22

آج کی سب سے بڑی خوشخبری : نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کا دائرہ بڑھا دیا گیا ، پنجاب کے کن 3 پسماندہ ترین اضلاع کو بھی شامل کر لیا گیا ؟ تازہ ترین خبر

لاہور(ویب ڈیسک ) پنجاب کے 3 مزید شہروں لیہ، بھکر اور خوشاب میں نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اگلے چند روز میں درخواستیں طلب کرنے کا آغاز کر دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ وزیر ہاؤسنگ محمودالرشید کی زیرصدارت پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹائون پلاننگ ایجنسی (پھاٹا) کی گورننگ

باڈی کے اجلاس میں کیا گیا۔ محمودالرشید نے ہدایت کی کہ ان تینوں شہروں میں نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کے تحت کم لاگت گھروں کی تعمیرکے آغاز کے حوالے سے انتظامات کو حتمی شکل دی جائے ۔ اجلاس کے دوران لاہور میں نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کی مجوزہ سائٹس کے حتمی انتخاب کیلئے 6رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ضلع راولپنڈی میں نئے شہر کے قیام کے حوالے سے رپورٹ تیار کرنے کیلئے بھی کمیٹی کا قیام عمل میں لایاگیا۔ یہ دونوں کمیٹیاں ایک ہفتے میں اپنی رپورٹ پیش کریں گی۔ محمود الرشید نے کہا کہ پھاٹا گورننگ باڈی کا اجلاس ہر 15 روز کے بعد بلایاجائے گا ۔ انہوں نے پھاٹا حکام کو ہدایت کی کہ پھاٹا بائی لاز میں ترامیم کے کام کو جلداز جلد مکمل کیا جائے ۔ اجلاس کے دوران نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کے ملتان پراجیکٹ کے ڈیزائن کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔ دوسری جانب خبر یہ ہے کہ سندھ لینڈ اینڈ پراپرٹی اتھارٹی قائم نہ ہوسکی، شمش الدین سو مروسینئر ممبر مقرر، اتھارٹی قیام کے کا مقد پراپرٹی ٹرانسفر کرانے میں مختیار کار اور رجسٹرار کا کردار کم کرنا تھا۔ تفصیلات کے مطابق صوبے میں اراضی اور پراپرٹی کو کمپیوٹرائزاڈ کرنے کیلئے 11سال بعد بھی سندھ لینڈ اینڈ پراپرٹی اتھارٹی کا بل پاس نہیں ہوسکا،اس منصوبے کو 11 سال گز گئے 2008 سے اراضی پر قبضے کی سر گر میاں شروع ہونے پر حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ صوبے کی تمام اراضی اور پراپرٹی کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے، اس پالیسی کے تحت کمپیوٹرائزاڈ کا م شروع ہوا،

اور آہستہ آہستہ کمپیوٹرائزڈ کا سلسلہ چلتا رہا اور منصوبہ 12 اپریل 2016 میں مکمل ہوگیا ، اراضی کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے بعد پیپلز سروس سینٹر قائم کئے گئے جس میں لوگ جا کر اپنی اراضی کی ویری فیکشن کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں ہر ضلع میں خوبصورت سہولتوں پر مبنی سینٹر قائم کئے ، کمپیوٹرائزاڈ منصوبے کے تحت صوبے کی 80 فیصد اراضی کمپیوٹر اپر آچکی ہے ، آئندہ دوسال میں 100 فیصد اراضی کمپیوٹرائزڈ ہوجائے گی ، لیکن اسکے باوجود اراضی پر قبضے کی سر گر میاں جاری ہیں، صوبے میں اراضی کے کمپیوٹرائزڈ منصوبے میں قانونی خلا ہے جس سے لینڈ مافیا فائدہ اٹھا رہی ہے ، حکومت سندھ نے پرویز مشروف کے دور حکومت میں اراضی کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے ساتھ سندھ لینڈ اینڈ پراپرٹی اتھارٹی کا بل پیش کیا تھا تاہم حکومت نے صوبے کی پراپرٹی اور اراضی کو محفوظ کرنے کیلئے تاحال اس بل کو منظور نہیں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں