23

جیت اور کامیابی حاصل کرنے کا بہترین طریقہ : خان صاحب جب آپ کرکٹ کھیلتے تھے تو آپ کا ایک جملہ پورے گراؤنڈ میں گونجتا تھا ، وہی طریقہ ایک بار پھر استعمال کیجیے ۔۔۔۔ صف اول کے صحافی کا کپتان کو مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) کپتان جی ! غربت کا خاتمہ ترجیح ہے تو یہ مدنظر رہے ، قوم کو امیر بنایا جائے ، فقیر نہیں ۔ صدقہ ، خیرات ، امداد اور رویہ ہے ، مسلسل ہاتھ پھیلانا کچھ اور ؟ جب ملک امداد پر چل رہا ہو۔ قرض ملنے پر خوشی کا اظہار کیا جائے۔

نامور کالم نگار ظہیر احمد بابر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جب حکمران کرپشن کرتے نہ شرمائیں ؟ بینکوں سے قرض لیکر واپس نہ کریں۔ تب عوام بھی خوددار ، ذمہ دار نہیں رہتے ، محض ضرورت مند بن جاتے ہیں۔ وہ تنظیم سے لیا قرض تو واپس کر دیتے ہیں ،حکومت سے لیا نہیں ۔ کپتان جی !آپ کمزور طبقے کی “کفالت” کریں ، ضرور کریں۔ لیکن ٹیکس پیئرز کے پیسے کا بھی احساس کریں۔ جو سمجھتے ہیں ، پہلے کی طرح اب بھی سیاسی مقاصد کیلئے یہ پیسہ اپنوں میں بٹ جائے گا۔وزیراعظم کی ٹیم کو سمجھنا ہوگا۔معاشی غربت کیلئے چھوٹے اور بڑے دونوں سطح پر کام کرنا پڑتا ہے۔ حکومت جان لے ، غربت مائیکرو لیولنہیں ، میکرو لیول پر کام کرنے سے دور ہوتی ہے۔ اس کیلئے نیت جتنی بھی خالص ہو ، جذبہ کتنا ہی شاندار ہو ، اہلیت معیار نہ ہوتو ناکامی مقدر بنتی ہے۔ ناکام طریقہ چاہے کتنی ہی بار آزمالیا جائے ،کامیابی نہیں ملتی۔ کیکر پر انگور چڑھانے کی کوشش میں ہربار گچھا زخمایا ہی جائے گا۔ابھی تک عمران خان کا رویہ دیکھیں تو وہ غربت کے خاتمے کیلئے جو مثالیں اور نسخے بتااور آزما رہے ہیں ، وہ حکومتیں نہیں ، تنظیمیں کرتی ہیں۔ مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کامرغیاں ، بکریاں دینے کا پروگرام ، گرامین بینک کے سربراہ ڈاکٹر یونس کی قرض سکیم ، پاکستان میں “اخوت ” کے اربوں روپے کے بلاسود قرضے ، یہ سب تنظیمی مثالیں ہیں ، حکومتوں کی نہیں ۔ یعنی حکمران بن کر بھی وزیراعظم عمران خان کی حکمت عملی تنظیمی طرز کی عکاس ہے۔ سوچ شوکت خانم کینسر ہسپتال اور نمل کالج سے اوپر نہیں جاپارہی ۔

حکومت سنجیدگی دکھائے تو غربت کے خاتمے کیلئے مائیکرو لیول پر حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اپنائے۔ فلاحی اداروں ، این جی اوز کو ساتھ ملائے۔برا نہ مانے تو حال ہی میں مائیکرو لیول کو مدنظر رکھ کر بنایا ایک کامیاب منصوبہ دیکھ لے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے “اخوت ” کو ساتھ ملا کر کاروباری قرضے فراہم کیے ، جن کی واپسی بھی جاری ہے جبکہ اس سے پہلے اسی لیگی حکومت کے پیلی ٹیکسی سکیم ، گرین ٹیکسی سکیم جیسے سرکاری منصوبے بینکوں کو دیوالیہ پن پر لے آئے تھے۔پیپلزپارٹی دور میں بنائے سب سے قابل تعریف منصوبے بے نظیر انکم سپورٹ سکیم پر بھی کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ سیاسی بنیادوں پر اپنے ایم این ایز ، ایم پی ایز کو کارڈز کا کوٹہ دیا گیا۔ سرکار نے غربت کا معیار جو بھی طے کیا، امداد ی کارڈ کی ریوڑیاں اپنوں میں ہی بٹی ہیں۔ کارڈ صرف اسے ملا جو پیا من بھایا۔حکومت چاہے تو غربت مکاو¿ پروگرام کے ساتھ پاکستان کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے۔ اس کیلئے کپتان جی !قوم کو بتانا پڑے گا۔ نئے پاکستان میں اب کچھ بھی مفت نہیں ملے گا ۔ ایڈ نہیں ٹریڈ ، یہ فارمولہ حکومت اور عوام میں بھی طے پانا چاہیے۔ وہی بات ، لوگوں کو شراکت دار بنائیں ، بھک منگے نہیں ۔ حکومت جس شہری کو قرض دے ، اس سے معاہدہ کرے۔قرض لینے والا اپنے بچوں کو اسکول داخل کرائے گا۔ خاص طور پر بچیوں کو مڈل تک تعلیم دلائے گا۔ ڈیڑھ کروڑ بچے جو اسکولوں سے باہر ہیں ، اس طرح یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔

شرط رکھی جائے ، اپنے بچوں کو تمام حفاظتی ٹیکے لگوائے گاتاکہ پولیو جیسی بیماریوں سے نجات مل سکے۔ علاقے کی مناسبت سے قرض خواہ 10 درخت لگائے گا۔ پھل دار درخت ہوں گے تو کچھ سال بعد وہ بھی آمدن کا ذریعہ بن جائیں گے۔ماحولیاتی تبدیلی کی زد میں آیا پاکستان بچ جائے گا۔ یہ طے ہے ،مقامی حکومتوں اور فلاحی اداروں کی شمولیت کے بغیر سرکاری عملہ تو ایسے کام کی نگرانی کرنے سے رہا۔ یاد رہے !مائیکرو لیول سے غربت ختم نہیں ہوتی ، بتدریج کم ہوتی ہے لیکن یہ منصوبہ بہت سست روی سے آگے بڑھتا ہے۔ غربت کا وسیع پیمانے پر چاہیے تو میکرو لیول پر کام کرنا ہوگا۔ حکومت کا کام ہی میکرو لیول پر منصوبے بنانا ہے ۔ جس کے لیے ٹارگٹ بنا کر صنعتی شہر بسائے جائیں۔جیسے چین نے بنائے۔ امریکا ، چین ، کوریا ، سنگاپور ، بھارت کی طرح سلیکون سٹی ڈیزائن کیے جائیں ۔پانی کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے زراعت میں جدت لائی جائے ۔ علاقے مختص کیے جائیں جس میں مخصوص فصل کی بہار ہو۔ لائیواسٹاک میں اصلاحات لائی جائیں ، سب سے اہم بات ، قانون کا نفاذ یقینی بنائے۔ دولت کی حفاظت کو یقینی بناکر سب کیلئے مواقع بڑھائے۔حکومت کو ایسا ماحول بنانے کی ضرورت ہے جہاںغربت کے خلاف آسانی سے جدوجہد ہوسکے۔ عمران خان کو یاد دلادوں ، اپنی کپتانی کے دور میں وہ باو¿لرز سے کہتے تھے ۔ رنز روکنے کی فکر نہ کریں ، وکٹیں لیں۔ وکٹیں گریں گی تو رنز خود بخود رک جائیں گے۔ غربت کی وکٹیں بھی تیزی کے ساتھ میکرو لیول سے ہی گرائی جاسکتی ہیں۔ ہم نے تو دل کھول کے رکھ دیا۔ اب یہکپتان پہ منحصر ہے۔ چاہے تو موثر حکمت عملی اپنا کر عوام کی غربت مٹائے ، چاہے تو وزرا اور بیوروکریسی کے دن پھیر دے۔اور آخر میں تخت سے اتر کر یہ کہہ کر چلتا بنے ، میرے جیب میں پڑے سارے سکے کھوٹے ہیں۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں