29

کیوں نہ وزیراعظم کو عدالت بلالیں اور ۔۔!! عمران خان کونسی غلطی کر بیٹھے، چیف جسٹس برہم،حکم جاری

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ میں آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دئے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک فون کال پر آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ کر دیا، کیوں نا وزیراعظم عمران خان کو عدالت میں بُلا کر ان سے وضاحت طلب کی جائے۔ سماعت کے دوران

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے اعظم سواتی کا جواب پڑھ لیا ہے۔آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عدالت خود ٹرائل کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ آپ حاکم وقت ہیں کیا حاکم محکوم کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں۔کیا حاکم بھینسوں کی وجہ سےعورتوں کو جیل میں بھیجتے ہیں؟کیوں نا اعظم سواتی کو ملک کے لیے ایک مثال بنائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی صاحب! آپ نے اس معاملے میں کوئی ایکشن نہیں لیا۔جس پر آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اس لیے ایکشن نہیں لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے غفلت برتی ہے۔ چیف جسٹس نے اعظم سواتی سے کہا کہ آپ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کارروائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ چیف جسٹس نے اعظم سواتی کا معافی نامہ مسترد کیا اور ان کی جانب سے ڈیم فنڈ میں عطیہ قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کے پیسے ڈیم فنڈز کے لیے نہیں چاہئیں۔ اعظم سواتی اخلاقی جرأت کر کے کچھ کرنا نہیں چاہتے۔شعور اُس وقت آئے گا جب سزا ملے گی ، یہ ارب پتی ہیں کوئی چھوٹے موٹے بندے نہیں ہیں۔ معافی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف نے اعظم سواتی کے خلاف کیا ایکشن لیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ نیب کے قانون کے تحت دیکھیں گے کہ کیا کارروائی بنتی ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی وزیر اعظم سواتی کے صاحبزادے کی جانب سے ان کے فارم ہاؤس کے قریب رہائش پذیر غریب پرور خاندان کے خلاف اندراج مقدمہ کے بعد صورتحال خراب ہوئی۔ وفاقی وزیراعظم سواتی نے معاملے پر آئی جی اسلام آباد کو کئی مرتبہ فون کرنے کا اعتراف کیا۔ یہ جھگڑا ابھی سُلجھا نہیں تھا کہ اسی دوران آئی جی اسلام آباد جان محمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جس پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں