86

تم نے جھوٹ بولا ، اب تم پر اللہ کا قہر نازل ہونے والا ہے ؟ آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں یہ ریمارکس چیف جسٹس نے کس کو مخاطب ہو کر دیے؟ تازہ ترین خبر

اسلام آباد(ویب ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قتل کیس میں جھوٹی گواہی دینے والے اے ایس آئی خضرحیات کو جھوٹا قراردے دیا اور اے ایس آئی کیخلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے معاملہ سیشن کورٹ نارووال کو ارسال کردیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں آپ نے کہاجھوٹ بولوں تواللہ

کاقہرنازل ہو،شاید اللہ کاقہر نازل ہونے کاوقت آگیا،آج 4 مارچ 2019 سے سچ کاسفرشروع کررہے ہیں تاکہ تمام گواہوں کوخبرہوجائے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نظام عدل کو تباہ کرنے والے لوگوں سے ہمیں کوئی ہمدردی نہیں ،اب جھوٹ نہیں چلے گا،انصاف چاہئے تو سچ بولنا ہوگا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم نے71 سال ضائع کردیئے ،کسی کو جھوٹ بولنے کالائسنس کیوں دیں ،جھوٹ چلتا رہے گا توانصاف نہیں ہوگا۔ خضرحیات نے لاہور میں بیٹھ کر نارووال میں واقعہ دیکھ لیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے قرآنی آیات بھی پڑھ کر سنائیں حق آگیا باطل مٹ گیا،بے شک باطل مٹنے کیلئے ہے ۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ نے جھوٹی گواہی سے متعلق کیس کی سماعت کی، قتل کیس میں جھوٹی گواہی دینے کے الزام میں اے ایس آئی خضرحیات سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اے ایس آئی سے استفسار کیا کہ آپ وحدت کالونی لاہورمیں کام کررہے تھے،آپ نے نارووال میں قتل کے مقدمے کی گواہی دے دی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ حلف پرجھوٹا بیان دیناغلط ہے،اگرانسانوں کانہیں تواللہ کاخوف کرناچاہئے تھا، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق آپ چھٹی پر تھے،پولیس والے ہوکے آپ نے جھوٹ بولا،ہائیکورٹ نے بھی کہاکہ یہ جھوٹا ہے، وکیل اے ایس آئی خضرحیات نے کہا کہ عید کا دن تھا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عید کے دن جھوٹ بولنے کی اجازت ہوتی ہے؟تھانے میں کوئی ملنے والابھی آئے توریکارڈرکھاجاتا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ قانون کہتا ہے جھوٹی گواہی پرعمرقید ہوتی ہے ، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بیان کاکچھ حصہ جھوٹ ہوا تو سارا بیان مستردہوگا،آج سے جھوٹی گواہی کاخاتمہ کررہے ہیں،اس جھوٹے گواہ سے آغازکررہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے قتل کیس میں جھوٹی گواہی دینے والے اے ایس آئی خضرحیات کو جھوٹا قراردیدیا اور اے ایس آئی کیخلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے معاملہ سیشن کورٹ نارووال کو ارسال کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں