85

یہودیوں کو زیتون کے پودے اور پھل سے اتنی نفرت کیوں ہے ؟ ایک انوکھی خبر

” >
بیت لحم (ویب ڈیسک )فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں المنیا کے مقام پر فلسطیی شہریوں کے زیتون کے باغات پر حملہ کر کے کم سے کم 200 پھل دارپودے نذرآتش کر ڈالے۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق المنیا کی دیہی کونسل کے چیئرمین زاہد کوازبہ نے بتایا

کہ یہودی آباد کاروں نے رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطینیوں کے زیتون کے باغات میں آگ لگا دی جس کے نتیجے میں 10 دونم پر پھیلے زیتون کے درخت جل کر خاکستر ہوگئے۔نذرآتش ہونے والے زیتون کے پھل دار پودے اورباغ الخلیل کے شہر سعیر سے تعلق رکھنے والے الطور خاندان کی ملکیت تھے۔خیال رہے کہ یہودی شرپسندوں کی جانب سے یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دوسری جانب ان دنوں زیتون کے پھل اتارنے کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ایک او خبر کے مطابق یک ایسے وقت میں جب صہیونی ریاست نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کے دو ملین عوام کے گرد گھیرا تنگ کر رکھا ہے اور روز مرہ کی بنیاد پر اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ بھی جاری ہے، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھونے غزہ کی پٹی کے لیے ایک نیا سیاسی فارمولہ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے حوالے سے نیا سیاسی فارمولہ تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔ غزہ کے حوالے سے مجوزہ سیاسی پلان پر اقوام متحدہ، مصر، اسرائیل، فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے باہمی صلاح مشورے سے کام کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ کے حوالے سے مجوزہ سیاسی منصوبے کے اہم نکات میں فریقین کے درمیان عام جنگ بندی، جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیر نو، غزہ پر عاید کردہ اسرائیلی پابندیوں کا خاتمہ اور غزہ کی زمام کار حماس کے ہاتھ سے لے کر فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنا جیسے اہم امور شامل ہیں۔فلسطینی سفارت کاروں کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مندوب برائے مشرق وسطیٰ نیکولائی ملاڈینوف نے حالیہ ایام میں غزہ کی پٹی کے متعدد بار دورے کیے ہیں۔ وہ حماس اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کے لیے متحرک ہیں۔درایں ثناء حماس کے نائب صدر خلیل الحیہ نے ایک بیان میں غزہ پر عاید کردہ اسرائیلی پابندیوں کے خاتمے اور اسرائیلی حملوں کی روک تھام کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔(ع،ع)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں