61

اقتدار کے ایوانوں سے بڑا سیاسی تہلکہ برآمد ۔۔۔ آج کل عمران خان کس کے ساتھ ٹیم تبدیل کرنے کی باتیں کرتے ہیں ، کیا کچھ طے ہو چکا ہے ؟ کس کس کی قربانی دی جانیوالی ہے ؟ ہارون الرشید کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) سب جانتے ہیں کہ خلا کبھی باقی نہیں رہتا۔ ایسا نہ ہو کہ دھماکہ ہو جائے۔ ایسا نہ ہو کہ آندھی اٹھّے اور طوفان آئے۔ اللہ نہ کرے کہ خلقِ خدا لو کی دعا مانگنے لگے۔ ایک قابلِ اعتماد رہنما کے طور پر عمران خان کا عہد تمام ہوا۔ ان دنوں اپنے دوستوں سے

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ٹیم تبدیل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ممکن ہے وہ کچھ کر گزریں۔ ممکن ہے معیشت کے غیر معمولی زوال کو روک دیں۔ اب مگر یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ کوئی کارنامہ انجام دیں گے۔ پاکستانی معاشرے کی ساخت اور قومی مسائل کی پیچیدگیوں سے موصوف آشنا ہی نہیں۔ حقیقت پسندی کا دور دور تک نشان نہیں، دور دور تک! فرمایا کرتے کہ ان کی ٹیم بہترین ہے۔بہترین لوگ کہاں ہیں؟ایک شاندار بلدیاتی نظام نافذ کرنے کا دعویٰ ،جسے بجٹ کا تیس فیصد بخشا جائے گا۔ اس نظام کا خاکہ چھپا کیوں رکھا ہے؟ سمندر پار پاکستانیوں کے بل پر اقتصادی معجزے کا خواب ؟ کیا انہوں نے آپ کو بھلادیا یا آپ نے ان کو؟ پچاس لاکھ مکانوں اور ایک کروڑ نوکریوں کا ذکر ہی کیا۔ اب یہ محض لطیفے ہیں۔ پاکستانی معیشت کا المیہ یہ ہے کہ دستاویزی نہیں۔ اب تک کوئی اقدام؟ کوئی ایک فیصلہ؟ کالے کاروبار پہ اندازے مختلف ہیں۔ پچاس، ساٹھ یا ستر فیصد؟ ایف بی آر کی تشکیلِ نو درکار تھی کہ کام کا آغاز کرے۔ کیوں ایسا نہ ہو سکا؟ زمامِ کار انہیں کیوں سونپ دی ، جو کہنہ اور فرسودہ نظام کے صورت گرہیں۔ عتاب ان پر نازل ہے، جو خیانت کے مرتکب نہیں۔ لاہور میں ایک نیا فائیو سٹار ہوٹل بنانے، کراچی میں ایسے ہی ایک منصوبے کے لیے سوچ بچار کرتے اور لاہور کے پنج ستارہ ہوٹل کو توسیع دینے پر تلا، نیک نام سرمایہ کار

چند ہفتے قبل ایف بی آر کا ہدف بنا۔ برسوں سے اس آدمی کو یہ ناچیز جانتا ہے۔ کبھی اسے کہانی کہتے نہیں پایا۔ امریکہ میں ایک نہیں کئی بار اس نے بہترین نئے سرمایہ کار کا تمغہ جیتا۔ رفتہ رفتہ ایسی اچھی شہرت پائی کہ علاقے میں کانگرس کے ممبر اور سینیٹر کے انتخاب پر، اسے اعتماد میں لیا جانے لگا۔ تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا۔ ایف بی آر کی گنگا الٹی کیوں بہہ رہی ہے؟برسوں بعد اپنے وطن کو وہ آدمی لوٹ کر آیا تھا۔ مستقبل کی صورت گری کے لیے، عمران خان کبھی اس سے مشورہ کیا کرتے۔ اب بھی اس کے معترف ہیں۔ انتقام کا نشانہ وہ کیوں بنا؟ اس کا کہنا ہے کہ پچاس لاکھ روپے رشوت طلب کی گئی۔ کمپنی کے کاغذات اور کمپیوٹر قبضے میں لے لئے گئے۔ عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ جس نے حکم امتناعی جاری کر دیا۔ ایف بی آر کے افسر اب اس سے ملاقات کے متمنی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے ”اب کس لئے؟ ‘‘جب دلیل پہ دلیل پیش کی تو سننے والا کوئی نہ تھا۔ میں کیا نادہندہ اور جرائم پیشہ ہوں کہ رہ و رسم تم سے رکھّوں۔ مجھے کیا سودے بازی کرنی ہے کہ تمہاری میزبانی کروں؟ایف بی آر کے حکام کو خوب علم ہے کہ کس نے کارروائی کی۔ کس نے بدنامی کا دروازہ ادارے پر کھولا۔ اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں؟ اس طرح کے حادثات، جہاں کہیں ہوتے ہیں، تفتیش کی جاتی ہے، جواب طلبی ہوا کرتی ہے۔یہ عجیب عہد ہے، ایسی الجھی ہوئی ڈور کہ

سرا ہی نہیں ملتا۔ جس کا کوئی الٹا سیدھا ہی نہیں، جس کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ دو آدمی صوبے کے معاملات چلاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری۔ صادق آباد سے اٹک اور لاہور سے کوہالہ تک پھیلے پنجاب میں۔ دنیا کے اکثر ملکوں سے یہ بڑا صوبہ ہے۔ ہمہ وقت ان دونوں کے درمیان رابطہ رہا کرتا۔ بعض اوقات تو دن میں کئی بار۔ اجلاس نہ ہو تو ٹیلی فون پر۔ لاہور کے اخبار نویس، سراغ لگائیں کہ وزیراعلیٰ جناب عثمان بزدار سے کتنے وقفے کے ساتھ چیف سیکرٹری کی ملاقات ہوتی ہے۔ خاکسار کی معلومات کے مطابق، کبھی کبھی دس پندرہ دن بھی بیت جاتے ہیں۔ کوئی بتائے کس طرح کام چلے گا؟ سبھی جانتے ہیں کہ پنجاب کی سول سروس میں آہنگ نام کی کوئی چیز نہیں۔ گروپ ہیں اور بے مہار ہیں۔ کوئی سمت نہ لیڈر، کوئی منزل نہ نشانِ منزل۔ اس پر یہ آسودگی؟ جناب عثمان بزدار کے بارے میں معلوم تھا کہ صوبے کی سیاست سے ہرگز واقف نہیں۔ ایک عام اخبار نویس اتنے بھی نہیں۔ لاہور تشریف لاتے تو گاہے جناب پنجاب یونیورسٹی میں قیام فرمایا کرتے۔ جامعہ پنجاب کے نیک نفس وائس چانسلر سے، ان کی ملاقات رہا کرتی۔ ایک ہی خطے سے تعلق ، ایک سی میٹھی سرائیکی بولتے ہیں۔ اس کے باوجود دیر تک یقین نہ آیا، جب کسی نے بتایا کہ جامعہ پنجاب کے سالانہ کانووکیشن میں شرکت پر موصوف آمادہ نہ ہوئے۔ اطلاع یہ ہے کہ ایک دوسری یونیورسٹی نے دو بار سالانہ تقریب ان کے لیے التوا میں ڈالی۔

شاید وہ مان جائیں، شاید اپنے تامّل پہ قابو پا سکیں۔ جی نہیں، ہجوم سے گھبراتے ہیں۔ خلقِ خدا سے گھبراتے ہیں، شرماتے ہیں۔اس آدمی کو وزیراعظم نے صوبے کی عنان کیوں سونپ دی؟ اس بیچارے نے تقاضا تو نہیں کیا تھا۔ اگر ایک یا ایک سے زیادہ بزرجمہر نے مشورہ دیا تھا تو یہ لوگ کیا قربِ شاہی کے مستحق تھے؟ اگر خود فیصلہ فرمایا تو سبحان اللہ۔کیا کہنے، کیا کہنے! اٹھارہویں گریڈ کی ایک ڈائریکٹر کا قصّہ کل شب کسی نے سنایا۔ اس کی سربراہ یعنی وزارت کی سیکرٹری، موصوفہ کے طرزِ عمل پہ شاد نہ تھی۔ زیادہ بڑی شکایت یہ تھی کہ لہجہ کرخت اور انداز ناتراشیدہ ہے۔ ایک سرکاری افسر کے جو شایانِ شان نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کی اجازت سے ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔یا للعجب! چارج چھوڑنے سے موصوفہ نے انکار کر دیا، چٹّا جواب۔ کہا: کس کی مجال ہے کہ میرا تبادلہ کرے۔ کئی ہفتے گزر گئے۔ آخر کو سیکرٹری کے تبادلے کا حکم صادر ہوا، کوئی شکایت جن سے نہیں تھی۔ راوی معتبر ہے، تحقیق کرنے والے ان کے دعوے پر تحقیق فرما لیں۔ محترمہ نے ارشاد یہ کیا کہ ان کے والدِ گرامی وزیرِ اعظم سے رہ و رسم رکھتے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو سوال یہ ہے کہ پہلے سے الجھے افسروں کا تاثر کیا ہوگا؟معاملات اور بھی بگڑ نہ جائیں گے؟ شریف خاندان کے رسوخ اور اندیشوں کی فضا میں، کتنی بے یقینی اور گھولنی ہے؟ کتنی اور بے یقینی؟حکمرانی فیصلہ سازی کا نام ہے۔

عثمان بزدار کیا فیصلے صادر کر سکتے ہیں؟ اب خود وزیرِاعظم کے بارے میں بھی سوال یہی ہے۔ چرواہے سے ریوڑ سنبھالے نہیں سنبھلتا۔دوائوں کی قیمت میں اضافہ اگر ناگزیر تھا، روپے کی قدر گر جانے سے واقعی ناگزیر تھا۔تو کیا اس قدر اور کیا اس طرح؟ ایک ایک دوا کی قیمت کیوں مقرر نہ کی گئی؟نفاذِ قانون میں خرابی تفصیلات طے نہ کرنے سے ہوتی ہے۔ نگرانی کے فقدان سے۔دوا سازوں کی انجمن کے ایک ممتاز عہدیدار نے بتایا: وزیرِ صحت کی خدمت میں عرض کیا کہ حالات سازگار ہوں تو وہ برآمدات بھی قدرے بڑھا سکتے ہیں۔ وہ بدکے اور بولے: ارے بھائی، زیادہ نہ بڑھانا، کہیں ملک میں دوائوں کا قحط نہ پڑ جائے۔ ایسا آدمی، ایسا آدمی اور اس منصب پر؟وزارتوں کی بندر بانٹ کبھی اس طرح نہ ہوئی تھی۔ نا اہل نوازے جاتے مگر عہدے ریوڑیوں کی طرح کبھی نہ بٹے تھے۔پنجاب کا ترقیاتی بجٹ آدھا رہ گیا۔ اس میں سے کتنا خرچ ہوا۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ صرف ایک تہائی، دوسری یہ کہ 236 ارب میں سے فقط 80 ارب روپے۔ شاید کچھ مبالغہ ہو۔ یہ تو مگر معلوم ہے کہ سرکاری افسر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، سرمایہ کار بھی۔رات دن گردش میں ہیں سات آسماں ۔۔ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ۔۔ سب جانتے ہیں کہ خلا کبھی باقی نہیں رہتا۔ ایسا نہ ہو کہ دھماکہ ہو جائے۔ ایسا نہ ہو کہ آندھی اٹھّے اور طوفان آئے۔ اللہ نہ کرے کہ خلقِ خدا لو کی دعا مانگنے لگے۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں