168

بیٹا تمھاری آج سہاگ رات ہے، کمرے میں جانے سے پہلے ایک ربڑ لے کر آو کیونکہ۔۔۔۔۔ ایک باپ کی اپنے بیٹےکی شادی پر مبنی سبق آموز رواداد

ایک نوجوان کی شادی ہوتی ہے وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے کہ وہ اس کے اس نئے ازدواجی سفر کے لیے برکت کی دعا کرے جب وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے اس کا والد اُس سے ایک کاغذ اور قلم مانگتا ہے لڑکا کہتا ہے : کیوں ابا جان ؟اس وقت

تو میرے پاس قلم اور کاغذ نہیں.باپ کہتا ہے : تو جاؤ ایک کاغذ ،قلم اور ربڑ خرید کر لاؤ لڑکا شدید حیرانگی کے ساتھ جاتا ہے اور مطلوبہ چیزیں لیکر آجاتا ہےاور اپنے باپ کے پاس بیٹھ جاتا ہے باپ : لکھو، کیا لکھوں؟ جو جی چاہے لکھو، نوجوان ایک جملہ لکھتا ہے، باپ کہتا ہے : اسے مٹا د و نوجوان مٹا دیتا ہے باپ : لکھو بیٹا : خدارا آپ کیا چاہتے ہیں ؟ باپ کہتا ہے : لکھو نوجوان پھر لکھتا ہے باپ کہتا ہے :مٹا دو، لڑکا مٹا دیتا ہے باپ پھر کہتا ہے : لکھو نوجوان کہتا ہے : اللہ کے لیے مجھے بتائیں یہ سب کچھ کیا ہے؟ باپ کہتا ہے : لکھو، نوجوان لکھتا ہے ، باپ کہتا ہے مٹا دو .لڑکا مٹا دیتا ہے پھر باپ اُ س کی طرف دیکھتا ہےاور اُسے تھپکی دیتے ہوئے کہتا ہے : بیٹا شادی کے بعد اریزر کی ضرورت ہوتی ہے اگر ازدواجی زندگی میں تمہارے پاس ربڑ نہیں ہو گا جس سے تم اپنی بیوی کی غلطیاں اور کوتاہیاں مٹا اور معاف کر سکو اور اسی طرح اگرتمہاری بیوی کے پاس ایریزر نہ ہوا جس سے وہ تمہاری غلطیاں اور ناپسندیدہ باتیں مٹا سکے اگر یہ سب کچھ نہ ہوا تو تم اپنی ازدواجی زندگی کا صفحہ چند دنوں میں کالا کر لو گے. جبکہ دوسری جانب ایک واقعہ کے مطابق اگرچہ پاکستان اور ہندوستان کو جدا ہوۓ نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اس کے باوجود ان کے رابطوں اور

تنازعات کی شدت میں کمی نہیں آسکی .ہنوستان کے اندر اس وقت بھی ایک بڑی تعداد مین مسلمان آباد ہیں .جن کے ساتھ ہندوستان کے ہندووں کا سلوک انتہائی جاہلانہ اور ظالمانہ ہے . ہندوو کا یہ ماننا ہے کہ جب مسلمانوں نے اپنے لیۓ اسلام کے نام پر وطن حاصل کر لیا ہے تو وہ وہیں جا کر اباد کیون نہیں ہو جاتے جب کہ دوسری جانب مسلمانوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ صدیوں سے جس علاقے میں رہائش پزیر ہیں اس کو کیوں چھوڑیں .دونوں مزاہب کے بیچ اس تفاوت کے سبب مزہبی شدت پسندی میں بہت اضافہ ہوا ہے .اسی سبب ایک چھوٹا سا عمل بھی جو کہ دوسرے مزہب کے رجحان یا جھکاؤ کی طرف اشارہ دے دونوں جانب کے مزہبی رہنماؤں کو غصب ناک کر دیتا ہے .ایسے ہی کچھ واقعات ہندوستان کی دو لڑکیوں کو بھی پیش آۓ ان میں سے ایک لڑکی مریم جو کہ چھٹی جماعت کی طالبہ تھی اس نے ہندؤں کی مذہبی کتاب گیتا کے بارے میں ایک معلوماتی مقابلے میں حصہ لیا اور ایک ہزار ہندو طالب علموں میں پہلا انعام حاصل کیا . جب کہ دوسری طالبہ جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی دسویں جماعت کی طالبہ ہے اس نے ایک مقابلے میں بھگوت گیتا کے اشلوک پڑھے اور ہندوستانی دیوی گیتا کا روپ دھارا .مسلمان لڑکیوں کے اس عمل نے ہندوستان کے علما کو غصب ناک کر دیا اور انہوں نے ان لڑکیوں کے اسلام سے خارج ہونے کے فتوۓ جاری کر دیۓ .دوسری جانب ان لڑکیوں کا یہ کہنا ہے کہ ان کا یہ عمل کسی صورت یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ دین اسلام چھوڑ رہی ہیں وہ مسلمان تھیں اور مسلمان رہیں گی .ان کو مذہب ے نام پر ہونے والی اس سیاست میں نہ الجھایا جاۓ . وہ طالب علم ہیں ان کا کام پڑھنا ہے کسی سیاست کا حصہ بننا نہیں ہے . اس فتوی کے بعد ہندو مزہبی شدت پسند بھی ان لڑکیوں کی حمایت مین سامنے آگۓ ہیں اور ہندوستان میں جہاں پہلے ہی مذہبی شدت پسندی اپنے عروج پر ہے ایک نئی جنگ کا آغاذ ہو گیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں