12

سعودی صحراؤں کے بیچوں بیچ خطرناک منصوبہ ۔۔۔۔ سعودی عرب کونسا خوفناک میزائل تیار کرنے والا ہے؟ امریکی ٹی وی نے انکشاف کر دیا

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی نشریاتی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب صحرا کے بیچوں بیچ ایک خفیہ منصوبے پر عمل کر رہا ہے جس کے تحت مملکت سعودی عرب چین کے تعاون سے بیسلٹک میزائل پروگرام کو تیزی سے ترقی دے رہا ہے۔ادھرواشنگٹن میں سعودی سفارتخانے نے اس خبر پر تبصرے سے گریز کیا ہے، تاہم

چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ملک (چین اور سعودی عرب) تمام تزویراتی شعبوں، بشمول عسکری، میں شریک ہیںاور یہ باہمی تعاون بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔امریکی چینل نے تین مختلف ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب بیلسٹک میزائل تیاری کے لئے بنیادی ڈھانچے اور اس سے متعلق ٹکنالوجی کو ایڈوانس مرحلے تک ترقی دے چکا ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق امریکی حکومت کو ایسی انٹلیجنس معلومات ملی ہیں جن سے تصدیق ہوتی ہے کہ سعودی عرب خفیہ بیلسٹک پروگرام چلا رہا ہے، تاہم چینل کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ معلومات کانگرس سے چھپائیں۔واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے نے اس خبر پر تبصرے سے گریز کیا ہے، تاہم چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں ملک (چین اور سعودی عرب) تمام تزویراتی شعبوں، بشمول عسکری، میں شریک ہیںاور یہ باہمی تعاون بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دو مرتبہ سعودی عرب کو جوہری تکنیکی مہارت منتقل کرنے کی منظوری دی ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ٹم کین نے بتائی۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے مزید بتایا کہ وہ مارچ سے توانائی کے ملکی محکمے پر سعودی عرب کو کی جانے والی ان منتقلیوں کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے زور دے رہے تھے۔بتایا گیا کہ اس دوران پینل کے چیئرمین کی جانب سے دخل اندازی کی کوشش بھی کی گئی تاہم دو ماہ بعد آخر کار وہ جواب لینے میں کامیاب ہو گئے۔ان میں سے ایک منظوری اٹھارہ اکتوبر 2018ء میں دی گئی تھی۔ ریاض حکومت کے ناقد صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے سولہ دن بعد۔خاشقجی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کرنے کے بعد ان لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے تھے۔خاشقجی کے پاس امریکی رہائشی اجازت نامہ بھی تھا اور وہ ورجینیا میں رہتے تھے۔ٹم کین نے مزید بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے دوسری مرتبہ سعودی عرب کو جوہری تکنیکی مہارت منتقل کرنے کی اجازت رواں برس فروری میں دی تھی۔امریکی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کا شک ہے کہ صحافی خاشقجی کے قتل کے احکامات سعودی فرمانروا محمد بن سلمان نے دیے تھے تاہم دوسری جانب صدر ٹرمپ نے پرزور انداز میں محمد بن سلمان پر لگائے گئے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کانگریس کو نظر انداز کرتے ہوئے سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کے سودے کی منظوری بھی دی تھی۔ کین کے بقول کانگریس کے اعتراضات کے باوجود ٹرمپ کا سعودی عرب کو ہر وہ چیز دینے کا شوق، جو انہیں چاہیے، امریکی قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔ اور یہ ان بہت سے اقدامات میں سے ایک ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ خطے اٹھا رہی ہے اور جو میں خطرناک تنازعے کو ہوا دے سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں