9

خوشیاں ملنے سے پہلے ہی خاک ہوگئیں ، اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے ناقابل یقین اعلان ہوگیا

لاہور (نیوز ڈیسک) گورنر پنجاب نے اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کے بل پر فوری دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور محکمہ قانون سے اس معاملے پر بریفنگ لیں گے جبکہ دستخط سے قبل وہ وزیراعظم عمران خان

سے مشاورت بھی کریں گے۔ کا کہنا ہے کہ ابھی تک گورنر پنجاب نے بل پر دستخط نہیں کئے، گورنر پنجاب آئینی طور پر 10 دن کے اندر بل دوبارہ غور کے لئے واپس اسمبلی کو بجھوا سکتے ہیں۔ اسمبلی اگر دوبارہ من عن بل پاس کر دے تو گورنر دستخط کر نے کے پابند ہونگے۔ اگر گورنر 10 دن کے اندر بل پر دستخط نہیں کرتے تو بل از خود منظور تصور ہوگا۔ یاد رہے گزشتہ روز ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل پنجاب اسمبلی نے منظور کیا تھا جس کے تحت اراکین اسمبلی کی تنخواہ اورمراعات 83 ہزار ماہانہ سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے تک کر دی گئی۔ جبکہ دوسری جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پر شدید مایوسی کا اظہار کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے پر شدید مایوسی ہوئی ہے ، پاکستان میں خوشحالی واپس آئے تو ایسے اقدام کا جواز بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ہمارے پاس عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے وسائل نہیں ہیں ، یہ اقدام اٹھانا ناقابل دفاع ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل منظور کیا گیا جس کے بعد اراکین اسمبلی کی تنخواہ اور مراعات 83 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔ بل کے مطابق بنیادی تنخواہ 18 ہزار سے بڑھا کر 80 ہزار روپے کر دی گئی ہے جبکہ ڈیلی الاﺅ نس ایک ہزار سے چار ہزار روپے، ہاﺅس رینٹ 29 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے ہو اور یوٹیلیٹی الاﺅنس 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں