19

برطانوی ماہرین کی انوکھی دریافت۔۔ ایسی سونڈی تلاش کر لی جو ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے میں سب سے بڑی مدد گار ثابت ہو گی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پلاسٹک بیگ تلف کرنے میں مددگار سنڈی دریافت کی گئی ہے۔ سنڈی کے لاروے شہد کی مکھی کے چھتے بھی کھا جاتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک بیگ کھانے والی سنڈی ان بیگز سے پیدا ہونے والی آلودگی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ برطانیہ کی کیمبرج

یونیورسٹی کے محققین نے شہد کی مکھی کے چھتے سے موم کھانے والی ایک سنڈی دریافت کی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سنڈی پلاسٹک بھی کھا سکتی ہے۔ تجربات کے نتائج کے مطابق یہ سنڈی پلاسٹک کی کیمیائی ساخت کو اسی طرح توڑ سکتی ہے جیسے وہ مکھی کے چھتے کو ہضم کر لیتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 8 کروڑ ٹن پلاسٹک پولی تھلین بنائی جاتی ہے۔ اس پلاسٹک کا استعمال شاپنگ بیگز کی تیاری اور اشیائے خوردونوش کی پیکنگ میں ہوتا ہے لیکن ان کے مکمل طور پر گلنے اور سڑنے میں سینکڑوں سال لگ سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ‘گیلیریا مولونیلا’ نامی سنڈی صرف ایک گھنٹے کے دوران پلاسٹک میں بھی سوراخ کر سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف کیمبرج کی تحقیق سے منسلک ڈاکٹر پاؤلو بومبیلی نے کہا ہے کہ یہ نقط آغاز ہے جس سے پلاسٹک کے کوڑے کے مسئلے کو کم سے کم کرنے کے لئے کوئی تکنیکی حل ڈھونڈا جا سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں