1,694

میں آپ کی سب مان لونگا ، آپ میری صرف ایک بات مان لیں ۔۔۔۔۔ شہباز شریف نے اپنی جان چھڑوانے کے لیے نیب والوں کو آخری حد تک جا کر کیا پیشکش کی تھی ؟ جاوید چوہدری کا اپنے کالم کے دوسرے حصے میں تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) میرے لیے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا یہ انکشاف حیران کن تھا‘ وہ فرما رہے تھے ’’مجھے میرے ایک عزیز کے ذریعے پیشکش کی گئی آپ نیب سے استعفیٰ دے دیں‘ آپ کوسینیٹر بنا دیا جائے گا اور آپ پھر کچھ عرصے بعد صدر پاکستان بن جائیں گے‘‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے پوچھا ’’آپ کو یہ آفر کس نے دی اور کب دی‘‘ وہ مسکرا کر بولے ’’یہ میں آپ کو چند دن بعد بتاؤں گا‘‘۔میں نے اصرار کیا تو ان کا جواب تھا ’’یہ پچھلی حکومت کے آخری فیز میں ہوئی تھی‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا یہ واحد پیشکش تھی‘‘ بولے ’’نہیں‘ مجھے اس سے پہلے بھی ایک پیشکش ہوئی تھی‘ مجھے کہا گیا تھا آپ مستعفی ہو جائیں‘ آپ دنیا میں جہاں کہیں گے آپ کو وہاں سیٹ کر دیا جائے گا‘‘ میں نے پوچھا ’’لیکن آپ کے استعفے سے کسی کو کیا فائدہ ہوتا؟‘‘ وہ بولے ’’میں اگر مستعفی ہو جاتا تو چیئرمین نیب کی کرسی خالی ہو جاتی‘الیکشن سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان شدید اختلافات تھے۔دونوں میں نئے چیئرمین کے لیے اتفاق رائے نہ ہوپاتا اور یوں آج کے بے شمارمجرموں کے خلاف انکوائریاں رک جاتیں‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ کا کیا جواب تھا‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’جواب واضح تھا‘ میاں نواز شریف اس وقت جیل میں ہیں اور میں آج بھی چیئرمین کی کرسی پر بیٹھا ہوں‘‘ میں نے عرض کیا ’’وفاقی وزراء بار بار این آر او کی بات کر رہے ہیں‘ کیا میاں برادران کی طرف سے این آر او یا رعایت کی درخواست کی گئی‘‘ وہ رکے‘ چند سیکنڈ سوچا اور پھر جواب دیا ’’میاں شہباز شریف کی طرف سے ایک پیشکش آئی تھی‘ یہ سیاست سے ریٹائر ہونے اور رقم واپس کرنے کے لیے تیار تھے

لیکن ان کی تین شرطیں تھیں‘‘ یہ رکے اوربولے ’’یہ رقم خود واپس نہیں کرنا چاہتے تھے‘ ان کا کہنا تھا کوئی دوسرا ملک پاکستان کے خزانے میں رقم جمع کرا دے گا‘ دوسرا انھیں کلین چٹ دے دی جائے اور تیسرا حمزہ شہباز کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے‘‘ وہ رکے اور بولے ’’میاں شہباز شریف نے اس سلسلے میں نیلسن منڈیلا اور ٹروتھ اینڈ ری کنسی لیشن کمیشن کی مثال دی تھی لیکن میرا جواب تھا جنوبی افریقہ کے ٹروتھ اینڈ ری کنسی لیشن کمیشن کی چار شرطیں تھیں‘ مجرم اپنا جرم مانیں‘ ریاست سے معافی مانگیں۔پیسہ واپس کریں اور آئندہ غلطی نہ دہرانے کا وعدہ کریں لیکن میاں صاحب کہہ رہے ہیں یہ اپنا جرم نہیں مانیں گے اور معافی بھی نہیں مانگیں گے‘یہ صرف پیسہ واپس کریں گے اور وہ بھی خود نہیں دیں گے کوئی دوسراشخص یا کوئی دوسرا ملک جمع کرائے گا تو پھر پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا چنانچہ یہ پیشکش قابل قبول نہیں تھی‘‘ وہ رکے اور بولے ’’میاں نواز شریف اور ان کا خاندان بھی اس قسم کے ارینجمنٹ کے لیے تیار تھا‘‘ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے پوچھا ’’سر میاں برادران نے یہ پیشکش کس کے ذریعے کی‘ کس کو کی اور کب کی‘‘ وہ فوراً بولے ’’یہ میں آپ کو چند دن میں بتاؤں گا‘‘ میں نے ہنس کر عرض کیا ’’آپ ہر سوال کے جواب میں چند دن کہتے ہیں‘ آپ چند دن میں کہیں مستعفی تو نہیں ہو رہے؟‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’میں خود نہیں بھاگوں گا‘ میں

اپنی مدت پوری کروں گا باقی جو اللہ کرے‘‘۔میں نے سوال تبدیل کرتے ہوئے پوچھا ’’کیا آپ پر دباؤ ہے‘‘ وہ فوراً بولے ’’ہاں ہے‘ اپوزیشن اور حکومت دونوں ناراض ہیں‘ آپ کواگلے چند دنوں میں نیب کے خلاف ن لیگ‘ پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف تینوں ایک پیج پر دکھائی دیں گی‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ سب کا دباؤ برداشت کر لیں گے‘‘ وہ بولے ’’میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں‘ میں ملک کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہوں اور میں آخری سانس تک کرتا رہوں گا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ کو احساس ہے نیب کی وجہ سے بیورو کریسی اور بزنس کمیونٹی دونوں نے کام چھوڑ دیا ہے‘ ملک کی معیشت تباہ ہو گئی ہے‘‘ وہ فوراً بولے ’’یہ نیب کے خلاف پروپیگنڈا ہے‘ میں نے وفاقی بیورو کریسی اور پنجاب بیورو کریسی دونوں کو یقین دلایا تھا آپ کے خلاف کوئی نوٹس جاری نہیں ہو گا‘ آپ کام کریں‘ میں نے تاجر اور صنعت کار برادری کو بھی پیشکش کی آپ کو اگر نیب کے خلاف کوئی شکایت ہو تو آپ فوراً میرے ساتھ رابطہ کریں‘ جاوید صاحب یقین کریں میری پیشکش کو آج چار ماہ اور 17 دن ہو چکے ہیں لیکن مجھے بیورو کریسی اور تاجر برادری دونوں کی طرف سے ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی‘ میں نے پورے نیب کو حکم جاری کر رکھا ہے یہ 17گریڈ سے اوپر کسی سرکاری افسر کو میری اجازت کے بغیر طلب نہیں کریں گے۔بزنس مین کمیونٹی کو بھی میری اجازت کے بغیر طلب کرنے سے روک دیا گیا ہے

چنانچہ یہ ہمارے خلاف سراسر پروپیگنڈا ہے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے استعمال نہیں ہو رہے‘ آپ حکومت کے مخالفین کو پکڑ لیتے ہیں اور حکومت کا ساتھ دینے والوں کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’میں پورے ملک کو چیلنج کر رہا ہوں میں نے اگر کسی ایم پی اے یا ایم این اے سے کہا ہو آپ فلاں کو چھوڑ کر فلاں کو جوائن کر لیں یا میں نے کسی عوامی نمائندے سے چائے کا ایک کپ بھی پیا ہو تو میں خود استعفیٰ دے کر گھر چلا جاؤں گا‘ آپ وہ شخص لے آئیں‘ میں عہدہ چھوڑ دوں گا‘‘ وہ رکے اور ذرا سا سوچ کر بولے ’’تاہم یہ درست ہے ہم اگر آج حکومت کے اتحادیوں کو گرفتار کر لیں تو یہ حکومت دس منٹ میں گر جائے گی لیکن خدا گواہ ہے ہم یہ حکومت کے لیے نہیں کر رہے‘ہم یہ ملک کے لیے کر رہے ہیں‘ ہمارے ایک قدم سے ملک میں خوفناک بحران پیدا ہو جائے گا‘ ملک کو نقصان ہو گا اور ہم یہ نہیں چاہتے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا حکومت اپنے اتحادیوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے‘‘ وہ ہاں میں سر ہلا کر بولے ’’یہ ان کی خواہش ہے لیکن میں حکومت کے دباؤ میں نہیں ہوں‘ میں صرف ملک کے مفاد میں خاموش ہوں لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں انکوائری یا ریفرنس تیار نہیں ہو رہے۔نیب کی تیاری مکمل ہے‘جلد یا بدیر حکومت کے اتحادیوں کے خلاف بھی کارروائی ہو گی‘‘(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں