22

اسد عمر سے لے کر عامر کیانی تک‘ عثمان بزدار سے لے کر فیاض الحسن چوہان تک‘ ذاتی رفقا سے لے کر غیر منتخب مشیروں کے انتخاب تک۔۔۔۔ آپ کے انتخاب میں سب کچھ ہے بس ایک چیز کی کمی ہے ۔۔۔۔ صف اول کے کالم نگار کا عمران خان کو انمول مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) مردم شناسی ایک ایسا ہنر اور صلاحیت ہے جو انسان کی سو خامیوں پر پردہ ڈال سکتی ہے۔ کسی حکمران میں اگر سو خوبیاں ہوں لیکن مردم شناسی نہ ہو تو ساری خوبیاں کس کام کی؟ کسی لیڈر یا حکمران کا اصل کام اہداف کے حصول کے لیے موزوں ترین اشخاص کا انتخاب ہے

نامور کالم نگار آصف عفان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ”رائٹ مین فار رائٹ جاب‘‘ کے تصور کو قائم رکھنا ہی کسی لیڈر کی کامیاب حکمتِ عملی ہوتی ہے کیونکہ کوئی بھی شخص‘ چاہے وہ حکمران ہو یا لیڈر‘ سارے کام خود نہیں کر سکتا۔ ہر کام میں اس کی مہارت ممکن نہیں… اس کی اصل کامیابی اُس ٹیم کی تشکیل ہے‘ جو اپنے لیڈر کے ویژن اور ایجنڈے کی عملی تصویر بن کر آسکے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز کو آج تک ایسا کوئی حکمران نصیب نہیں ہوا جو مردم شناسی کے ہنر سے آشنا ہو۔ ذاتی مفادات اور خواہشات کے گرد گھومتی پالیسیوں کی تشکیل اور تکمیل کے لیے انہیں ذاتی رفقا اور مصاحبین کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا… نیت اور ارادے کا لبادہ اوڑھ کر صفر کارکردگی کے ساتھ ذاتی مجبوریوں اور رفقا کو ملک و قوم پر کب تک مسلّط کیا جا سکتا ہے؟ دعووں‘ وعدوں اور دلاسوں پر مبنی حکمرانی سے عوام کو کب تک بہلایا جاسکتا ہے؟ عوام کی تو خیر مجبوری ہے کہ ان کے پاس ہر دور میں اعتبار کرنے کے سوا اور چارہ ہی کیا ہوتاہے؟ نا معقول رہبروں کے پیچھے… نامعلوم منزل کی طرف… چلتے چلتے یہ قوم نہ صرف ہلکان ہو چکی ہے بلکہ اب ان حکمرانوں کی اصل حقیقت بھی جان چکی ہے۔ ملک و قوم کے غم میں مرے جانے والے یہ لیڈر اپنی مجبوریوں اور دوستیوں کے ہاتھوں اس حد تک بے بس ہو جاتے ہیں کہ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں رہتی کہ وہ بدعہدی اور بدترین حکمرانی

کے ریکارڈ توڑنے کے ساتھ ساتھ عوام کی آس اور اُمید تک سب کچھ ہی چکنا چور کیے چلے جارہے ہیں۔ ادویات سے لے کر درسی کتابوں تک… پٹرول سے لے کر اشیائے ضروریہ تک… ہر طرف قیمتوںمیں جیسے آگ لگ گئی ہو… عوام کو ہر طرف دھویں اور راکھ کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا۔ اس پر بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں کئی کئی سو گنا اضافے کے براہِ راست ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے قیمتوں میں اضافہ کرنے والی کمپنیوں کو ”فوکس‘‘ کر لیا گیا ہے۔ ”بندریا کے جب پاؤں جلتے ہیں تو وہ اپنے ہی بچے اپنے پاؤں کے نیچے لے لیتی ہے‘‘ کے مصداق 31 دوا ساز کمپنیوں کی 143ادویات منجمد کر دی گئی ہیں اور آئندہ چند روز میں عوام دیکھیں گے کہ ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے لے کر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی دیگر بے ضابطگیوںتک کا مسلسل دفاع کرنے والے وفاقی وزیر مذکورہ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا کریڈٹ لینے کے لیے کیسے سب سے آگے ہوں گے؟ عنقریب الٹی فلم چلائی جائے گی ‘معقول ”معاوضہ‘‘ کے عوض دواساز کمپنیوں کو ”لائسنس ٹو کِل‘‘دینے والے کس طرح انہی کمپنیوں کے خلاف آپریشن کی قیادت کرتے نظر آئیں گے۔ تعجب ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں من چاہے اضافے کی واردات کے مرکزی کردار حکومت میں تاحال مرکزی حیثیت کے حامل نظر آرہے ہیں۔ اسی طرح مہنگائی میں تشویشناک حد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت ”یو ٹرن‘‘ لیتے لیتے اب ”راؤنڈ اباؤٹ‘‘ یعنی گول چکر کے گرد گھومنے پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔

معیشت کے حوالے سے جن اقدامات کے نام سے بھی انہیں گِھن آتی تھی اب حکومت وہی اقدامات کرنے جارہی ہے۔ دیکھتے ہیں یہ گول چکر کب تک پورا ہوتا ہے‘ہوتا بھی ہے یا نہیں کیونکہ کچھ کام اگر بروقت نہ کیے جائیں تو بعد ازاں ہر وقت کرنے سے بھی پورے نہیں ہو پاتے۔ اسد عمر سے لے کر عامر کیانی تک‘ عثمان بزدار سے لے کر فیاض الحسن چوہان تک‘ ذاتی رفقا سے لے کر غیر منتخب مشیروں کے انتخاب تک ‘اگر کہیں کوئی کمی نظر آئی ہے تو صرف مردم شناسی کی۔ خیر فیاض الحسن چوہان کی کافی قیمت چکانے کے بعد حکومت یہ بوجھ تو اُتار چکی ہے‘ لیکن قائدِ ایوان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان کو تمام صوبائی محکموں کی انسپکشن کا اختیار دینا اس امر کا کھلا اعتراف ہے کہ وزیر اعظم اب قائل ہوتے چلے جارہے ہیں کہ وزیراعلیٰ مطلوب نتائج فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اسی طرح حکومتی مایوسی اور معیشت کی حالتِ زار کا اندازہ سپیکر پختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کے بیان سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ”معاشی حالات مشکل ترین ہیںعوام دو نہیں ایک روٹی کھائیں‘‘ ۔عوام کو ایک روٹی کی تلقین کرنے والے حکمران اپنا ہاتھ تو ”بوٹیوں‘‘ سے روک نہیں پارہے اور چلے ہیں عوام کو قناعت کی ترغیب دینے۔ معیشت کا بحران ہی حکومت کو لئے دئیے جارہا تھا کہ تحریک انصاف کے اندرونی انتشار اور دھڑے بندیوں نے صورتحال کو مزید گمبھیر بناڈالا ہے۔اب انتہائی دھیمے اور ایک ایک لفظ ناپ تول کر بولنے والے شاہ محمود قریشی کا بولنا اور اپنے موقف پر ڈٹ جانا‘ سمجھنے والوں کے لیے واضح اشارہ ہے۔

جہانگیر ترین کی اہمیت اور افادیت جانتے بوجھتے حکومتی امور میں ان کی مداخلت برداشت کرنے کو تیا ر دکھائی نہیں دیتے۔ اسی طرح شیخ رشید کے بدلتے رجحانات”سیاسی موسمیات‘‘پر واضح نظر آرہے ہیں۔ تحفظات سے اختلافات تک ۔یہ سفر انتہائی مختصر اور ”ریکارڈ‘‘مدت میں پورا ہوا ہے۔ جبکہ اس میں مزید شدت کی توقع بھی کی جارہی ہے۔ شیخ رشید کے اس طرز عمل کو ایک اہم غیرمعمولی پیش رفت کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ کی تبدیلی کے باتیں دن بہ دن زور پکڑتی جا رہی ہیں جبکہ چوہدری برادران نے وزیراعظم کو خبردار کیا ہے کہ عجلت میں کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔ ق لیگ عثمان بزدار کی وزارتِ اعلیٰ کو برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔ چوہدری برداران انتہائی منجھے ہوئے اور تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ موجود سیاسی حالات میں ایسا غیر متحرک اور غیر فعال وزیراعلیٰ اُن کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں اور وہ اس نعمت زیادہ سے زیادہ عرصہ تک استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ طرز حکومت اور سیاستدان‘ دونوں ڈلیور کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں؟یا انہیں کام نہیں کرنے دیا جارہا؟ یہ بحث د ن بہ دن زور پکڑتی جارہی ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ان سوالات کی شدت اور تقویت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ طرز حکومت تبدیل کرنے کی باتیں کیا کسی نئے نظام کی طرف اشارہ ہے؟ مذکورہ صورتحال میں پارلیمنٹ اور اس کی کارکردگی پر بھی کئی کڑے سوال کھڑے ہوچکے ہیں۔ سرکاری خرچ پر اسمبلی اجلاس میں گھر سے نکلنے والے رکن اسمبلی کی گاڑی سٹارٹ ہوتے ہی

اس کا اپنامیٹر ڈاؤن ہوجاتا ہے۔ پھر اجلاس میں شرکت سے لے کر کھانے اور نہانے تک جتنے دن بھی وہ قیام کرے سارا بوجھ حکومتی خزانے پر ہی ہوتا ہے۔ اس کے بدلے یہ نظام آج تک عوام کو کیا دے سکا ہے؟ اس کا جواب پارلیمنٹ کے کسی بھی اجلاس کا منظر نامہ دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ماسوائے قانون سازی اور مفاد عامہ کے وہ سب کچھ وہاں ہوتا ہے جسے دیکھ کر ہر پاکستانی جلتا ہے ‘کڑھتا ہے اور شرمسار ہوتا ہے کہ کیا اسی لیے اس نے ووٹ دیا تھا کہ اس کے نمائندے اپنے ذاتی مفادات ‘ استحقاق کے تحفظ کیلئے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالیں اور دست و گریباں ہونے سے بھی گریز نہ کریں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مشترکہ مفادات کو جہاں خطرہ لاحق ہوا وہاں یہ سب آن کی آن میں اکٹھے اور یکجا نظر آتے ہیں۔ان حالات میں قوم کا غم ایسے بھسم ہوتا ہے جیسے سوکھی لکڑی بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کہیں صدارتی نظام کی باتیں ہورہی ہیں تو کہیں آئین کو ”ریسٹ‘‘ دینے کی باتیں۔ یہ ساری باتیں سیاستدانوں کی ناکامی کے اشارے ہیں۔ سیاستدانوں کو ناکام اور نا اہل قرار دے کر کہیں کوئی چارج شیٹ تو نہیں آرہی؟ یہ سال کسی ایک پارٹی کے حوالے سے نہیں بلکہ وطن عزیز کے سارے سیاستدانوں کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے مستقبل کا اہم ترین فیصلہ اسی سال آنے کو ہے۔عوام سے طرز تغافل برتنے والے سیاستدانوں سے چھٹکارا ‘طرز حکومت کی تبدیلی سے ہی ممکن ہے۔ چارج شیٹ آنے کو ہے۔ بد عہدی کا طویل عہد اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں