29

عمران خان کے ارد گرد موجود یہ مسخرے کپتان کی اصل پہچان اور کردار کو مسخ کر رہے ہیں ۔۔۔۔ توفیق بٹ نے بیباک طریقے سے سب کچھ کہہ ڈالا

لاہور (ویب ڈیسک) اپنے گزشتہ کالم میں، میں سیالکوٹ کی ایک ممتاز سماجی شخصیت کو یاد کررہا تھا، انسانی خدمات کے حوالے سے بھی وہ ایک چھوٹے عبدالستار ایدھی تھے، یہ امتیاز الدین ڈارتھے۔ وہ جب سیالکوٹ کے ڈپٹی میئر بنے سب سے پہلے شہر کو گندگی سے پاک کرنے کی کوشش کی

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ آپ کے اس فرمان مبارک کی دل وجان سے قدر کرتے تھے کہ ”صفائی نصف ایمان ہے “ ….وہ خود بھی ہمیشہ صاف ستھرے رہتے تھے، کردار کے اعتبار سے بھی گندگی کی کوئی ایک چھینٹ خود پر انہوں نے پڑنے نہیں دی، ہماری سیاست بذات خود ایک گندگی بن کر رہ گئی ہے ۔ کوئی کسی سے جھوٹ بول رہا ہو، کسی سے فراڈ کررہا ہو، کسی کو دغا دے رہا ہو، ہم اکثر اس کے لیے یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ وہ سیاست کررہا ہے ۔ امتیاز الدین ڈار نے اس سے بالکل مختلف سیاست کی۔ انہوں نے صحیح معنوں میں سیاست کو عبادت سمجھا، ایک طرف انہوں نے شہر کی سڑکوں ، گلیوںاور بازاروں میں پھیلی ہوئی گندگی صاف کرنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف ”سیاسی گندگی“ صاف کرنے کی بھی پوری کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے صاحبزادوں عمر ڈار اور عثمان ڈار کو میدان سیاست میں اُتارا جنہوں نے سیالکوٹ کے ایک سیاسی خواجہ کی پھیلائی ہوئی مختلف اقسام کی گندگیوں کو صاف کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ اپنے والد محترم کی زندگی میں ان کا ساتھ دیا بلکہ ان کی وفات کے بعد اس کارخیر کو باقاعدہ ایک مشن سمجھ کر اس پر اب تک اس انداز میں عملی پیرا ہیں مجھے یقین ہے اس گندگی کے مکمل صاف ہونے میں تھوڑا بہت جو فرق رہ گیا ہے اگلے الیکشن میں وہ بھی نکل جائے گا۔ کچھ ” خفیہ قوتیں “ اپنی مخصوص چال نہ چلتیں

یہ گندگی 2013کے الیکشن میں مکمل طورپر صاف ہو جاتی، مگر ہمارے ملک کی کچھ ”اصل قوتیں“ اس ملک سے مکمل گندگی شاید اس لیے صاف نہیں ہونے دیتیں کہ ایسی صورت میں ان کی ”انفرادیت “ کا قائم رہنا ذرا مشکل ہو جاتا ہے ۔ مرحوم امتیاز الدین ڈار نے اپنی سیاست یایوں کہہ لیں اپنی عملی سیاست کا آغازشاید نون لیگ کے پلیٹ فارم سے کیا تھا کہ قائداعظم کے ساتھ انہیں والہانہ محبت تھی۔ اس والہانہ محبت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے سیالکوٹ میں اپنی کروڑوں روپے کی جائیداد ایک (عمارت) کو انہوں نے ”جناح ہاﺅس“ میں تبدیل کردیا۔ قائداعظم ؒ کی انتہائی خوبصورت اور نایاب تصاویر دنیا بھر سے اکٹھی کرکے اس جناح ہاﺅس میں انہوں نے سجادیں، وہ دنیا بھر میں جہاں بھی جاتے قائداعظم ؒ کی کوئی تصوییر انہیں کہیں نظر آجاتی وہ منہ بولی قیمت پر اسے خرید لیتے اور جناح ہاﺅس کی زینت بنادیتے۔ جناح ہاﺅس کو قائداعظم کے سچے شیدائیوں کا انہوں نے باقاعدہ ایک ”ڈیرہ“ بنادیا تھا، یہ ڈیرہ اب بھی قائم دائم ہے ، بلکہ عثمان ڈار نے اسے اور بھی خوبصورت بنادیا ہے ، گزشتہ دنوں مجھے یہاں جانے کا اتفاق ہوا، مجھے یہ عمارت وزیراعظم ہاﺅس سے بھی زیادہ خوبصورت لگی۔ خوبصورتی کے لحاظ سے وزیراعظم ہاﺅس کا سیالکوٹ کے جناح ہاﺅس کا کوئی مقابلہ ہو جناح ہاﺅس بہت آگے کی چیز ہے ۔ عثمان ڈار وزیراعظم کے معاون خصوصی ہیں ، ان کا اپنا دفتر وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ہے ، مگر جوکمال ”جناح ہاﺅس“ میں ہے اور کہیں نہیں ہے اور جو سکون جناح ہاﺅس میں ہے وہ بھی اور کہیں نہیں ہے ۔

میں سوچ رہا تھا کسی روز مرحوم امتیاز الدین ڈار کے صاحبزادوں عامر ڈار، عمر ڈار، عثمان ڈار اور عمران ڈار سے یہ گزارش کروں جناح ہاﺅس کے ایک گوشے میں ایک لائبریری بھی قائم کردیں جہاں قائداعظم کی شخصیت اور کردار پر دنیا بھر میں لکھی جانے والی کتابیں موجود ہوں، ….جناح ہاﺅس میں سیاسی کارکنوں کا ایک میلہ ہروقت لگا رہتا ہے ، یہ لائبریری ان سیاسی ورکروں اور کارکنوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کرے گی آج کل جس طرح کے ہمارے نام نہاد سیاسی رہنما ہیں ، جِس طرح کے اُن کے کردار ہیں ، اپنے کارکنوں کی تربیت بھی اُنہوں نے ویسی ہی کی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں سیاست ہماری اخلاقیات سے کوسوں پرے نظر آتی ہے ، ہمارے سیاستدان اور ہمارے سیاسی کارکن اگر حقیقی معنوں میں قائداعظم ؒ کی زندگی سے سبق سیکھ لیں، اور اسے مشعل راہ بنالیں صرف اِسی صورت میں ہمیں ہمارا ”پرانا پاکستان “واپس مِل سکتا ہے جس میں سیاست بڑی مہذب ہوا کرتی تھی، ایک دوسرے کا لحاظ ہوا کرتا تھا۔ کوئی کسی کو گالی دیتا تھا نہ اخلاق سے گرے ہوئے الزامات ایک دوسرے پر لگائے جاتے تھے، سیاست میں بڑا رکھ رکھاﺅ ہوتا تھا، سیاستدان ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوئے تھے، ایک دوسرے کی دل سے عزت کرتے تھے، سیالکوٹ کے سیاسی خواجہ نے مرحوم امتیاز الدین کے ساتھ سیاسی طورپر بڑی زیادتیاں کیں جن کا تفصیلی ذکر میں گزشتہ کالم میں کرچکا ہوں، مگر مجھے یاد ہے ایک دن میری موجودگی میں مرحوم امتیاز الدین ڈار کے سامنے

کسی نے اُسے نامناسب الفاظ سے یاد کیا تو مرحوم ڈار صاحب بُرا مان گئے ، کہنے لگے ”ہماری سیاسی مخالفت اپنی جگہ مگر مجھے ہرگز یہ زیب نہیں دیتا میری موجودگی میں میرے سیاسی مخالف کو کوئی گالی دے ،میں اُسے برداشت کرلوں “ …. یہ ساری خوبصورتیاں یہ سارے اخلاقی تقاضے ”نئے پاکستان“ میں ہمیں دُور دُور تک دکھائی نہیں دیتے، نئے پاکستان میں ہمیں اور بھی بہت کچھ دکھائی نہیں دیتا جس کی ہم اُمید لگائے بیٹھے تھے، ….امتیاز الدین ڈار زندہ ہوتے وہ ضرور نئے پاکستان کے خالق سے یہ مطالبہ یا تقاضا کرتے ” ہمیں ہمارا پرانا پاکستان ہی واپس کردیں“ ….جو واقعی قائداعظم ؒکا پاکستان تھا، صرف دوتین سیاسی خاندان ، چند جرنیل اور جج ہیں جنہوں نے قائداعظم کے پاکستان کا حلیہ بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، انہوں نے قائداعظمؒ کے پاکستان کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ لیا تھا، بلکہ اب تک سمجھا ہوا ہے ۔ اُنہی کی وجہ سے پاکستان آج معاشی بدحالی کے بدترین مقام پر ہے اور بدقسمتی یہ ہے وزیراعظم عمران خان کو سمجھ ہی نہیں آرہی اس معاشی بدحالی سے اپنے ملک اور عوام کو کیسے باہر نکالے ؟ سارے مسخرے اُن کے اردگرد اکٹھے ہیں جس میں ان کا اپنا کردار بھی مسخ ہوتا جارہا ہے ۔ مرحوم امتیاز الدین ڈار فرماتے تھے ”عمران خان کی صورت میں پاکستان کو نیا قائداعظم مِل گیا ہے “ شکر ہے وہ ”نئے پاکستان “ کے قیام سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہوگئے ورنہ خان صاحب کے بارے میں اپنے خیالات اور جذبات اُنہیں شاید واپس لینے پڑ جاتے۔ وہ قول اور زبان کے بڑے پکے تھے۔ یہ عمل اُن کے لیے یقیناً بڑا تکلیف دہ ہونا تھا۔ مرحوم ڈار صاحب کے لیے مجھے ایک شعر یاد آرہا ہے ۔ ”لوگ اچھے ہیں بہت دِل میں اُتر جاتے ہیں …. اِک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مرجاتے ہیں “ !!(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں