293

تحریک انصاف کو اسد عمر کی یاد ستانے لگی : وزارت خزانہ تو کچھ بھی نہیں تھی ۔۔۔ اسد عمر کو منا کر کون سی اہم ترین وزرات دی جانے والی ہے؟ شاہ محمود قریشی نے خبر بریک کر دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ اسد عمر تحریک انصاف کے قابل فخر سپوت ہیں، اسدعمر بنیادی طور پر سیاستدان نہیں ٹیکنو کریٹ ہیں۔دنیا نیوز کے پروگرام ”دنیا کامران خان کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ وزراکوتبدیل کرنا

وزیراعظم کاصوابدیدی اختیارہے،اسدعمربنیادی طورپرسیاستدان نہیں،ٹیکنوکریٹ ہیں، مشیرخزانہ حفیظ شیخ بھی ٹیکنوکریٹ ہیں، اسدعمرپی ٹی آئی کے قابل فخرسپوت ہیں،ہرجدوجہدکاحصہ رہے، تحریک انصاف کواسدعمرکی ضرورت تھی اوررہےگی، سوشل میڈیاپراسدعمرکیخلاف غیرذمہ دارانہ گفتگوسے تکلیف ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ اسدعمرکے استعفیٰ کے دن ہی میں نے ان کی خدمات کوسراہاتھا، اسدعمرکوسوچناچاہئے کہ پاکستان کوان کی ضرورت ہے،معاشی فیصلے مشیرخزانہ حفیظ شیخ ہی کریں گے، حفیظ شیخ جس سے مناسب سمجھیں مشاورت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکنوکریٹس اورمنتخب نمائندوں کے حسین امتزاج کی کوشش کی ہے ۔ معشیت سے جڑے تمام امور سدھارنے کے لئے عمران خان نے 5 ماہرین کا بورڈ تشکلخ دیا ہے شوکت ترین شبرزیدی سابق گورنر اسٹٹ بنکر سلما رضا International Bankers صادق سعدد اور شرق اعظم مزاری مشاورتی بورڈ کے ممبرز ہںا، جہانگرھ ترین اس فورم کے کنوینرہوں گے، فورم وزیراعظم کی رہنمائی کرے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کابنہن مںم ڈرامائی تبدیاBaں کی ہں اس سے پہلے ایک بحث سامنے آتی رہی ہے کہ ملک کے موجودہ پارلما نی نظام مںک وزیر اعظم کے پاس گنجائش نہںر کہ وہ ماہرین اور ٹیکنو کریٹ کے ذریعے حکومت کو چلائے اور اس پس منظر مںٹ اس بحث نے جنم لاد تھا کہ ملک مں، صدارتی نظام ہونا چاہئے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے جب سے اسد عمر کو وزارت سے ہٹایا گاس ہے تو عوام مںر ملا جلا ردعمل آ رہا ہے۔کچھ کہتے ہںی کہ اسد عمر کو نہںق ہٹانا چاہےع تھا جبکہ کچھ کہتے ہںد کہ کپتان کا فصلہ ہے تو ٹھکم ہی ہو گا مگر حققتی کاا ہے اس سے متعلق قالس آرائاےں ہی کی جا رہی ہںا۔وزارت چھوڑنے کے بعد اسد عمر بھی منظر سے تقریباً غائب ہںر اور وہ کابنہت کی مٹنگ مںہ بھی نہںہ آئے۔اسد عمر سے متعلق سبھی وزرا کہہ رہے ہں کہ وہ ناراض نہں ہںر اور جلد واپس آئںے گے مگر حالات کچھ اور بتا رہے ہںے۔جبکہ عمران خان صاحب بھی بار بار یہ کہہ رہے ہںل کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے مںن اسد عمر کو وپس لاﺅں گا۔یہ بات تو ٹھک ہے کہ وہ واپس لائںر گے مگروزیراعظم صاحب اس بات کا جواب بھی دے دیں کہ انہںی ہٹایا کوکں گات تھا۔اسد عمر کو وزارت سے ہٹانے سے متعلق کئی باتںص مڈایا مںت ڈسکس کی جا رہی ہںر،کچھ کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہںو تھا جبکہ کچھ کے مطابق آئی ایم ایف کا ایجنڈا ہے

تو کچھ کے مطابق انٹرنشنل بزنس مافاا کا کام ہے۔جبکہ اس بات کی حققتج سے پردہ سنئر صحافی منصور علی خان نے اپنے پروگرام مںا اٹھایا۔انہوں نے اپنے پروگرام مںس جہانگرت ترین کی ایک ٹفو نک کال چلائی جو انہوں نے ندیم ملک کے پروگرام مںر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فصلے وقت پر کر لنےر چاہئںو اگر وقت پر نہ کےی جائںی تو نقصان ہوتا ہے۔اس کے بعد انہوںنے اسد عمر کی ایک پریس کانفرنس کی فوٹجک چلائی جس مں وہ جہانگرن ترین کو بالواسطہ کہہ رہے تھے کہ ان افلاطونوں سے کہںم کہ فصلے وقت پر ہی ہوتے ہں ۔مجھے پتا ہے کہ مںن اپنی عوام پر کتنا بوجھ ڈال سکتا ہوں نہ کہ ان افلاطونوں کو۔یوں اسد عمر نے جہانگرد ترین کی ایک پروگرام مںر کال کا جواب پریس کانفرنس کے ذریعے دیا۔اب آپ کو اندازہ ہو گار کہ جہانگراترین اور اسد عمر کے درماین کانچل رہا تھا اور کون سا فصلہ لٹو ہوا جس کی پاداش مںے اسد عمر کی قربانی دے دی گئی۔اس سے یہ بھی لگتا ہے کہ جہانگرئ ترین نے آغاز مںس ہی اسد عمر اور وزیر اعظم کو آئی ایم ایف سے قرضہ لنے کا مشورہ دے دیا تھا مگر وہ نہںا مانے تھے اور جب آخر مںت جانا پڑا تو جہانگرہ ترین نے بتا دیاکہ فصلو ں مںض اگر تاخرک ہو جائے تو ان کا خمابزہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ قرضہ لنےے کا مشورہ دے دیا تھا مگر وہ نہںڑ مانے تھے اور جب آخر مںا جانا پڑا تو جہانگرر ترین نے بتا دیاکہ فصلو ں مںن اگر تاخرج ہو جائے تو ان کا خمامزہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں