9

بڑے میاں کے بعد چھوٹے میاں کا نمبرلگ گیا ۔۔ شام ہوتے ہی حکومت نے نام نہاد خادم اعلیٰ پنجاب کو 1100 وولٹ کا جھٹکا دے دیا

لاہور(ویب ڈیسک) حکومت نےشہباز شریف کو بڑا جھٹکا دے دیا ہے ، وزرا کا کہنا ہے لیپ ٹاپ سکیم میں شہباز شریف کو کلین چٹ نہیں دی، کرپشن چھپ کر کئی طریقوں سے کی جاتی ہے، انھوں نے کہا کہ شہباز شریف نے اگر کرپشن کی ہے تو ہر صورت نہیں چھوڑا جائے ،

وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب راجہ ہمایوں یاسر نے ترجمان وزیراعلی شہباز گل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہائر ایجوکیشن کمیشن تحقیقاتی ادارہ نہیں اصل انکوائری نیب کر رہا ہے، وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گا۔ انہوں نے کہا طلبہ تنظیموں کی بحالی کے لئے کمیٹی کام کر رہی ہے جبکہ طلبہ کی مثبت سرگرمیوں کی کھیلوں کا بھی فروغ دے رہے ہیں، جیل میں قید میاں نواز شریف کے علاج بارے ترجمان وزیرا علی پنجاب نے واضح بتا دیا کہ میاں نواز شریف علاج ہی بیرون ملک سے کرانا چاہتے ہیں وہ یہاں علاج کرانا ہی نہیں چاہتے جبکہ ہمارے پاس بہترین طبی سہولتیں موجود ہیں، یاد رہے کہ اس سے قبل یہ خبر بھی آئی تھی کہ پنجاب حکومت نے صوبائی اسمبلی میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کو لیپ ٹاپ اسکیم میں کلین چٹ دے دی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ایک اور الزام سے بری ہوگئے ہیں، پنجاب اسمبلی میں محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے لیپ ٹاپ انتہائی کم بولی والی فرم سے خریدے تھے، نیب لاہور نے گزشتہ مارچ سے انکوائری شروع کر رکھی ہے جس میں ایک فرد پر بھی بد عنوانی ثابت نہیں ہوئی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ لیپ ٹاپ تقسیم میں سیاستدان اور بیوروکریٹس بدعنوانی کے مرتکب ہوئے اور یہ الزام بھی درست نہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں

لیپ ٹاپ غائب کیے گئے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب لاہور نے گزشتہ سال مارچ سے ایک انکوائری شروع کررکھی ہےمگر ابھی تک ایک فرد بھی بدعنوانی میں ملوث نہیں پایا گیا، لیپ ٹاپ سکیم میں گڑبڑ اور بدعنوانیوں کے الزامات سے بری قرار پانے کی خبر کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے سابق وزیراعلی شہبازشریف کے ایک اور منصوبے کو گھپلوں سے پاک قرار دیتے ہوئے اس میں گڑبڑ اور بدعنوانی کے الزامات مسترد کردئیے۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں محترمہ مومنہ وحید کے سوال کے تحریری جواب میں لوکل گورنمنٹ کے وزیر راجہ بشارت نے ایوان کو بتایا کہ سابق دور حکومت میں سات شہروں میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز قائم کی گئیں جن میں لاہور گوجرانوالہ سیالکوٹ راولپنڈی فیصل آباد ملتان اور بہاولپور شامل ہیں، انہوں نے کہاکہ یہ درست نہیں ہے کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ میں اربوں روپے کے گھپلے ہوئے ہیں۔ راجہ بشارت جو پنجاب کے وزیر قانون بھی ہیں، نے جواب میں کہاکہ یہ بھی درست نہیں کہ گھوسٹ ملازمین کی تنخواہیں وصول کرنے میں کئی سیاستدان اور سرکاری افسران ملوث پائے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں پروکیورمنٹ پراسیس میں بے ضابطگیوں کی بنا پر اینٹی کرپشن میں متعلقہ افراد پر مقدمہ درج ہے۔ مومنہ وحید نے سوال پوچھا تھا کہ کیا یہ درست ہے کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ میں اربوں روپے کے گھپلے اور گھوسٹ ملازمین کی تنخواہیں وصول کرنے میں کئی سیاستدان اور سرکاری افسران ملوث پائے گئے ہیں، اور اب یہ خبر سامنے آئی ہے ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں