149

اپنے مالکوں کو چیلنج کرنے اور تماشہ کرنے سے انکار کر نے والے گھگو گھوڑے کو تبدیل کر دیا جاتا ہے ، اب ہو گا کیا کہ ۔۔۔۔۔ معنی خیز طریقے سے پیشگوئی کر دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) پھر ایسا ہوا کہ زمانہ تبدیل ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی گھگو گھوڑے بھی تبدیل ہو گئے ۔ ہم اپنے بچپن میں ان گھگو گھوڑوں کے ساتھ کھیلتے۔ ان کے تماشے دیکھتے اور ہمارے بچپن میں صرف گھگو گھوڑے ہی نہیں تھے جو ہماری دلچسپی کا سامان تھے۔

نامور کالم نگار طارق احمد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہمارے تجسس کا باعث تھے جو ہمیں حیران کرتے۔ کبھی محظوظ کرتے، کبھی متحیر کرتے، کبھی مبہوت کرتے۔ ہمارا گھر متوسط طبقے سے تھا بلکہ متوسط سے بھی ایک درجے نیچے جبکہ ہماری تعلیم، صحت، خوراک اور رہائش کے خرچے زیادہ تھے۔چنانچہ اپنے گھر کے مفاد کے نام پر ہمیشہ قربانی دینی پڑی اور سارا بچپن ان گھگو گھوڑوں کے کھیل تماشوں میں گزر گیا۔ ان گھگو گھوڑوں کے علاوہ ہمارے بچپن میں ایک کردار بہروپیے کا بھی تھا۔ اس نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوتے۔ جگہ جگہ رنگ دار پٹیاں کی ہوتیں۔ سر اور چہرے اور کپڑوں پر سرخ رنگ انڈیلا ہوتا۔ جیسے ابھی ابھی کہیں لڑ کر آ رہا ہو اور خون سے لتھڑا ہو۔ ہاتھ میں ہتھیار کی مانند اینٹ پکڑی ہوتی۔ اپنی ہیت کزائی سے خوفناک نظر آتا اور عام لوگوں کو اینٹ مارنے کی دھمکی دے کر ان سے پیسے اینٹھ لیتا۔ سچی بات ہے۔ ہم بہت سادہ تھے اور گھگو گھوڑے بنانے والوں اور بہروپیوں کے دھوکے میں آ جاتے۔ بہروپیے جتنے ڈراونے ہوتے۔ گھگو گھوڑے اتنے ہی پرکشش ہوتے لیکن دونوں کا کام عام لوگوں کی جیب سے پیسے نکلوانا ہوتا۔ ایک ڈرا کر ، دوسرا ہنسا کر، یوں دونوں اصل میں ایک ہی تھے۔ردی کاغذوں اور بھوسے سے بنے ان گھگو گھوڑوں کو خوشنما اور دیدہ زیب رنگوں سے مزین کرکے مارکیٹ میں لایا جاتا اور سادہ دل اور بھولے لوگ انہیں دیکھتے اور خوشی اور مسرت سے تالیاں بجاتے۔ وہ عجیب زمانے تھے۔ایک طرف بہروپیے تھے تو

دوسری طرف دولے شاہ کے چوہے بھی وافر تعداد میں نظر آ جاتے جن کے سروں پر لوہے کی ٹوپیاں چڑھا کر سر چھوٹے اور لمبوترے کر دیے جاتے تھے اور پھر انہیں بھیک مانگنے پر لگا دیا جاتا تھا۔ ان بہروپیوں اور دولے شاہ کے چوہوں کے ساتھ ساتھ گھگو گھوڑوں کی بہتات تھی اور ہمارے کھیل تماشے تھے۔جیسے باندر کلہ ، تارم تارا ، لمیاں گھوڑیاں ، یسو پنجو اور چیچو چیچ گنڈیریاں دو تیریاں دو میریاں اور ان کھیل تماشوں میں پتہ ہی نہ چلا۔ کب زمانہ غضب کی چال چل گیا۔ کب رنگین ٹی وی آیا۔ہمارے پاس تو بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی تھا جسے تھپڑ مارتے تھے تو چلتا تھا۔ جب ہاتھ دکھنے لگا تو جوتی سے کام چلانے لگے۔ کب وی سی آر آیا۔ کب انٹر نیٹ کا آغاز ہوا۔ کب ایک ایک فٹ لمبے موبائل فون آئے۔ کب فیس بک آئی۔ کب ای میل سسٹم شروع ہوا۔ کب گوگل بھائی جان نے آفت مچانا شروع کی۔ کب سمارٹ فون نے اوور سمارٹ کاموں کا آغاز کیا اور کب سوشل میڈیا نے عام لوگوں کے ذہن تبدیل کرنا شروع کیے۔ ہوش آئی تو پتا چلا۔ ہمارے بچپن کے گھگو گھوڑے اب نہیں رہے۔ لوگ سمجھ دار ہو گئے اور گلیاں اور بازار ان گھگو گھوڑوں سے خالی ہو گئے ۔ دولے شاہ کے چوہے بھی اب خال خال نظر آتے۔ سر عام بہروپیوں کا دھندہ بھی مندا پڑ گیا۔ انٹرنیٹ اور گوگل اور سوشل میڈیا نے بتایا۔ زمانہ ماڈرن ہو گیا۔ سوچ جدید ہو گئی۔ ذہن سائنٹفک اور جمہوری ہو گئے ۔

دماغ کھل گئے اور روشن ہو گئے ۔ زمانے نے زقند بھری اور ترقی یافتہ اور مہذب کہلایا۔ اور چیزوں کی اصلیت اور حقیقت تک پہنچ گیا۔ گھگو گھوڑوں کے اندر بھرا بھوسہ اور ردی کاغذ نظر آنے لگے۔ دولے شاہ کے چوہوں پر چڑھے لوہے کے خود عیاں ہو گئے اور بہروپیوں کی عیاری ظاہر ہونے لگی۔ کسی نا معلوم تبدیلی سے گھگو گھوڑے جی اٹھے۔ ان کی کایا کلپ ہو گئی اور وہ اپنے مالکوں کو آنکھیں دکھانے لگے۔ مالکوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ تھا۔ وہ سر جوڑ کر بیٹھے اور اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کے لیے ایک چپ بنا ڈالی اور یہ چپ انہوں نے تیار کردہ تازہ ترین گھگو گھوڑے کے دماغ میں فٹ کر دی اور یہ چپ کیا تھی۔ اس نے اس گھگو گھوڑے کی وہ صلاحیت ہی ختم کر دی کہ وہ کبھی مزاحمت کرے۔ اپنے مالکوں کو چیلنج کرے اور تماشہ کرنے سے انکار کر دے۔ مالک خوش تھے اور بے خوف بھی ہو گئے لیکن یہی ان کی غلطی تھی۔ فیصلے کا مغالطہ تھا۔ یہ تازہ ترین گھگو گھوڑا دیکھنے میں اسمارٹ تھا لیکن برتنے اور استعمال کے نا قابل تھا۔ خوش نما رنگوں سے مزین یہ گھگو گھوڑا اندر سے زنگ آلود تھا اور اس نے کما کر دینے سے انکار کر دیا۔ دراصل اس میں کمانے کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ وجہ یہ تھی۔ زمانہ ترقی کر گیا تھا لیکن گھگو فیکٹری کے مالک آج بھی پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں کے مٹیریل سے یہ گھگو گھوڑے تیار کر رہے تھے اور انہیں نئے اور جدید کور میں لپیٹ کر ماڈرن اور ترقی یافتہ اور مہذب دنیا کو بیچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ گھگو فیکٹری کے یہ مالک خود ذہنی طور پر گھگو گھوڑے تھے جو آج بھی پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں زندہ تھے اور اپنا کاروبار چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔ورنہ انہیں معلوم ہوتا اس جدید دور میں اب ان گھگو گھوڑوں کا کوئی خریدار نہیں۔ ان مالکوں نے ایک آخری کوشش کے طور پر انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا پر اور ٹی وی ٹاک شوز پر گھگو گھوڑوں، دولے شاہ کے چوہوں اور بہروپیوں کی ایک تعداد تیار کر لی تھی جو ان کی پروڈکٹ کے خریدار تھے لیکن جیسا میں نے پہلے کہا۔ تازہ ترین گھگو گھوڑا تیار کرتے وقت ان سے فیصلے کی جو غلطی ہوئی۔ اس نے جہاں خریداروں کی آنکھیں کھول دیں۔ خود مالکوں کو بھی اپنی غلطی کا شدید احساس ہو رہا ہے۔ یہ گھگو گھوڑے نما مالک اس سے کیا سبق حاصل کرتے ہیں۔ کچھ کہنا مشکل ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے۔ اب گھگو گھوڑوں کا زمانہ نہیں رہا۔ گھگو گھوڑوں کا خریدار نہیں رہا۔ کب تک گھگو فیکٹری اپنا اور اپنے گھر کا نقصان کرواتی رہے گی۔ خسارہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں