21

کپتان کے کام کی خبر : بیرون ملک مقیم وہ پاکستانی بزنس میں جسکے دنیا کی 800 بڑی کمپنیوں سے روابط ہیں اور وہ پاکستان کے ہر ضلع میں ایک ایک اکنامک زون بنانا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اس خبر کی تفصیلات آپ کا دل خوش کردیں گی

لاہور( ویب ڈیسک) میں عام طور پر اسلامی ممالک میں جانے سے گریز کرتا ہوں، اس کی بڑی وجہ مسلمانوں کا اسلام سے دور ہونا ہے، مسلمانوں کی عادات ایسی ہیں کہ وہ مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ مسلمانوں کو ملاوٹ، جھوٹ اور بددیانتی سے گریز کرنا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔

سینئر صحافی مظہر برلاس اپنے کالم میں لکتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں جلد سونے اور جلد اٹھنے کی عادت اپنانی چاہئے، انہیں آپس کے اختلافات ختم کرکے ترقی کے راستے اپنانے چاہئیں، ان کی بڑی طاقت ان کا اتحاد ہے، انہیں اپنے دوستوں اور دشمنوں میں فرق ضرور رکھنا چاہئے۔ یہ وہ تمام باتیں ہیں جن پہ دل کڑھتا ہے اس لئے میں گریز کرتا ہوں کہ اسلامی ملکوں کا رخ نہ کروں،مگر مجھے کئی اسلامی ملکوں کا رخ مجبوراً کرنا پڑتا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم میرے کچھ دوستوں کی خواہش تھی، کچھ کا اصرار تھا بلکہ اب بھی ہے کہ مجھے دو چار مہینوں بعد چند دن متحدہ عرب ا مارات میں گزارنے چاہئیں۔ ان تمام فرمائشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں سال کے آغاز ہی میں دبئی کا چکر لگا آیا ہوں۔ متحدہ عرب امارات میں میرا مسکن تو دبئی ہی تھا مگر میں پھر بھی مختلف ریاستوں میں گیا، صحرائوں میں بھی گیا، ان ریاستوں میں جو فرق محسوس کیا وہ بھی بیان کردیتا ہوں۔ یہاں مقیم پاکستانی اب بہت خوش ہیں کیونکہ پچھلے کچھ سالوں سے یو اے ای حکومت کے پاکستان کے ساتھ مراسم میں گرم جوشی نہیں تھی اور پچھلی حکومت کے دور میں تو بالکل ہی دوریاں تھیں ۔۔۔۔

پاکستان میں عمران خان کی حکومت آنے کے بعد یو اے ا ی کے ساتھ مراسم میں نہ صرف گرم جوشی آئی بلکہ انداز بھی والہانہ ہوگیا ہے۔متحدہ عرب امارات کے حکمران شیخ محمد بن زید کے حالیہ دورۂ پاکستان نے اس گرم جوشی کی وضاحت کردی ہے۔ اس لئے آج کل یو اے ای میں بسنے والے پاکستانی بہت خوش ہیں۔ یہ خوش آئند بات ہے، یو اے ای والے حکومتی سطح پر پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کرنے جارہے ہیں۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات میں بسنے والے بہت سے سرمایہ کار اپنے طور پر پاکستان میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دبئی ایئر پورٹ پر چوہدری شاہ نواز ہمارا منتظر تھا، ہوٹل پہنچا تو ایک پاکستانی بزنس مین شہزاد اکرم شیخ اور ایک بھارتی بزنس مین اشیش چھابڑا سے ملاقات ہوئی، پھر ہمارے دوست میاں منیر ہانس آگئے۔ میاں منیر ہانس پیپلز پارٹی گلف کے صدر ہیں، ان کا شمار بے نظیر بھٹو شہید کے قابل اعتماد ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ فلاسفروں نے پنجاب میں پیپلز پارٹی ختم کردی مگر میاں منیر ہانس نے یو اے ای میں پارٹی کو زندہ رکھا۔ گزشتہ دور میں میاں منیر ہانس نے امارات میں پاکستانی کمیونٹی کے لئے جو خدمات انجام دیں لوگ ان کو سراہتے ہیں۔ اسی شام پیپلز پارٹی ہی کے فضل گجر اور ملک نعمان سے ملاقات ہوئی ، اگلے دن ڈاکٹر منیر چوہدری کا عشائیہ تھا۔ قصور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر منیر چوہدری شارجہ میں ایک انٹرنیشنل ایکسپو کروارہے ہیں، ڈاکٹر صاحب پاکستان کے ہر ضلع میں اکنامک زون بنانا چاہتے ہیں، ان کے دنیا کی ایک سو ساٹھ بڑی کمپنیوں سے روابط ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

یہیں ان کی کمپنی کی منیجر صبا سے بھی ملاقات ہوئی۔ عشائیے سے پہلے ہلکا پھلکا مشاعرہ بھی ہوگیا، امجد اقبال امجد، ذوالفقار مغل، سید مدثر خوشنود، فضل خان درانی اور خادم شاہین سمیت کئی دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ دبئی بلند و بالا عمارتوں کا شہر ہے۔ یہاں راتیں جاگتی ہیں، سرشام روشنیاں پھیلتی ہیں، پھر ان میں خوشبوئوں کا بسیرا ہوتا ہے،کہیں شاعری تو کہیں اعضاء کی شاعری ہوتی ہے،موسیقی اپنے رنگ گھولتی ہے، جوانی جوبن پر بولتی ہے مگر رات بھر کی پُر رونق موسیقی دبئی کی صبحوں کو چپ لگا دیتی ہے مگر شارجہ اور عمان میں ایسا نہیں ہے۔ ا ن چند دنوں میں مجھے سرشام ٹی وی پروگرام کے لئےکبھی حماد شیخ کے آفس جانا پڑتا تو کبھی راحیل میمن کے ہاں جانا ہوتا۔ اچھے یادگاری دن گزرے، مظفر باجوہ سے اگرچہ ملاقات مختصراً رہی مگر شاندار رہی، دراصل ان کے خاندان میں شادی تھی اور وہ زیادہ تر شادی کی تقریبات میں مصروف رہے۔ اسی طرح سردار چھبا سنگھ سے بھی ملاقات مختصر رہی کیونکہ ان کے خاندان کے بھی کچھ لوگ بھارت سے آئے ہوئے تھے۔ آدھا دن ابوظہبی میں بھی گزرا، جہاں میرے کالج کے دنوں کے دوست طاہر علیم چوہدری مقیم ہیں، ابوظہبی دراصل یہاں کے جاگیرداروں کا علاقہ ہے، یہی ریاست باقی ریاستوں کو چلاتی ہے۔ ابوظہبی متحدہ عرب امارات میں سب سے امیر ریاست ہے۔ طاہر علیم چوہدری یہاں کی اہم ترین وزارت پٹرولیم کے شعبہ پلاننگ کو دیکھتے ہیں۔ یہاں کئی پرانے تذکرے چھڑ گئے، چوہدری اشفاق اگرچہ ساتھ تھے مگر ان کو ان تذکروں سے کیا؟

کیونکہ یہاں تو کبھی یاسر پیرزادہ کی بات چھڑ جاتی تھی، کبھی خاور گھمن کا ذکر شروع ہوجاتا تھا، کبھی اصغر شاہ اور تنویر خان یاد آجاتے تھے، اس سفر میں مجھے ہاشم کھوسہ، جنید بھائی اور سمیع اللہ خان کی ہمرکابی نصیب ہوئی۔ ان چند دنوں میں مجھے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی کہ اگر ہمت ہو تو سب کچھ ہوسکتا ہے، اگر قانون پر عملداری ہو تو سب کو درست رکھا جاسکتا ہے، اگر انصاف ہورہا ہو تو لوگوں کے مسائل خود بخود ختم ہوجاتے ہیں۔ مجھے کئی لوگوں سے بات چیت کا موقع ملا، ان میں اوورسیز پاکستانی بھی تھے، بعض عرب بھی تھے، مجھے یوں لگا کہ بھٹو کے بعد عمران خان دوسرا لیڈر ہے جس میں اعتماد کی کوئی کمی نہیں۔ شاید اسی لئے پاکستانی خوش ہیں کہ ان کے ملک کا موجودہ وزیر اعظم دنیا کے کئی حکمرانوں کو اپنا گرویدہ بنالیتا ہے، اپوزیشن جو مرضی کہے عمران خان کا مقابلہ نہیں ہے۔ اپوزیشن کے شور پر مجھے ناصر بشیر کا شعر یاد آرہا ہے کہ
وطن میں جب بھی ستم کی ہوائیں چلتی ہیں
تلاش کرتی ہے رسوائی کج کلاہوں کو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں