1,384

اس سورت کو پڑھنے سے آپ کی سات نسلوں کو رزق کی کمی نہیں ہو گی

ایک دفعہ پڑھے گا تو اگرکھانے کے اندرزہربھی ملا ہوگا تو وہ اثر نہیں کرے گا۔ کھانا فوڈ پوائزن نہیں بنے گااوروہ کھانا بیماری نہیں بنے گا، صحت بنے گا۔وہ کھانا اُسے گناہوں کی طرف مائل نہیں کرے گا۔نیکی کاذریعہ بنے گا۔ورجو دوسری دفعہ سورہ قریش پڑھے گا اللہ پاک جل شانہ اس کو

ایسا دسترخوان سدا دیتا رہے گا ، بہترین، اچھے سے اچھا عطا فرماتے رہیں گے ظاہر ہے روزی سکھی ہوگی تو دسترخوان اچھا ہوگا ۔اور جو تیسری مرتبہ سورہ قریش پڑھے گا اللہ اس کی سات نسلوں کو بھی لاجواب کھانے دسترخوان رزق دیتے رہیں گے۔آنحضرت دیتے رہیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی ؓکو وصیت کرتے ھوئے فرماتے ہیں :اے علی ! کھانے کی ابتدا بھی نمک سے کرو اور اختتام بھی نمک ، چونکہ نمک میں ستر بیماریوں کا علاج ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں:1-پاگل پن، 2- جزام(کوڑھ) ، 3-برص، یعنی جلد پر سفیدداغ بن جانا، بلکہ بعض کےتو بال اور پوری جلد بھی سفید ھوجاتی ہے. 4-گلے میں درد، 5 -دانتوں میں درد6- اور پیٹ میں درد، امام جعفرصادق رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: جو چاھتا ہے کہ اس ےمنہ پر سے کیل اور دانے ختم ھوجائیں اسے چاہیئے کہ کھانا کھاتے وقت پہلے لقمہ پر تھوڑا سا نمک چھڑک لے.حضرت علی رضی نے اپنےساتھیوں سے پوچھا : بتاؤ بھترین ہانڈی (سالن) کیا ہے ؟ تو ایک نے کہا: گوشت. دوسرے نے کہا : گھی. تیسرے نے کہا زیتون کاتیل، یہاں تک آپ نے خود فرمایا : نہیں ، بہترین غذا نمک ہے .راوی کہتا ہے ایک دفعہ ھم حضرت علی رضی کے ساتھ سیر کے لئے باہر نکلے، چنانچہ آپ کا خادم نمک لے جانا بھول گیا تو ھم سب بغیر کچھ کھائے واپس آگئے. یعنی حضرت اس قدر پابند تھے کے نمک سے ابتدا اور اختتام فرماتے تھے. چونکہ اس سفر میں نمک ھمراہ

نہیں تھا لھذا آپ نے واپس آکر کھانا تناول فرمایا.آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں :جو کوئی بھی کچھ کھانے سے پہلے اور آخر میں تھوڑا سا نمک کھالیتا ہے تو خداوند عالم اس سے 330 بلاؤں کو دور فرما دیتا ہے. جن میں سے کمترین جذام ہے.عید الاضحیٰ کو پکوانوں کا تہوار کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، کیونکہ ہر ایک ہی مختلف طرح کے کھانوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ مگر کیا آپ اس عید ایک ایسا پکوان کھانا پسند کریں گے جو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پسندیدہ ترین پکوان تھا؟اگر ہاں تو ثرید نامی پکوان کو کبھی کھا کر آپ نے دیکھا جو عام طور پر شوربے میں روٹی کو بھگو کر تیار کیاجاتا ہے۔اس حوالے سے کئی احادیث بھی موجود ہیں جیسے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ‘حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا محبوب ترین کھانا روٹی کا ثرید تھا’۔ (ابو داؤد شریف)اسی طرح صحیح بخاری میں آیا ہے ‘عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر’یہ زودہضم ہونے کی وجہ سے نظام ہاضمہ کے لیے بھی بہترین ہے، جبکہ اس کے دیگر فوائد بھی ہیں اور کچھ افراد کے خیال میں یہ طبیعت مالش ہونے پر بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ثرید کے لیے درکار اجزاء600 گرام بون لیس بھیڑ یا گائے کا گوشت جسے چھوٹی بوٹیوں میں کاٹ لیںلوکی کا آدھا حصہ جسے ٹکڑوں میں کاٹ لیںدو کھانے کے

چمچ زیتون کا تیلایک بڑے سائز کی پیاز، جسے اچھی طرح کاٹ لیںلہسن کی تین سے چار پوتھیاں، اچھی طرح کاٹ لیںادرک کا آدھا انچ کا ٹکڑا، اچھی طرح کاٹ لیںایک چائے کا چمچ ٹماٹر کا پیسٹایک بڑے سائز کا ٹماٹر، جسے کاٹ لیںنمک اور کالی مرچ حسب ذائقہ1/4 چائے کا چمچ ہلدی1/4 چائے کا چمچ سرخ مرچ پاؤڈر1/4 چائے کا چمچ گرم مصالحہ پاؤڈر1/4 چائے کا چمچ دھنیا پاؤڈر1/4 چائے کا چمچ زیرہ پاؤڈر ایک چائے کا چمچ دہی ایک لیٹر ابلا ہوا پانی پکانے کا طریقہ زیتون کے پکانے کے برتن میں ڈال کر چولہے پر رکھ دیں اور پھر اس میں پیاز، لہسن اور ادرک کا اضافہ کریں، انہیں اس وقت تک تلیں جب تک ہلکے سے گولڈن رنگ کے نہ ہوجائیں۔اس کے بعد اس میں مصالحے ڈالر کر اس مکسچر کو ایک منٹ تک پکائیں۔اس پر ٹماٹر کا پیسٹ اور کٹے ہوئے ٹامٹر ڈال دیں جبکہ حسب ذائقہ نمک اور معمولی سا پانی بھی۔ اس مکسچر کو اس وقت تک پکائیں جب تک ٹماٹر پیسٹ کی شکل اختیار نہ کرلیںاور تیل مکسچر سے الگ نہ ہوجائے۔ اس کے بعد گوشت کا اضافہ کریں اور چولہے کی آنچ بڑھا دیں، جبکہ مکسچر کو چمچ سے ہلاتے رہیں۔اس کے بعد ابلے وئے پانی کا اضافہ کرکے اسے ابلنے کے لیے رکھ دیں، جب یہ ابل جائے تو آنچ کو ہلا کرکے برتن کو ڈھانک دیں اور گوشت کو اس تک پکائیں جب تک وہ گل نہ جائیں۔جب گوش گل جائے تو اس میں دہی اور لوکی کو ڈال کر مزید پندرہ منٹ تک پکائیں۔جب سالن پک جائے تو چولہا بند کرکے دھنیا پودینا سے اسے سجائیں اور چپاتی یا روٹی توے پر تیار کرکے ٹکڑے کریں اور پلیٹ میں رکھ دیں۔اب اس کے اوپر ثرید کو ڈالیں اور گرم گرم ہی پیش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں