدالت موت کی سزا سنا دیتی ہے وہ ۔۔۔۔۔ سزائے موت کے قیدیوں کی رحم کی اپیلیں ملنے پر صدر مملکت عارف علوی کے احساسات کیا ہوتے ہیں ؟ پرانے شناسا کالم نگار نے سب بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) ماہ رمضان کے آخری عشرے میں صدر عارف علوی سے دو ملاقاتیں ہوئیں ۔ایک دن میں رحم کی درخواست لے کر صدر ہائوس گیا تھا۔صدر مملکت کا خیال تھا کہ جن مجرموں کو عدالتیں سزائے موت سنا دیتی ہیں انہیں سزائے موت ملنی چاہئے۔میرا موقف تھاکہ ہمارا عدالتی نظام ابھی اتنا بہتر ہوانہیں،

نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ابھی صدرِ پاکستان نے رحم کی اپیلیں فراخ دلی سے سننی ہیں ۔بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔قتل کے کیس میں کوئی گواہی سچی ہوتی ہی نہیں ۔مقتول کے لواحقین ہمیشہ اپنے قریبی لوگوں کو بطور ِگواہ پیش کرتے ہیں ،وہ موقع ِ واردات پر موجود نہیں ہوتے ۔معاشرہ اتنا بے حس ہو چکا ہے کہ سچی گواہی خواب بن گئی ہے ۔ سو بے گناہ کے پھانسی چڑھنے سےبہتر ہے کہ گناہگار بچ جائے ۔صد ر مملکت سے دوسری ملاقات صدر ہائوس کی ایک افطاری پر ہوئی جس میں انہوں نے کچھ یتیم بچوں کو افطاری پر بلایا ہوا تھا ۔ان ملاقاتوں کا کریڈٹ صدر مملکت کے نئے پریس سیکرٹری میاں جہانگیر کو جاتا ہے ۔ میرے نزدیک اُن کی تقرری صدر ہائوس کےلئے خوش بختی ہے ۔کچھ کالی نیلی پیلی زبانیں حکومت کے خلاف امکانی احتجاجی تحریک کی خبریں بھی سنا رہی ہیں ۔راناثنااللہ کی زبان سے لاپتہ اپوزیشن لیڈر’’شہباز شریف کی واپسی‘‘کا اعلان ذرا تیکھے انداز میں ہوا ہے ۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نےتو انہیں یہ کہہ کر عید پر بلا یا تھا کہ ’’آجا تینوں اکھیاں اڈیک دیاں نیب واجاں مار ادا‘‘دیکھتے ہیں انہیں ریسو کرنے کےلئے ایئرپورٹ پر عوام جاتے ہیں یانیب کے اہلکار۔پیپلز پارٹی بھی پریشان ہے کہ پنجاب میں احتجاجی تحریک کی ذمہ داری تو نون لیگ پر ہے مگر سندھ ؟ ۔سندھ حکومت کے زیر سایہ احتجاجی تحریک شروع ہوئی تووفاقی حکومت کوگورنر راج لگانے سے کون روک سکتا ہے۔پھر انہیں نون لیگ پر اعتبار بھی نہیں ۔کیا خبر کس وقت آصف علی زرداری اینٹ سے اینٹ بجانے کا نعرہ لگائیں اورمڑ کر دیکھیں توپیچھے کوئی نہ ہو۔ایک مولانا فضل الرحمن ہیں جو بہت جھنجھلائے پھرتے ہیں ۔ نئےنئے باہر آئے ہیں اقتدار سے ، شاید پہلی بار۔وہ مدارس کے طالب علموں کو انتہائی سخت گرمی میں سڑکوں پر لانے کا فیصلہ کر چکے ہیں ،چاہے اُن کی سفید رنگت سیاہ ہی کیوں نہ پڑ جائے ۔خود اپنے لئےانہیں ایئرکنڈیشنڈ کنٹینر بنوانے کا مشورہ دیا گیا ہے مگرانہیں اپنی لینڈ کروزر کے اے سی پر بہت بھروسہ ہے ۔بڑا اچھا کام کرتا ہے ۔ روح تک کو یخ بستہ کر دیتا ہے ۔ویسےمیراخیال تو یہی ہےکہ یہ تحریک بن کھلے ہی مرجھا جائے گی ۔اس کا تعلق عوام کے مسائل سےکم اور خواص کے وسائل سے زیادہ ہے۔اِ س کی بنیاد میں بے نامی بینک اکائونٹس ہیں ،وہ مسئلہ بنے ہوئے ہیں ۔ظالم بیرونی جائیدادیں بچانے کےلئے جون کی آگ اگلتی گرمی میں عوام کو سڑکوں پر لانا چاہتے ہیں ۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں