356

سیکس کے نشے میں مبتلا افراد کے دن رات کیسے گزرتے ہیں اور جنسی نشے کا علاج کرنے والے کلینکس میں ان پر کیا گزرتی ہے ؟ ایک خاتون کی سچی کہانی ملاحظہ کریں

لاہور (ویب ڈیسک) ایک سال قبل ہالی وڈ کے مشہور پروڈیوسر ہاروی وائن سٹین ریپ اور چھیڑ چھاڑ کے الزامات کی بوچھاڑ اور می ٹو مہم کے بعد جنسی نشے کا علاج کرنے والے ایک کلینک میں داخل ہوئے تھے۔ معروف خاتون صحافی سنگیتا مائسکا نے جنس کے نشے میں گرفتار ایسے ہی چند افراد سے ملاقات کر کے

یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا ایسا کوئی نشہ واقعی پایا جاتا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو اس میں مبتلا افراد پر کیا گزرتی ہے؟ نائلہ 15 سال قبل وسطی ایشیا سے برطانیہ آئی تھیں۔ وہ ایک ٹریڈنگ کمپنی میں کام کرتی تھیں جہاں کروڑوں پاؤنڈ کمانے والے مردوں کا راج تھا۔ ان کے علاوہ یہاں صرف ایک اور خاتون کام کرتی تھیں اور ان کے مرد رفقائے کار بعض اوقات بڑی سکرینوں پر مارکیٹ ڈیٹا کی بجائے پورن ویڈیو چلاتے تھے۔ وہ کہتی ہیں: ‘مجھے یہ پسند نہیں تھا لیکن یہ میرے کریئر کا آغاز تھا۔ تنخواہ اچھی تھی اور میں اس سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتی تھی۔ ‘میں جانتی تھی کہ دفتر کے لوگ چاہتے ہیں کہ میں یہ ویڈیو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاؤں۔ اس لیے میں نے گھر جا کر پورن ویڈیو دیکھنا شروع کر دیں کہ دفتر میں یہ دیکھ کر مجھے حیرت نہ ہو۔’ لیکن جلد ہی نائلہ خود ان ویڈیوز کے نشے کا شکار ہو گئیں۔ حالانکہ ان کا قدامت پسند خاندان ایسا تھا کہ وہاں جنس کا کبھی تذکرہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ کب دفتر سے گھر پہنچیں اور یہ ویڈیوز دیکھنا شروع کر دیں۔

پھر وہ ہر روز دو سے تین گھنٹے دیکھ کر تسکین حاصل کرتی رہتی تھیں اور اس کے بغیر ان کا گزارہ نہیں ہوتا تھا۔وہ کہتی ہیں کہ انھیں خود پر قابو نہیں رہا تھا۔ البتہ وہ خود کو یہ تسلی دیا کرتی تھیں کہ کم از کم اس طرح وہ کسی جنسی مرض کا شکار نہیں ہو سکتیں۔ تاہم ان کی طلب بڑھتی گئی اور وہ زیادہ سے زیادہ شدید جنسی ویڈیوز حتیٰ کہ تشدد والی ویڈیوز دیکھنے لگیں۔ انھوں نے کئی مردوں سے تعلقات قائم کیے لیکن ہر تعلق ناکام رہا کیوں کہ وہ ان مردوں میں ایسی خصوصیات ڈھونڈنے کی بےسود کوشش کرتی رہتی تھیں جو ویڈیوز میں دیکھتی تھیں، لیکن اصل زندگی میں انھیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ آخر انھوں نے شہر چھوڑ دیا اور لندن کے لارل سینٹر سے کونسلنگ کی تربیت حاصل کی۔ اب ان کی عمر 40 سے اوپر ہے اور وہ ایسے لوگوں کی کونسلنگ کرتی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ جنس کی لت میں مبتلا ہیں۔ یہ خاصا مہنگا کلینک ہے اور اس کی فیس سینکڑوں پاؤنڈ فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے۔ برطانوی محکمۂ صحت این ایچ ایس جنس کے نشے کو کوئی مخصوص بیماری نہیں سمجھتا، لیکن ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں سینکڑوں افراد اس نشے کا شکار ہیں، جن کی اکثریت مردوں پر مشتمل ہے۔

تاہم عالمی ادارۂ صحت نے حال ہی میں جبری جنسی رویے کو بیماریوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ پال نامی ایک ادھیڑ عمر مرد نے مجھے بتایا کہ وہ اس وقت جنس کے نشے کا شکار ہو گئے تھے جب وہ یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی گرل فرینڈ بھی تھی لیکن وہ ان کے لیے کافی نہیں تھی اور ‘مجھے کسی وجہ سے ایک طوائف کے پاس جانا پڑتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے۔’ چند ہفتوں کے اندر اندر ان کا رویہ بدلتا گیا اور حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ ‘میری چھ گرل فرینڈز تھیں اور ساتھ ہی ساتھ میں ہر ہفتے دو سے تین سیکس ورکرز سے ملتا تھا۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے مجھے بھوک لگے اور میں پیزا کا آرڈر دے دوں۔’ پھر انھیں لندن میں ایک اچھی نوکری مل گئی جہاں انھیں محسوس ہوا کہ ان کا رویہ کچھ زیادہ غیر معمولی نہیں ہے۔ یہاں وہ جیٹ جہازوں میں گھومتے تھے اور راتیں دوستوں کو کلبوں میں گزارتے تھے۔ تاہم ان کے دل میں پھر بھی شک موجود رہا کہ وہ نارمل نہیں ہیں، کیوں کہ اگر ان کے دوست ہفتے میں دو دن کلب جاتے تھے تو انھیں بار بار جانا پڑتا تھا۔ رفتہ رفتہ نائلہ کی طرح پال بھی مختلف سے مختلف تجربات کرتے گئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اب انھوں نے مردوں سے بھی تعلقات قائم کرنا شروع کر دیے،

حالانکہ وہ خود کو ہم جنس پرست نہیں سمجھتے۔ ساتھ ہی انھیں پورن کا چسکہ بھی لگ گیا اور وہ گھنٹوں پورن دیکھنے لگے۔ آخر وہ بھی لارل کلینک پہنچے اور اب ان کا خیال ہے کہ ان کی حالت میں بہتری آ گئی ہے۔ ان کا عزم ہے کہ وہ ایک خاتون تک محدود ہو کر رہیں۔ ‘یہ ایک تنہا کر دینے والی بیماری ہے۔ آپ ایک مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کے پاس وقت محدود ہے۔ میرا کسی کے ساتھ محبت بھرا رشتہ نہیں رہا، اور یہ وہ چیز ہے جس کی کمی مجھے 30 برسوں بعد محسوس ہوتی ہے۔’ جون میں عالمی ادارۂ صحت نے باضابطہ طور پر جنسی نشے کو تسلیم کر لیا۔ اس سے امید ہے کہ برطانیہ کا محکمۂ صحت بھی اسے تسلیم کر لے گا۔ میں نے گذشتہ ہفتوں میں کئی لوگوں سے بات کی ہے جو کہتے ہیں کہ وہ اس لت کا شکار ہیں اور وہ اس سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ اس عادت سے ان کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں۔ جہاں تک وائن سٹین کا تعلق ہے تو مجھے شک ہے کہ وہ جنسی نشے کے کلینک میں داخل ہو کر اپنے اقدامات کی ذمہ داری خود قبول کرنے سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔ جن لوگوں سے میری بات ہوئی ہے وہ کہتے ہیں کہ نشے کی انتہا پر بھی انھیں رضامندی سے کی جانے والی سیکس اور ریپ کا فرق معلوم تھا۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے ان میں سے کسی نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ جنسی نشے میں مبتلا افراد زیادہ تر خود کو، جب کہ جنسی شکاری دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

[wpna_ad placement_id=”1934123506654111_1934123563320772″]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں