45

عمران خان کے آئے روز بلائے جانیوالے اجلاس : مگر ان خصوصی اور ہنگامی اجلاسوں میں دراصل ہوتا کیا ہے ؟ صف اول کے صحافی نے ایسا انکشاف کر دیا کہ آپ کو شدید مایوسی ہو گی

لاہور (ویب ڈیسک) میرا اللہ جانتا ہے کہ جو بات میں روایت کرنے لگا ہوں وہ صرف کالم بنانے کی غرض سے نہیں ہے اور اس میں شاید الفاظ کا ادھر اُدھر ہو جانا تو ممکن ہے مگراس ساری بات میں انیس بیس بھی مبالغہ یا جھوٹ نہیں ہے۔ اس بات کا راوی نہایت ہی معتبر ہے

نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ عام زندگی میں بھی غلط بیانی نہیں کرتا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں کیا کرے گا۔ راوی نے جس سے بات سنی ہے وہ شخص بھی میرے ذاتی تھوڑے بہت تحفظات کے باوجود عمومی طور پر معقول اور شریف آدمی سمجھا جاتا ہے۔ میرے ذاتی تحفظات اس کے بارے میں وہی ہیں جو عموماً سیاستدانوں کے بارے میں ہوتے ہیں کہ وہ اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہاتھ لگے تو مُفتا مار لیتے ہیں۔ دیگر معاملات میں وہ کافی بہتر آدمی ہے اور ایک آدھ جائیداد پر بالکل معمولی عوضانے پر ہاتھ صاف کرنے کے علاوہ مالی معاملات میں بھی شہرت اتنی خراب نہیں جتنی ہمارے صاحبانِ اقتدار بارے خراب ہے۔ نفع نقصان والے معاملات کے علاوہ کی حد تک خاصا اصول پسند ہے۔ آج کل حکومت میں ہے اور کابینہ کے اجلاسوںمیں بیٹھتا ہے۔ ظاہر ہے اجلاس میں بیٹھتا ہے تو وہاں بیٹھنے کا اہل بھی ہے۔راوی کو میں ایک عرصے سے صرف جانتا ہی نہیں بلکہ بہت ہی اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس سے دوستی بھی ہے اور بے شمار معاملات میں اسے اپنی آنکھوں سے لوگوں کے ساتھ معاملات طے کرتے دیکھا ہے اور کبھی بال برابر بھی ہیر پھیر یا غلط بیانی کرتے نہیں دیکھا۔ راوی اور راوی در راوی کا نام لکھنا مناسب نہیں۔ ممکن ہے راوی در راوی کا نقصان ہو جائے اور راوی کا اعتبار چلا جائے۔ میرا تو کچھ نہیں جائے گا سوائے اس کے کہ دوست آئندہ کوئی بات نہ بتائیں۔

راوی نے بتایا کہ اسے اس سیاستدان نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاسوں میں عمران خان کسی کی سنتے نہیں اور خود ہی بولتے رہتے ہیں اور صرف بولتے ہی نہیں، لگاتار اور بے تکان بولتے ہیں اور ہم صرف سنتے ہیں۔ بقول اس کے، میں پہلی بار کابینہ کا حصہ نہیں بنا‘ اس سے قبل بھی کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کی ہے‘ مگر ایسی صورتحال کا سامنا پہلے نہیں کیا تھا۔ نہ کوئی ڈسکشن اور نہ کوئی باہمی صلاح مشورہ۔ نہ کسی کی بات سنی اور نہ ہی کسی بات پر کان دھرا۔ بس اپنی سنائی اور یہ جاوہ جا۔ سارا اجلاس یکطرفہ گفتگو پر مبنی ہوتا ہے۔ میں نے اپنے دوست راوی سے پوچھا کہ کیا اس نے اس سیاستدان سے پوچھا نہیں کہ اگر اجلاس میں کوئی صلاح مشورہ نہیں کرنا ہوتا تو اجلاس بلایا کس لیے جاتا ہے؟ جواب ملا کہ اجلاس صلاح مشورے کے لیے نہیں، اپنی سنانے کے لیے بلایا جاتا ہے اور جب دل بھر جاتا ہے تو اجلاس برخواست ہو جاتا ہے۔ یہ ہے اجلاس کی اندرونی کہانی۔اصل میں سارا مسئلہ ہی یہی ہے اور آدھی خرابیوں کی جڑ بھی یہی ہے کہ تحریک انصاف کے دیگر لوگ بھی اسی رویے کا شکار ہیں۔ بہت زیادہ بولنا اور بلاسوچے سمجھے بولنا۔ دوسروں کی تحقیر کرنا اور معاملات کو بلاوجہ خراب کرنا۔ اگر تحریک انصاف کی قیادت بولنے سے آدھا بھی غور و خوض اور تفکر کرتی تو معاملات شاید نہیں بلکہ یقینا اتنے خراب نہ ہوتے لیکن کیا کیا جائے؟ اپوزیشن کے دنوں میں د وسروں کو ذلیل وخوار کرنے کے باعث اور بلاتحقیق الزامات عائد کرنے کے طفیل اقتدار میں آنے کے بعد اب ان کا خیال ہے کہ

اس ”نیک عادت‘‘ کے طفیل وہ اپوزیشن سے اقتدار میں آئے ہیں تو اسی خوبی کے طفیل وہ حکومت بھی چلا لیں گے۔ اور حکومت چلانا ویسے بھی کون سا مشکل کام ہے؟ ابھی گزشتہ دنوں عمران خان نے کہا تھا کہ اپوزیشن کا فریضہ انجام دینا بہت مشکل ہے جبکہ حکومت اس کے مقابلے میں بہت آسان کام ہے۔ ایک دو دوستوں نے اس بیان پر بڑی حیرت کا اظہار کیا کہ پاکستان میں اپوزیشن کا کام صرف اور صرف حکمرانوں کی غلطیوں کو پکڑنا اور عوام کے سامنے لانا ہے اور غلطیاں وہی کرتا ہے جو کچھ کر رہا ہو۔ حکومت وقت کچھ نہ کچھ کر رہی ہوتی ہے خواہ خرابیاں ہی کر رہی ہو، مگر کچھ نہ کچھ ایسا کر ضرور رہی ہوتی ہے جو قابلِ گرفت ہو۔ سو ان قابلِ گرفت حرکات پر گرفت کرنا خاصا آسان کام ہوتا ہے اور اپوزیشن یہ کام کرتی رہتی ہے۔ میاں نواز شریف اینڈ کمپنی یہ قابل گرفت والے کام باافراط کر رہی تھی لہٰذا ان پر گرفت کرنا خاصا آسان کام تھا جو عمران خان نے بہرحال کیا۔ میں اسے بہ احسن کرنا نہیں کہوں گا کیونکہ اس دوران عمران خان بھی برابر ڈنکے کی چوٹ پر الٹے سیدھے بیانات دینے اور بے مقصد کاموں میں اپنی صلاحیتیں صرف کرتے رہے حالانکہ وہ صرف اور صرف میاں صاحبان کی غلطیوں پرہی گرفت کرتے رہتے تو انہیں اور کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی لیکن اب اس پر بحث لاحاصل ہے؛ تاہم یہ بات طے ہے کہ خواہ وہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا مسلم لیگ ن کی، معاملات میں اتنی خرابیاں ہوتی ہیں کہ

اپوزیشن کو روزانہ کی بنیاد پر ایک آدھ سیکنڈل ملتا رہتا تھا اور اپوزیشن کی موج لگی رہتی تھی۔پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک پارٹی حکومت میں ہوتی تھی اور ایک اپوزیشن میں۔ عمران خان صاحب کو یہ فالتو سہولت میسر تھی کہ انہیں اپنی ”چاند ماری‘‘ کے لیے دو پارٹیاں بیک وقت دستیاب تھیں اور خرابیاں اتنی کثیر تعداد میں میسر تھیں کہ زیادہ محنت ہی نہیں کرنا پڑتی تھی۔ سو عمران خان کی موجیں لگی ہوئی تھیں اور اس میں ان کی ذاتی قابلیت سے کہیں زیادہ، بلکہ یوں سمجھیں کہ سو فیصد کریڈٹ ہی میاں صاحب اور زرداری کی ذاتی صلاحیتوں کو جاتا تھا۔ ہاں ایک کریڈٹ بلا شبہ عمران کو جاتا ہے اور وہ یہ کہ عمران خان نے ان کی خرابیوں اور غلطیوں کو عوام تک پہنچانے کا فریضہ بڑے حوصلے، تسلسل اور مستقل مزاجی سے سرانجام دیا۔ مایوس ہوئے بغیر اور اعتماد میں کمی لائے بنا۔میں نے شاہ جی سے پوچھا کہ عمران خان کے اس بیان کا کیا مطلب ہے کہ اپوزیشن کا فرض نبھانا بہت مشکل کام ہے جبکہ حکومت کرنا بہت آسان ہے؟ شاہ جی ہنسے اور کہنے لگے: عمران خان صاحب بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ کچھ نہ کرنا بہت ہی آسان کام ہے اور عمران خان آج کل یہی کچھ کر رہے ہیں۔بھلا کچھ نہ کرنے میں کون سی محنت لگتی ہے؟ معیشت کا، مہنگائی کا، روپے کی بے قدری کا، بیورو کریسی کا، پنجاب کے وزیراعلیٰ کا اور اداروں کی کارکردگی کا جو حال ہے کہیں سے لگتا ہے کہ حکومت کچھ کرر ہی ہے؟ اگر بندے نے صرف مزا انجوائے کرنا ہو کہ وہ بالآخر وزیراعظم بن گیا ہے

اور اب چونکہ اس نے اپنا زندگی کا آخری ٹارگٹ حاصل کر لیا ہے اور اس نے کچھ بھی نہیں کرنا تو بھلا پھر حکومت کرنا کوئی مشکل کام ہے؟ تم نے وہ واقعہ تو سنا ہوگا کہ ایک ملک کا بادشاہ انتقال کر گیا اور وہ لا ولد تھا۔ وزیروں مشیروں نے باہمی جنگ و جدل سے بچنے کے لئے فیصلہ کیا کہ کل صبح شہر میں داخل ہونے والے پہلے شخص کو بادشاہ بنا دیا جائے گا۔ خدا کی قدرت کہ صبح شہر میںد اخل ہونے والا پہلا شخص ایک فقیر تھا۔ گدڑی پہنے ہاتھ میں کاسہ لئے وہ شہر میںداخل ہوا اور درباریوں نے شاہی تاج اس کے سر پر رکھ دیا۔ بادشاہ نے پہلا شاہی فرمان جاری کیا کہ اس کے لیے لذیذ حلوہ پکایا جائے۔ حلوہ پکایا گیا۔ اس میں خوب بادام پستے ڈالے گئے اور بادشاہ سلامت نے سیر ہو کر کھایا اور مزید حلوہ پکانے کا حکم دے دیا۔ اسی دوران ہمسایہ ملک کے بادشاہ نے حملہ کر دیا اور بلا روک ٹوک ملک کے دارالسلطنت کی طرف بڑھتا ہوا شہر پناہ کے دروازے تک آن پہنچا۔ وزیروں مشیروں نے حملے کے بارے میں بتایا۔ فقیر بادشاہ نے مزید حلوہ بنانے کا حکم صادر فرمایا۔ حلوہ آیا اور مزے سے کھایا بھی گیا۔ بتایا کہ دشمن کی فوجیں محل کے باہر تک آ گئی ہیں۔ بادشاہ نے دیگچی کے کناروں پر لگا ہوا حلوہ ہاتھ سے صاف کیا۔ آخری لقمہ منہ میں ڈالا اور آخری حکم دیا کہ ہماری گدڑی اور کاسہ لایا جائے۔ گدڑی پہنی، کاسہ ہاتھ میں لیا اور محل کے عقبی دروازے سے نکلتے ہوئے بہ آواز بلند فرمایا: ہم نے حلوہ کھانا تھا کھا لیا‘ آپ جانو، ملک جانے اور حکومت جانے‘ حکومت اپنے بس کی بات نہیں اور حلوہ کھانا کون سا مشکل کام ہے؟(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں