27

ہزاروں سال قدیم اہرام مصر کی چوٹی پر شرمناک کام ، جان کر آپ کے بھی ہوش اُڑ جائینگے

اسلام آباد(نیو زڈیسک)اہرام مصر کی چوٹی پر برہنہ ویڈیو اور تصاویر بنانے پر تنازع دور جدید کے دنیا کے سات عجوبات میں سے ایک اہرام مصر کی چوٹی پر یورپی ملک ڈینمارک کے ایک جوڑے کی جانب سے برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بنانے پر مصر میں سوشل میڈیا پر شروع ہونے والے ہنگامے کے

بعد حکومت نے معاملے کی تفتیش کا حکم دے دیا۔مصر کے سرکاری اخبار ’الاحرام‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مصر کے وزیر آثار قدیمہ خالد العنانی نے اہرام مصر کی چوٹی پر بنائی گئیں قابل اعتراض ویڈیو اور تصاویر سامنے آنے کے بعد معاملے کی باقاعدہ رپورٹ درج کروادی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ یورپی جوڑے کی قابل اعتراض ویڈیو اور تصاویر سامنے آنے کے بعد مصری عوام کی جانب سے کیے گئے غصے کے بعد وزیر آثار قدیمہ نے اراکین پارلیمنٹ کو بتایا کہ اب اس معاملے کی باقاعدہ تفتیش ہوگی۔خالد العنانی کا کہنا تھا کہ تتفتیش نگار اس بات کی تحقیق کریں گے، یورپی جوڑا ممنوع جگہ پر کیسے پہنچا اور انہوں نے کس طرح تاریخی مقام کی چوٹی سر کرنے کے بعد وہاں عریاں ویڈیو اور تصاویر بنائیں۔’الاحرام‘ کی رپورٹ کے مطابق یورپی جوڑے کی جانب سے قابل اعتراض ویڈیو کو رواں ماہ 5 دسمبر کو یوٹیوب پر جاری کیا گیا تھا، جسے دیکھنے کے بعد مصری عوام نے غم و غصے کا اظہار کیا۔مصری عوام کا کہنا تھا کہ کوئی غیر ملکی جوڑا کس طرح اس مقام پر گیا، جہاں جانے پر پابندی ہے، ساتھ ہی عوام نے وہاں جوڑے کی جانب سے کی گئی حرکت پر بھی غصے کا اظہار کیا گیا۔ادھرڈینمارک کے خبر رساں ادارے ایکسٹرا بلیڈٹ نے اہرام مصر کی چوٹی سر کرنے والے فوٹوگرافر ایندریز ہیورس کا انٹرویو شائع کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ

انہوں نے تاریخی مقام کی چوٹی پر کوئی قابل اعتراض کام نہیں کیا۔فوٹو گرافر نے دنیا کے سات عجوبات میں سے ایک کی چوٹی پر جاکر وہاں ویڈیو اور تصاویر بنانے کو اپنی خوش قسمتی بھی قرار دیا۔مصر کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی جوڑے کی تصاویر میں جوڑے کو اہرام مصر کی چوٹی پر عریاں حالت میں دیکھا جاسکتا ہے۔اگرچہ فوٹو گرافر نے ڈینمارک کے خبر رساں ادارے سے بھی بات کی، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جوڑا اب بھی مصر میں موجود ہے یا نہیں۔دوسری جانب فوٹو گرافر نے یوٹیوب پر جاری کی گئی ویڈیو کو تاحال نہیں ہٹایا اور نہ ہی اپنی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر کو ہٹایا ہے۔یہ کسی بھی تاریخی اور اہم مقام پر اس طرح کا پہلا متنازع معاملہ نہیں ہے، رواں برس جولائی میں یورپی ملک بیلجیم سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ ماڈل ماریسا پاپین نے بھی فلسطین کے شہر بیت المقدس میں نازیبا فوٹو شوٹ کروایا تھا۔ماریسا پاپین نے یہودیوں کے لیے مقدس ’دیوار گریہ‘ کی حدود میں برہنہ فوٹو شوٹ کروایا تھا۔اسی ماڈل نے 2017 میں اہرام مصر کے سامنے بھی عریاں فوٹو شوٹ کروانے کی کوشش کی تھی، جس پر انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔اسی طرح رواں برس مارچ میں بولی وڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کو بھی ایک مندر میں جاکر خوبصورتی کا اشتہار بنانے پر آڑے ہاتھوں لیا گیا تھا اور ان کے خلاف جذبات مجروح کروانے کا مقدمہ بھی درج کروایا گیا تھا۔روینہ ٹنڈن نے مندر کی حدود میں ’نو کیمرا زون‘ میں جاکر خوبصورتی بڑھانے کے طریقہ کاربتانے کی موبائل کے ذریعے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کروائی تھی، جو ریلیز ہونے سے قبل ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی، جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔

[wpna_ad placement_id=”1934123506654111_1934123563320772″]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں