14

اب ہوٹلوں میں یہ شرمناک کام سرعام ہوگا ۔۔۔۔ حکومت نے 22 سال بعد ایسے کام اجازت دے دی کہ ہر کوئی توبہ توبہ کراٹھا

لاہور (نیوز ڈیسک)صوبائی دارالحکومت میں بائیس سال کے بعد شراب کی فروخت کا لائسنس مل گیا۔ تفصیلات کے مطابق 22 سال کے بعد لاہور میں شراب کی فروخت کا لائسنس مل گیا ہے۔ لاہور ائیرپورٹ کے قریب بننے والے نئے ہوٹل سے شراب کی فرو خت آئندہ ماہ شروع ہو جائے گی ۔

لائسنس محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے جنوری میں ہوٹل کو جاری کیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں کسی بھی ہوٹل کو 22 سال بعد شراب فروخت کرنے کا لائسنس جاری کیا گیا ہے ۔ آخری مرتبہ ایسا لائسنس 1997ء میں ایک ہوٹل کو جاری کیا گیا تھا۔اس لائسنس کے اجرا کے بعد اب لاہور میں شراب فروخت کرنے والے ہوٹلوں کی تعداد پانچ ہو جائے گی۔اس نئے ہوٹل سے بھی صرف غیر مسلموں کو پرمٹ پر شراب فروخت کی جائے گی۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے ذرائع کے مطابق متعدد ہوٹلز اور کلبز نے شراب کی فروخت کا لائسنس جاری کرنے کی درخواستیں دی تھیں لیکن کسی حکومت نے منظوری نہیں دی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ جس ہوٹل کو اب لائسنس دیا گیا ہے، وہ پیر بگھے شاہ کی ملکیت ہے۔ صوبائی حکومت سے منظوری لینے کے بعد ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اکرم اشرف گوندل نے لائسنس کے اجرا کے احکامات جاری کئے ۔ پیر بگھے شاہ کی کمپنی کے ملک کے متعدد ائیرپورٹس پر پارکنگ اسٹینڈ سے لے کر دکانوں کے ٹھیکے بھی ہیں۔یاد رہے کہ رواں برس کے آغاز میں ہی لاہور ائیر پورٹ پر شراب اور بئیر فروخت ہونے کی خبریں گردش کررہی تھیں جس پر ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل نے وضاحت پیش کی تھی۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل نےکہا کہ کچھ نجی ٹی وی چینلز نے یہ خبر نشر کی کہ لاہور ائیر پورٹ اب شراب اور بئیر دستیاب ہو گی اور یہ کہاگیا کہ پنجاب حکومت نے اس کی اجازت بھی دے دی ہے حالانکہ یہ خبر غلط اور بے بنیاد ہے۔ ٹی وی رپورٹس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ اپنے ویڈیو پیغام میں ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ سچ یہ ہے کہ لاہور ائیرپورٹ کی سائیڈ پر ایک فور اسٹار یا فائیو اسٹار ہوٹل زیر تعمیر ہے جو غالباً مارچ تک مکمل ہو جائے گا۔ جتنے بھی فور اسٹار اور فائیو اسٹار ہوٹلز ہیں، جس طرح کی اجازت ان کے پاس ہے اسی طرح کی اجازت اس ہوٹل کے پاس بھی ہو گی۔اس ہوٹل کو بھی وہی اجازت دی گئی ہے جو اس سے پہلے فور اسٹار یا فائیو اسٹار ہوٹلز کے پاس موجود ہے۔ یہ خبر در اصل اُس زیر تعمیر ہوٹل کی تھی جسے ائیرپورٹ کی خبر بنا کر چلایا گیا۔ در حقیقت یہ ہوٹل ائیر پورٹ کے اوپر نہیں ہے بلکہ ائیرپورٹ کے پاس ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ائیرپورٹ ہمیشہ ایوی ایشن کے زیر انتظام آتا ہے پنجاب حکومت کے نہیں۔ حکومت پنجاب وہاں کچھ نہیں کر سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں