376

وہ وقت جب حضرت عمر بن خطاب کی بیوی نےعطر خرید کر روم کے بادشاہ کی بیوی کو ہدیہ بھیجا تو اس نے اس کا جواب کسطرح دیا؟ خلیفہ دوم کی سادگی پر مبنی ایک شاندار واقعہ

حضرت مالک بن اوس بن حدثان رحمتہ اللہ کہتے ھے کہ حضرت عمر رضی اللہ کے پاس روم کے بادشاہ کا ایک قاصد آیا. حضرت عمر بن خطاب کی بیوی نے ایک دینا ادھار لے کر عطر خریدا اور شیشوں میں ڈال کر وہ عطر اس قاصد کے ہاتھ روم کے

بادشاہ کی بیوی کو ہدیہ بھیج دیا۔ جب قاصد روم پہنچا تو اس نے عطر کی وہ شیشی شاہ روم کی بیوی کو پیش کیکہ مسلمانوں کے خلیفہ کی بیوی نے آپکے لیے یہ تحفہ بھیجا ہے ۔ شاہ روم کی بیوی کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی کی بیوی کی یہ ادا پسند آگئ جب عطر ختم ہوا اور شیشیاں خالی ہوئی تو شاہ روم کی بیوی نے ان شیشیوں کو جواہرات سے بھر دیا اسی قاصد کو بلوایا اور کہا ” جاو اور حضرت عمر کی بیوی کو یہ تحفہ میری طرف سے دے دینا۔ جب شیشیاں حضرت عمر رضی اللہ کی بیوی کے پاس پہنچی تو انہوں نے شیشیوں سے وہ جواہرات نکال کر بچھونے پہ رکھے۔ اور پیار سے دیکھنے لگی کہ اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی آگئےآپ نے پوچھا ” کیا ہے یہ سب؟ ” جواب میں انکی بیوی نے سارا ماجرہ سنا دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے وہ تمام جواہرات اٹھاے اور بازار میں لیں جاکر اسی وقت سب فروخت کردیئے۔ انکی تمام قیمت میں صرف ایک دینار اپنی بیوی کو دیا اور باقی ساری رقم بیت المال میں جمع کرای یہ تھی خلیفہ دوم کی سادگی۔۔۔۔ جس کی حکمرانی مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی تھی ،واضح رہے ضرت سیدنا عمر وبن میمون رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”جس دن حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کیا گیا اس دن میں وہیں موجود تھا ۔ حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نمازِ فجر کے لئے صفیں درست کرو ارہے تھے۔ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بالکل قریب کھڑا تھا، ہمارے درمیان صرف حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما حائل تھے۔ حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ صفوں کے درمیان سے گزرتے اور فرماتے :اپنی صفیں درست کرلو۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھاکہ صفیں بالکل سیدھی ہوچکی ہیں، نمازیوں کے درمیان بالکل خلا نہیں رہااورسب کے کندھے ملے ہوئے ہیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے ا ور تکبیرتحریمہ کہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں