14

آئی فون کے دن پورے ہو گئے ۔۔۔۔۔ دنیا بھر میں آئی فون کے متوالوں کے لیے وارننگ جیسی خبر آ گئی

کراچی (ویب ڈیسک) لگ رہا ہے کہ آئی فون کے دن پورے ہونے کو آگئے ہیں۔ امریکا میں کاروبار کا مرکز سمجھے جانے والے ادارے وال اسٹریٹ کے تجزیہ کاروں اور مبصرین کا دعویٰ ہے کہ ایپل کمپنی کے معروف سمارٹ فونز ’’آئی فون‘‘ کی طلب میں انتہائی حد تک کمی واقع ہو چکی ہے،

خصوصاً چین میں اس کے استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد میں زبردست زوال دیکھا گیا ہے۔ ایپل کی جانب سے شائع کی جانے والی گزشتہ سہ ماہی کی رپورٹ میں بھی اسی بات کی انکشاف کیا گیا ہے کہ کمپنی کی آمدنی میں نمایاں حد تک کمی آئی ہے،۔ٹیکنالوجی کی معروف امریکی کمپنی ایپل کے مطابق رواں سال کی مسلسل دوسری سہ ماہی میں فون کی فروخت میں کمی آئی ہے تاہم 15 فیصد کمی اتنی بری نہیں جتنا ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا۔ایپل کے مطابق رواں برس تیسری سہ ماہی میں 4 کروڑ 40 لاکھ ایپل فون برآمد ہوئے ہیں جو کہ اندازے سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ اپیل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے کہا ہے کہ یہ نتائج صارفین کی مضبوط طلب کو ظاہر کرتی ہے۔ ادرے کا کہنا ہے کہ اندازہ تھا کہ چوتھی سہ ماہی میں ایپ کی فروخت 45.5 ارب کروڑ ڈالر اور 47.5 ارب ڈالر کے درمیان رہے گی۔ دوسری سہ ماہی کے بعد ایپل کی ڈیمانڈ میں کمی دیکھنے میں آئی تھی۔ یہ وہ موقعہ تھا جب کمپنی نے بتایا تھا کہ اس نے ایپل کی فروخت میں سنہ 2007 کے بعد 2019 میں پہلی بار کمی دیکھی ہے۔کمپنی کے مطابق اس کی وجہ معاشی غیر یقینی ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنے فون کو اپ گریڈ نہیں کر رہے۔ایپل کی مصنوعات کا ایک چوتھائی حصہ چین میں فروخت ہوتا ہے جو پورے یورپ میں ہونے والی فروخت کے برابر ہے ایپل کی مصنوعات کا ایک چوتھائی حصہ چین میں فروخت ہوتا ہے جو پورے یورپ میں ہونے والی فروخت کے برابر ہے۔ ایپل کے چیف لوکا میئسٹری کا کہنا ہے کہ صاف ظاہر ہے کہ چین میں اقتصادی ترقی میں سستی آئی ہے اور ہم ان لوگوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہم چین کو بہتر سمجھتے ہیں اور ہم مستقبل کے بارے میں بہت بہت پر امید ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں