32

پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرنے والے چینی لڑکوں کو کس نے پاکستان بلایا ؟ تحقیقاتی رپورٹ میں ملک کے بڑے بڑے نام سامنے آگئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی تحقیقات ادارے (ایف آئی اے) نے مقامی لڑکیوں سے چینی لڑکوں کی شادیوں کے معاملے میں تحقیق کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق چینی لڑکے 11کمپنیوں کی درخواستوں پر پاکستان آئے،ایف آئی نے ان بڑی کمپنیوں کا ریکارڈ طلب کرلیا۔جانچ پڑتال سے معلوم ہوگا کہ آنیوالے بزنس مین تھے یا نہیں۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کو چیمبر آف کامرس کے جعلی لیٹرز پر بھی چائنیز کو بلانے کی اطلاع ملی تھیں۔ایف آئی اے نےچیمبر آف کامرس سے بذریعہ خط تفصیلات مانگ لیں اور 11کمپنیوں کےلیٹرہیڈ پرآن ارائیول ویزوں کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔پاکستانی لڑکیوں کی چینی باشندوں سے شادی کے بعد انہیں چین اسمگل کرنے کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد سے ملک کے کئی شہروں سے متعدد چینی باشندے گرفتار ہو چکے ہیں۔اس کے ساتھ چینی باشندوں کے ساتھ جھوٹی شادیوں سے متاثرہ ہونے والی کئی پاکستانی لڑکیاں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔گزشتہ روز پاکستان میں چین کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان زاو نے بھی اس حوالے سے اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان کو تجویز دی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کو اپنی ویزہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے کیونکہ پاکستانی حکومت کی ویزا آن آرائیول پالیسی کا چند میرج بیوروز غلط استعمال کر رہے ہیں، یاد رہے کہ اس سے قبل بھی یہ ایک خبر تھی کہ چین نے کہا ہے کہ گزشتہ سال ہمارے پاس 142 ایسے کیسز آئے تھے جبکہ ان میں سے صرف چند کیسز میں ہی مسائل سامنے آئے۔ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان تمام کیسز کی ازسر نو چھان بین بھی کی جائے۔اس بات کی کھوج لگائیں کہ کوئی مسئلہ تو نہیں ہےاگر اس بارے میں ہمیں کوئی بھی شکایت ملی تو ہم مدد کریں گے۔ چین کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان زاو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس حوالے سے

ایک جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ اور میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی لڑکیوں کو چین میں زبردستی جسم فروشی کیلئے بھیجا جا رہا ہے یا پھر اعضا کی فروخت کیلئے مگر یہ مکمل طور پر غلط خبریں ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے اور یہ خبریں صرف سنسنی پھیلانے کیلئے ہیں۔ اگر آپ کے پاس ایسے کوئی ثبوت ہیں تو مجھے دکھائیں۔لی جیان زاو نے مزید کہا کہ اس سال چائنہ میں شادی کیلئے ویزوں کے کیسز میں خاصا اضافہ ہوا ہےاس سلسلہ میں ہم نے پاکستانی حکام کو الرٹ کیا ہے اور پاکستانی ادارے ایکشن لے رہے ہیں۔ اور اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ وفاقی تحقیقات ادارے (ایف آئی اے) نے مقامی لڑکیوں سے چینی لڑکوں کی شادیوں کے معاملے میں تحقیق کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق چینی لڑکے 11کمپنیوں کی درخواستوں پر پاکستان آئے،ایف آئی نے ان بڑی کمپنیوں کا ریکارڈ طلب کرلیا۔جانچ پڑتال سے معلوم ہوگا کہ آنیوالے بزنس مین تھے یا نہیں۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کو چیمبر آف کامرس کے جعلی لیٹرز پر بھی چائنیز کو بلانے کی اطلاع ملی تھیں۔ایف آئی اے نےچیمبر آف کامرس سے بذریعہ خط تفصیلات مانگ لیں اور 11کمپنیوں کےلیٹرہیڈ پرآن ارائیول ویزوں کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں