10

حسن نثار توایام جوانی میں پاک فوج کو جوائن کرنے والے تھے تو پھر انکی زندگی کی گاڑی صحافت کی سڑک پر کیسے چل نکلی ؟ صف اول کے صحافی کی کتاب سے ایک دلچسپ اقتباس

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے کالموں کے مجموعے پر مشتمل کتاب ( شائع شدہ 2005 ) کے ابتدائیے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہمارے بچپن اور لڑکپن کے زمانے میں ہر شہر میں” آنہ لائبریریوں” کا بڑا زور تھا ۔ میں نے نسیم حجازی سے لے کر ابن صفی تک

بے شمار لکھنے والوں کی کتابیں “آنہ روز” کے حساب سے لے کر پڑھیں ۔ کم سے کم کرائے میں زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھنے کی وجہ سے میرے پڑھنے کی رفتار حیرت انگیز حد تک بڑھ گئی ۔ آج بھی تین ساڑھے تین سو صفحات ایک آدھ دن میں فارغ کر دیتا ہوں ۔ میٹرک کے بعد میں نے گورنمنٹ کالج لائل پور سے انٹر کیا۔نامور ماہر نفسیات پروفیسر کرامت حسین جعفری ہمارے پرنسل تھے ۔انہوں نے مجھے خصوصی شفقت اور توجہ سے نوازا۔ شور علیگ صاحب جیسے اساتذہ ہمیں اردو پڑھاتے تھے ۔جعفری صاحب کے کہنے پر میں نے تقریری مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا اور ایک اچھا مقرر ثابت ہوا ۔کتاب اور قلم کے بعد یہ میری تیسری بڑی دلچسپی ثابت ہوئی ۔ ان ساری دلچسپیوں کے باوجود۔۔۔۔میں ہر قیمت پر گھر سے نکلنا چاہتا تھا کیونکہ میرے والد انتہائی سخت گیر اور ڈکٹیٹر قسم کے آدمی تھے ۔انتہائی پڑھے لکھے ،روشن خیال لیکن غیر جمہوری قسم کے آدمی ۔ایسے کہ یہ فیصلہ وہی کرتے کہ درسی کتابوں کے علاوہ کونسی کتاب پڑھنی ہے کونسی نہیں۔کس کے ساتھ دوستی کرنی ہے کس کے ساتھ نہیں ۔جس قدر ڈسپلن وہ چاہتے تھے میں اتنا ہی آوارہ اور آزاد منش تھا۔تاریخ اور سیاست پر اتھارٹی ہونے کے باوجود انہیں موسیقی اور شاعری سے نفرت تھی اور اس کی وجہ مذہبی ہونا نہ تھا۔ دوسری طرف مدتوں انہوں نے حبیب جالب کو اپنے گھر میں بڑی محبت سے رکھا۔ہفتہ میں دو تین دن استاد فتح علی خان کے ساتھ ان کی نشست ہوتی جو نصرت فتح علی خان کے والد تھے

اورجالندھر سے میرے دادا کے ساتھ ہی ہجرت کر کے آئے تھے ۔ میں جس کام کا ارادہ کر لیتا ہوں ۔۔۔کر کے چھوڑتا ہوں ۔جس بات کی دھن سوار ہو جائے انجام کی پرواہ کیے بغیر اس راہ پر چل نکلتا ہوں ۔سو میں نے ابا جی کے شکنجے سے نکلنے کے لیے فوج میں اپلائی کر دیا اورISSB تک جا پہنچا حالانکہ مجھے فوج میں جانے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ادھر ISSB کی نوبت آئی اُدھر پنجاب یونیورسٹی نے ایک نئی تعلیمی سکیم اناؤنس کر دی ۔اس سکیم کے تحت یونیورسٹی نے ایڈورٹائز کیا کہ ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد مختلف مضامین میں انڈر گریجویٹس سے بہترین طباءکا انتخاب کیا جائے گا تین سال میں آنرز اور پھر ایک سال میں ایم اے ہو گا وغیرہ وغیرہ ۔ میں انگلش لٹریچر یا فائن آرٹس پڑھنا چاہتا تھا لیکن ابا جی نے یہ شرط عائد کر دی کہ اگر اکنامکس پڑھنی ہے تو تمہیں لاہور بھیجتا ہوں ورنہ لائل پور میں ہی تعلیم کا سسلسلہ جاری رکھو مجھے بلیک میلنگ کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے حالانکہ مجھے اکنامکس وغیرہ سے سخت نفرت تھی اور میں نے ایف اے میں بھی یہ منحوس مضمون رکھا تو اس کے پیچھے بھی والد کی” ابا گیری” تھی طوہاً و کرہاً دل پر پتھر رکھ کر میں نے پنجاب یونیورسٹی کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ میں اپلائی کر دیااور تحریری ٹیسٹ سے لے کر انٹرویو تک سب کامیاب ہو گیا ۔ فوج میں جانے کا خیال ترک کر کے میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا

اور نیو کیمپس کے ہاسٹل نمبر ایک کا کمرہ نمبر 104 میرا نیا گھر قرار پایا ۔ ابا جی کی آمریت سے جان چھوٹ گئی اور میں زندگی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ۔ زندگی کا یہ دور بہت خوبصورت اور یادگار تھا ۔ اس میں مجھے صلاح الدین درانی ، بشیر قادر ، سہیل چنا ، رجب علی پتافی فوکر ، اعجاز بائی گاڈ ، پیجا ہانگ کانگ جیسے دوست ملے ۔ غرضیکہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک نئی دنیا آباد ہو گئی ۔ لیکن میرے لائل پوری دوستوں کے ساتھ میرا رشتہ اور گہرا ہوتا چلا گیا ۔ ہر مہینے لائل پور سے کوئی دوست آتا اور ہاسٹل میں چند دن میرے ساتھ رہتا ۔ ہر روز عید اور ہر رات شب برات والی کیفیت تھی ۔ پھر میں نےاور سہیل ضیا نے مل کر ایک کار بھی خرید لی ۔ زندگی کے یہ چند سال بھلائے نہیں بھولتے ۔ اب میں کبھی یونیورسٹی کے کسی فنکشن میں مہمان خصوصی بن کر جاتا ہوں تو اندر ہی اندر آنسووں سے بھیگ جاتا ہوں ۔ سوچتا ہوں ۔۔۔ پروردگار ! وہ سب لوگ کہاں گئے جنہیں دیکھے ملے بغیر ایک پل نہ گزرتاتھا ، صلو کینیڈا چلا گیا ، بشیر قادر گوری سے شادی کر کے انگلینڈ کا ہو گیا ، پتافی زمینوں پر چلا گیا ، سہیل جرمنی جا بسا ۔۔۔ لیکن زندگی کا چلن یہی ہے ۔ اس وقت کیمپس نیا نیا بنا تھا ، بے حد خوبصورت ، کشادہ ، اتنا ہجوم بھی نہیں تھا۔ چار ہاسٹل لڑکوں کے ایک لڑکیوں کا۔۔۔ کیمپس والی نہر بھی تب ناپاک نہیں تھی ، ہرے بھرے درختوں کے سائے میں بہتی نہر کے پانی میں نہاتے کشتیاں چلاتے ، مستقبل کے خواب دیکھتے ، میں نے شاعری شروع کر دی۔ (جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں