769

نواز شریف کا قصہ ختم : اب بیانیہ واپس نہیں آنے والا کیونکہ ۔۔۔۔۔۔ صف اول کے صحافی نے ٹھوس دلائل پیش کر دیے

لاہور (ویب ڈیسک) مریم نواز شریف کی ٹویٹ نے چونکا دیا ’’نواز شریف دوبارہ آئے گا‘ انشاء اللہ اور جلد آئیگا‘‘ پہلے تو مجھے مغالطہ ہوا کہ ٹویٹ میاں شہباز شریف کے بارے میں ہے جو گزشتہ ماہ بیرون ملک گئے تھے اور اب تک واپس نہ آنے پر مخالفین نے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے کہ

نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کا قیام طویل ہو گا مگر ٹویٹ دو تین بار پڑھا تو یقین آیا کہ یہ میاں نواز شریف کے بارے میں ہے۔ میاں نواز شریف تادم تحریر جاتی امرا میں ہیں‘ حکومت نے ان کا نام ای سی ایل میں ڈال رکھا ہے‘ عدالت عظمیٰ نے انہیں علاج معالجے کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی اور عدالتی فیصلے کے مطابق آج رات کو ایک بڑے جلوس کے ساتھ کوٹ لکھپت جیل میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں‘ تو پھر مریم نواز شریف کے ٹویٹ کا مدعا کیا ہے؟ جیل سے واپسی تو اس صورت میں ممکن ہے کہ انہیں ایک بار پھر ضمانت ملے یا اپیل منظور کرتے ہوئے عدالت عالیہ ان کی رہائی کا حکم دے‘ ظاہر ہے عدالت میں زیر سماعت مقدمے کے حوالے سے مریم نواز شریف کوئی پیش گوئی کر سکتی ہیں نہ ان کے فاضل وکیل خواجہ حارث‘ اسے محض طفل تسلی بھی قرار نہیں دیا جا سکتا کہ مسلم لیگی رہنما اور کارکن اب طفل تسلیوں سے بہلنے والے نہیں۔ شیر آیا‘ شیرآیا کی تکرار کے بعد شیر کے پنجرے میں بند ہونے کا منظر دیکھ کر وہ کافی مایوس ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر اس ٹویٹ اور مسلم لیگ(ن) کی تنظیم نو میں گہرا ربط نظر آتا ہے۔2000ء میں جب لبنانی وزیر اعظم رفیق الحریری اور سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ کی کوششوں سے شریف خاندان اور فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے مابین معاہدہ طے پایا جس کے تحت شریف خاندان نے

دس سال تک کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے اور یہ عرصہ بیرون ملک گزارنے کا عہد کیا تو حفظ ماتقدم کے طور پر مسلم لیگ (ن) کی تنظیم نو ہوئی راجہ ظفر الحق کو چیئرمین کا نمائشی عہدہ دے کر قائم مقام صدر کا منصب باغی مخدوم جاوید ہاشمی کو سونپا گیا اورمرکز و صوبوں میں چن چن کر ان لوگوں کو تنظیمی عہدے تفویض کئے گئے جو معروف معنوں میں عقاب صفت تھے‘ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور احتجاجی سیاست کے خوگر۔ خواجہ سعد رفیق‘ مشاہد اللہ خان‘ اقبال ظفر جھگڑا‘ احسن اقبال ‘ جاوید لطیف اور صدیق الفاروق نے شریف خاندان کی رضاکارانہ جلاوطنی کے دوران خوب رونق لگائے رکھی ‘ لاہور میں سابق صدر جسٹس(ر) رفیق تارڑ نے علالت اور ضعیفی کے باوجود خواجہ سعد رفیق و جاوید لطیف کا ساتھ دیا۔ عقاب صفت افراد کو عہدے سونپ کر میاں نواز شریف نے ایک تو مسلم لیگی کارکنوں کو متحرک رکھا‘ اپنی مصلحت اندیشی‘ موقع پرستی اور بیرون ملک فرار و بزدلی کے تاثر کی پردہ پوشی کی اور سب سے بڑھ کر ان رہنمائوں کی عوامی ساکھ کا فائدہ اٹھایا‘ بظاہر چالاک و جہاندیدہ سیاستدان آٹھ سال تک اپنے کارکنوں اور عوام کو یہ یقین دہانیاں کراتے رہے کہ شریف خاندان عوامی حقوق کی پاسداری اورجمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے جلا وطن ہوا جبکہ میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ سرور پیلس میں شاہی مراعات کے مزے اڑاتے اور العزیزیہ کے کاروبار کو وسعت دیتے رہے۔ سید غوث علی شاہ‘ سید مشاہد حسین اور دیگر زیر عتاب عہدیدار اگرچہ خفیہ ڈیل

اور راتوں رات رضا کارانہ جلاوطنی پر تلملائے بہت مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ تنظیم نو اور مریم نواز کی ٹویٹ کو ملا جلا کر دیکھا جائے تو صورت حال اب بھی 2000ء سے مختلف نہیں۔ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ سپریم کورٹ میں بیرون ملک علاج کے لئے رحم کی اپیل کے نیچے دب گیا ہے اور جیل واپسی کا تصور ہی دل کوہلکان کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے اور تنظیم نو میں عقاب صفت رہنمائوں کو آگے لانے کی حکمت عملی سے جو دانشور اور تجزیہ کار ڈیل اور ڈھیل کے امکانات ختم ہوتے دیکھ رہے ہیں ‘انہیں عمران خان کی حالیہ تقریروں ‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی اور پارٹی اجلاسوں میں خواجہ سعد رفیق اور میاں جاوید لطیف کی جھنجھلاہٹ پر غور کرنا چاہیے۔ اگر یہ اطلاع درست ہے کہ شریف خاندان کی سربراہ محترمہ شمیم اختر اپنے بیٹوں اور پوتوں‘ پوتیوں کو میاں محمد شریف مرحوم کی طرح’’جان بچانا فرض ہے‘‘ کا سبق یاد کرانے میں مشغول ہیں اور شریف خاندان کے کچھ افراد جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے عمران خان کے ایک قریبی ساتھی کے ذریعے جان کی امان مانگ رہے ہیں تو پھر تنظیم نو کا مطلب پنجابی محاورے کے مطابق ’’سجی دکھا کر کھبی مارنا‘‘(دایاں دکھا کر بایاں مارنا) اور مریم نواز کا ٹویٹ کارکنوں کو کسی ڈیل اور جلا وطنی کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنا ہے۔ اگر شریف خاندان مطلوبہ رقم پلی بارگین کے ذریعے حکومت پاکستان کو دینے پر راضی ہوجاتا‘ قطر کے ذریعے درپردہ ادائیگی پر اصرار نہ کرتااور محترمہ مریم نوازشریف کے سیاسی کردار کی ضد چھوڑدیتا

تو اب تک آسودگی سے ہمکنار ہوتا۔میاں شہباز شریف کا خاندان نواز شریف سے زیادہ مشکل کا شکار ہے اور منی لانڈرنگ کے الزامات نے شہباز شریف کی یہ بات سچ ثابت کر دی ہے کہ اگر برادر بزرگ اپنی صاحبزادی کے مشورے پر ضد و ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے رہے تو پورا خاندان صرف سیاست نہیں کاروبار اور دولت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ نیب منظور پاپڑ والے اور مشتاق چینی والے تک پہنچ چکی‘ قاسم قیوم اور فضل داد گرفتار ہیں اور باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں‘ شریف خاندان کے پاس ڈیل کے سوا چارہ کار کیا ہے؟ پیپلز پارٹی کسی قسم کی احتجاجی تحریک پر آمادہ نہیں کہ اسے مضمرات کا اندازہ ہے۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ فوجی ادوار نے اسے بہت کچھ سجھا‘ سمجھا دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور منظور پشتین مسلم لیگ (ن) کی احتجاجی تحریک کا حصہ بن سکتے ہیں مگر اس کی بھاری قیمت چکانے کے لئے راجہ ظفر الحق اور شاہد خاقان عباسی تیار ہوں گے نہ خواجہ آصف اور مفتاح اسمٰعیل۔ رمضان المبارک اور مئی جون کی گرمی میں تحریک کا خواب کوئی دیوانہ ہی دیکھ سکتا ہے اور سابقہ تجربے کے پیش نظر مسلم لیگ میں دیوانے اب عنقا ہیں۔چوری کھانے والے مجنوئوں کی بھرمار ہے‘ نیب اور ایف آئی اے کے بعد پنجاب میں اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ بھی متحرک ہے اور دس سالہ دور اقتدار کا حساب دینا آسان نہیں۔ جذباتی کارکن اور مزاحمتی سیاست کے علمبردار اگر شریف خاندان کی جگہ اپنے آپ کو رکھ کر سوچیں تو

انہیں صورتحال کا درست ادراک ہو گا۔ خاندانی غلامی کے خوگر سیاستدان اور کارکن جب نعروں سے بہل جاتے ہیں اور دانشور وتجزیہ کار بدترین موقع پرستی‘ بزدلی اور فرار کو خوشنما الفاظ کا جامہ پہنانے اور ظلمت کو ضیا‘ صر صر کو صبا بندے کو خدا لکھنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں تو صعوبتوں کو گلے لگانے اور دولت کے زیاں کا خطرہ مول لینے کی کیا ضرورت ؟۔ جدہ روانگی کے موقع پر بیگم کلثوم نواز نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ہمیں حجاز مقدس سے بلاوا آیا ہے ‘ خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ‘ اب بھی شائد ڈیل‘ جلا وطنی اور بلاوے کے لئے نیا بیانیہ اور اچھا سا شعر زیر غور ہو‘ لوگ پوچھتے ہیں کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے دور میں شریف خاندان ڈیل کا کیا جواز تراشے گا؟ عمران خان قوم اور کارکنوں کو کیا جواب دیں گے ؟اور آزاد و فعال عدلیہ کے بغیر یہ مرحلہ شوق کیسے طے ہو گا؟ بجا مگرپلی بارگین کا قانون‘ معافی(Pardon)کا صدارتی اختیار اور قومی استحکام و سلامتی کے تقاضے بھی ہمارے آئینی‘ قانونی اور سیاسی نظام و معمولات کا حصہ ہیں اور بوقت ضرورت ہمارے حکمران و سیاستدان اس سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیںاب رکاوٹ کیا ہے؟۔ مریم نواز نے عوام اور کارکنوں کو بتا دیاکہ ’’ نواز شریف واپس آئیگا‘ انشاء اللہ اور جلد آئیگا‘‘۔ اب یہ ان کے عقل و شعور کا امتحان ہے کہ میاں صاحب کہاں سے واپس آئیں گے؟ جیل سے یا کہیں اور سے؟خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں۔ (ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں