12

سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہنے والے عون چودھری نے کپتان کی خاطربڑی قربانی دے ڈالی

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی اظہار ناراضگی کے بعد وزیراعلی پنجاب کے معاون خصوصی عون چوہدری نے بڑھی ہوئی تنخواہ نہ لینے کااعلان کردیا اور کہا پہلے سے ملنے والی تنخواہ بھی شوکت خانم کے لیے وقف ہے، یاد رہے کہ عون چودھری عمران خان کے پولیٹیکل سیکرٹری بھی رہے ہیں ،

وزیراعظم عمران خان کی اظہار ناراضگی کے بعد وزیراعلی پنجاب کے معاون خصوصی عون چوہدری نے بڑھی ہوئی تنخواہ نہ لینے کااعلان کردیا ہے ، تفصیلات کے مطابق اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کی برہمی کے بعد پنجاب کی کابینہ میں سے پہلے رکن نے اضافی تنخواہ لینے سے انکار کر دیا، وزیراعلی کےمعاون خصوصی عون چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں بڑھی ہوئی تنخواہ نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تنخواہوں میں اضافے پروزیراعظم کا مؤقف سو فیصد درست ہے، پہلے سے ملنے والی تنخواہ بھی شوکت خانم کے لیےوقف ہے، یاد رہے وزیراعظم عمران خان نے پنجاب اسمبلی میں ارکان کی تنخواہوں میں اضافے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا پنجاب اسمبلی کی جانب سے اراکین اسمبلی، وزراء خصوصاً وزیراعلیٰ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کافیصلہ سخت مایوس کن ہے، پاکستان خوشحال ہوجائےتوشاید یہ قابلِ فہم ہومگر ایسے میں جب عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بھی وسائل دستیاب نہیں،یہ فیصلہ بالکل بلاجواز ہے، گذشتہ روز پنجاب اسمبلی میں اراکین کی تنخواہوں میں اضافے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا تھا ، جس کے مطابق اراکین اسمبلی کوماہانہ ایک لاکھ 95 ہزارتنخواہ ملےگی جبکہ اراکین اسمبلی کی بنیادی تنخواہ 80 ہزارروپےکردی گئی، اسپیکرپنجاب اسمبلی ہر ماہ 2 لاکھ 60ہزار روپے ، ڈپٹی اسپیکر 2 لاکھ 45ہزار روپے اور وزیراعلیٰ پنجاب4 لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ ماہانہ لیں گے، یہ فیصلہ انھوں نے خود کیا ہے ۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پنجاب اسمبلی میں ارکان کی تنخواہوں میں اضافے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہمارے پاس عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے وسائل نہیں، یہ فیصلہ بالکل بلاجواز ہے، تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا پنجاب اسمبلی کی جانب سے اراکین اسمبلی، وزراء خصوصاً وزیراعلیٰ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کافیصلہ سخت مایوس کن ہے، پاکستان خوشحال ہوجائےتوشاید یہ قابلِ فہم ہومگر ایسے میں جب عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بھی وسائل دستیاب نہیں،یہ فیصلہ بالکل بلاجواز ہے، یاد رہے گذشتہ روز پنجاب اسمبلی میں اراکین کی تنخواہوں میں اضافے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا تھا ، جس کے مطابق اراکین اسمبلی کوماہانہ ایک لاکھ 95 ہزارتنخواہ ملےگی، قرارداد کے مطابق اراکین اسمبلی کی بنیادی تنخواہ 80 ہزارروپےکردی گئی جبکہ ہاؤس رینٹ کی مدمیں 50 ہزارروپےملیں گے اور صوبائی وزرا2 لاکھ75 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لیں گے، اسپیکرپنجاب اسمبلی ہر ماہ 2 لاکھ 60ہزارروپے ، ڈپٹی اسپیکر2لاکھ45ہزارروپے اور وزیراعلیٰ پنجاب4لاکھ 25 ہزارروپےتنخواہ ماہانہ لیں گے، خیال رہے وزیر اعظم عمران خان کی سیلری سلپ پہلی بارمنظرعام پرآ گئی ہے، جس کے مطابق عمران خان ملک کے وزیراعظم ہوتے ہوئے وزرا سے بھی کم تنخواہ وصول کرر ہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کو ہرماہ ایک لاکھ چھیانوے ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے، عمران خان کی بنیادی تنخواہ ایک لاکھ سات ہزار دو سو اسی روپے ہے، وزیراعظم کو مہمانداری الاؤنس کی مد میں پچاس ہزاراورایڈہاک ریلف الاؤنس کےاکیس ہزارچارسو چھپن روپےملتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں