99

حضرت عمر بن خطا ؓب کے قبول اسلام کا ایمان افروز واقعہ

لاہور(ویب ڈیسک)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کا کام شروع کیا تو دشمنانِ اسلام آپ کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے لگے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ اسلام بھی اپنی دعوت کے ذریعے قبولیتِ عام حاصل کررہا تھا اور دشمنانِ اسلام بھی اسی نسبت سے مخالفت میں شدید تر ہوتے جارہے تھے۔

اس دور میں کفار کی طرف سے صحابہ کرامؓ بلکہ بعض اوقات خود نبوئ محترم صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی اذیتیں پہنچانا معمول بن چکا تھا۔ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات، غلام اور کنیزیں اسلام کی طرف راغب تھے، مگر قبول اسلام کے بعد ان پر جو قیامت ڈھائی جاتی،اس کا حال پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بلالؓ، خبّابؓ، عمارؓ،یاسرؓ، سمیّہؓ، زنیرہؓ اور اسی طرح بے شمار صحابہ وصحابیات بدترین مظالم کا نشانہ بنائے گئے۔ حضرت سمیہؓ تو مکہ میں ظلم وستم سے شہید کردی گئیں۔ حضرت یاسرؓ بھی مظالم برداشت کرتے کرتے دُنیا سے کوچ کرگئے۔ باقی مستضعفین صحابہؓ کو بھی مار ڈالنے کی کوششیں ہوئیں، مگر اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی۔ قریش کی مخالفت حد سے گزری تو ان بدبختوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے منصوبے بنائے۔ دارالندوہ میں مشورہ ہوا کہ کوئی شیردِل نوجوان جائے اور جاکر محمدؐ بن عبداللہ کا کام تمام کردے۔ کون یہ کام کرسکتا ہے؟ یہ سوال بڑا اہم تھا۔ کئی نوجوانوں نے خود کو اس خدمت کے لئے پیش کیا، مگر سردارانِ قریش نے ہر ایک سے کہا کہ یہ کام اس کے بس میں نہیں ہے۔ آخر بنو عدی کا سجیلا جوان عمربن خطاب کھڑا ہو گیا۔اس نے کہا: سردارانِ قریش! مَیں

ابھی یہ کام کرکے تم لوگوں کو خوش خبری سناتا ہوں۔ ابوجہل نے کہا: ’’ہاں یہ نوجوان یقیناًاس قابل ہے کہ اس کٹھن کام کو سرانجام دے سکے‘‘۔ فیصلہ ہوجانے کے بعد عمربن خطاب دارالندوہ سے نکلا۔ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی، چہرے پر عجیب غصے کی کیفیت کے ساتھ خودکلامی کے انداز میں کچھ کہتا ہوا چلاجارہا تھا۔ اچانک راستے میں نعیم بن عبداللہ سے آمنا سامنا ہوگیا۔ نعیمؓ کا تعلق بھی بنوعدی سے تھا۔ وہ اسلام لاچکے تھے، مگر ابھی تک اپنے اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا۔ ابن حجرالعسقلانی کے مطابق قبول اسلام میں ان کا دسواں نمبر ہے۔ نعیمؓ نے پوچھا: ’’عمر! کیا بات ہے؟ بڑے غصے میں نظر آرہے ہو‘‘؟ عمر نے کہا: ’’ہاں مَیں آج اس شخص کو قتل کرنے جا رہا ہوں جس نے باپ دادا کا دین بگاڑ دیا ہے‘‘۔ نعیمؓ بن عبداللہ نے بڑی حکمت کے ساتھ کہا: ’’اچھا اگر یہ بات ہے تو پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمہاری بہن فاطمہؓ بنت خطاب اور تمہارا بہنوئی سعیدؓ بن زید بھی آبائی دین کو چھوڑ چکے ہیں۔‘‘ (ایضاً ص567) یہ سننا تھا کہ عمر کے غصے میں اور اضافہ ہوگیا۔ اب دارِ ارقم جانے کی بجائے بہن کے گھر کی راہ لی۔ وہاں پہنچ کر

دیکھا کہ گھر کا دروازہ بند ہے اور اندر سے کسی چیز کے پڑھنے کی آواز آرہی ہے۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو بہن نے دروازہ کھولا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر انہی دِنوں سورۂ طٰہ نازل ہوئی تھی۔ اسی کی تلاوت اور حفظ کی مشق کی جارہی تھی۔ حضرت خباب بن ارتؓ جو آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سن کر یاد کرلیا کرتے تھے، بھی گھر میں موجود تھے۔ عمر کی آہٹ اور آواز سنتے ہی حضرت خبابؓ کو گھر میں چھپا دیا گیا۔ عمر نے بہن اور بہنوئی سے پوچھا: تم کیا پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: کچھ بھی نہیں۔ اس پر عمر کا غصہ بھڑک اُٹھا۔ بہنوئی کو زدوکوب کرنا شروع کیا، بہن بچانے کے لئے آئیں تو انہیں بھی خوب مارا پیٹا یہاں تک کہ وہ لہولہان ہوگئیں۔ اس موقع پر فاطمہ بنت خطاب نے اپنے بلند جذبۂ ایمانی سے بڑی جرأت اور استقامت سے بولتے ہوئے کہا: ’’عمر! سن لو ہم مسلمان ہوچکے ہیں، ہم نے شرک اور بت پرستی سے برأت کا اظہار کردیا ہے۔ تم جو کچھ کرنا چاہو کرلو، ہماری ہڈیاں توڑ سکتے ہو، مگر اسلام سے برگشتہ ہرگز نہیں کرسکتے۔‘‘ (الاصابۃ ، ص46)بہن کی زبان سے یہ سننا تھا کہ عمر کے دِل پر چوٹ لگی

اور وہ زمین پر بیٹھ گئے۔ پھر کہا: مجھے وہ صحیفہ سناؤ جو تم پڑھتے ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم اس صحیفے کی توہین برداشت نہیں کرسکتے، نہ ہی کسی مشرک کو دے سکتے ہیں، کیونکہ اسے صرف پاکیزہ لوگ ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا: اچھا مجھے خود سناؤ، تو مَیں اس کی کوئی توہین نہیں کروں گا۔ اس وعدے کے بعد حضرت خبابؓ کو اندر سے باہر بلایا گیا اورانہوں نے سورۂ طٰہ کی آیات کی تلاوت کی۔ چھوٹی چھوٹی آیات میں اتنا موثر پیغام سمودیا گیا ہے کہ اعجازِ قرآنی پر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اہلِ ایمان کے ایمان میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔ قرآن پورے سوز کے ساتھ پڑھا جارہا تھا اور عمر کے دِل کی دُنیا میں عظیم الشان انقلاب برپا ہو رہا تھا۔ قرآن تو ہے ہی کتابِ انقلاب، فرد سے لے کر معاشرے تک اس کے پیدا کردہ انقلاب کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ عمرؓ نے آیات قرآنی سنیں اور پھر خاموشی سے گھر کا دروازہ کھول کر نکل گئے۔ اب بھی منزل دارِ ارقم ہی تھی، مگر ارادہ بدل چکا تھا۔ یہ وہ عمر نہیں تھا جو دارالندوۃ سے نکلا تھا، یہ وہ عمر تھا جس کے حق

میں نبوئ مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں دربارِ ربانی میں قبول ہوچکی تھیں۔ قرآن کی اثرآفرینی کے ساتھ بہن کی استقامت نے بھی کفر کو مات دی تھی۔ جب عمربن خطاب دارِ ارقم پہنچے اور دروازے پر دستک دی تو ایک صحابی نے دروازے کے سوراخ میں سے ان کے ہاتھ میں ننگی تلوار دیکھ کر دروازہ کھولنے کی بجائے واپس آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر سرگوشی کے انداز میں کہا: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمربن خطاب دروازے پر کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہے۔‘‘ حضرت حمزہؓ جو صرف تین دن پہلے مسلمان ہوئے تھے، انہوں نے بھی یہ بات سن لی اور فرمایا: اللہ کے بندے دروازہ کھول دو۔ اگر عمر نیک ارادے سے آیا ہے تو سرآنکھوں پر اور اگر اس کا کوئی اور ارادہ ہے تو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں، مَیں اس کا سر اسی کی تلوار سے قلم کردوں گا۔ دروازہ کھلا، عمراندر آئے، سیدھے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ آپؐ نے ان کی چادر پکڑ کر کھینچا اور کہا عمر! کیسے آئے ہو؟ عرض کیا اسلام قبول کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ پھر کلمۂ شہادت پڑھا اور اسلام میں داخل ہوگئے۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی

زبانِ مبارک سے تکبیر کا نعرہ بلند ہوا۔ سبھی صحابہؓ نے بھی آپ کی تقلید میں اللہ کی کبریائی کا اعلان کیا اور دارِارقم تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھا۔ (سیرۃ ابن ہشام، جلددوم، ص346)اس عرصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل دُعا کرتے رہے تھے: اَللّٰہُمَّ انْصُرِالْاِسْلَام بِاحَدِ عُمَرَیْنِ۔ یعنی اے اللہ مکہ کے دوعمروں میں سے کسی ایک عمر کو اسلام کا مددگار بنادے۔ یعنی عمربن خطاب کو اسلام کی آغوش میں لے آ، یا عمرو بن ہشام(ابوجہل) کو ایمان کی توفیق بخش دے۔ آپ کی دعا کے یہ الفاظ بھی نقل کئے گئے ہیں۔ اَللّٰہُمَّ أَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ بِأَبِیْ جَہْلٍ اَوْ بِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابٍ۔ (صحیح بخاری، جامع ترمذی، ح3699) اے اللہ! ان دو مردانِ کار، ابوجہل اور عمربن خطابؓ میں سے جو بھی تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو عزت وقوت عطا فرما۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے عمربن خطاب کے بارے میں دُعائے نبویؐ کو شرف قبولیت بخشا۔ آپؐ کی اس دُعا میں بڑی حکمت ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: خِیَارُکُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُکُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِہُوا۔ یعنی تم میں سے جو لوگ جاہلیت میں اگلی صفوں میں کام کرتے ہیں، قبولیت اسلام کی توفیق مل جائے تو خدمت اسلام میں بھی وہ اگلی صفوں ہی میں ہوں گے:

اگر دین کا صحیح فہم حاصل کرلیں۔ (متفق علیہ، روایت: عبدالرحمن بن صخر)۔ ابوجہل اور عمربن الخطاب آپس میں ماموں بھانجا تھے۔یہ دونوں شخصیات اپنی بہادری اور جرأت نیز فہم و فراست اور اوصافِ قیادت میں نمایاں تھیں۔ ابوجہل بدبخت وبدنصیب ہے، مگر اس میں شک نہیں کہ وہ اپنے کفر پر اتنا مضبوط تھا کہ دنیا کا کوئی فرعون و نمرود مشکل ہی سے اس کی مثال پیش کر سکتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے قبول اسلام کے بعد آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: یقیناًہم حق پر ہیں۔ اس پر عرض کیا: پھر ہمیں دارِ ارقم کی بجائے بیت اللہ شریف میں جا کر نماز پڑھنی چاہیے۔ چنانچہ اس روز مسلمان دارِ ارقم سے دو صفیں بنا کر نکلے۔ ایک صف کے آگے آگے حمزہ بن عبدالمطلبؓ اور دوسری صف کے آگے عمربن خطابؓ تھے۔ مسلمان اس شان کے ساتھ حرم شریف میں آئے اور وہاں نماز پڑھی اور حضرت عمرؓ نے سردارانِ قریش کو متنبہ کردیا کہ وہ اسلام میں داخل ہوگئے ہیں۔ اس خبر سے قریش کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ یوں اہلِ علم کے نزدیک سیدنا عمربن خطابؓ مرادِ رسول ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں