اگلے 24 گھنٹوں میں ویڈیو میں ہر وکیل کی نشاندہی کرکے ۔۔۔ وزیراعظم عمران خان نے انصاف کر دیا، انتظامیہ کو بڑا حکم جاری کر دیا گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ جنگی صورتحال میں بھی ہسپتالوں پر حملے نہیں کیے جاتے ، پی آئی سی میں یہ کیسی انتہا پسندانہ سوچ کا عملی مظاہر ہ ہوا ہے ۔میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جنہوں نے ہسپتال

میں زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا مریضوں کے سامنے تشدد کی راہ اختیار کی اور مار پیٹ کر کے قانون کا بھی مذاق اڑا یا ۔فردوس عاشق اعوان نے بتا یا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹے میں سانحہ پی آئی سی کی رپورٹ پیش کی جائے ،قانون راستہ اختیار کرے اور کوئی کتنا ہی طاقتور ہو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ،چاہے ڈاکٹر یا پھر وکیل جو بھی ذمہ دار ہے ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور معروف اینکر ریحام خان بھی پنجاب انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء گردی اور صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب پر مشتعل وکلاءکے تشدد پرخاموش نہ رہ سکیں تاہم اُنہوں نے افسوسناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئےایسی بات کہہ دی ہےکہ وکیلوں کے ہاتھوں تھپڑوں کا شکار ہونےوالےفیاض الحسن چوہان کےدرد کی شدت میں اضافہ ہوجائےگاجبکہ تحریک انصاف کےکارکن بھی ریحام خان کےخلاف سوشل میڈیا پرگولہ باری کرنا شروع ہو جائیں گے ۔ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے معروف صحافی خاتون ریحام خان کا کہنا تھا کہ آج لاہور میں صورتحال اتنی خراب نہ ہوتی اگر اُسے کنٹرول کرنے کےلیےاَہل لوگ موجود ہوتے،آج کا واقعہ حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے،وزیراعلٰی صاحب لاہور تو دور کی بات صوبے میں ہی موجود نہ تھے اوپر سے انتظامیہ کو احکامات دینے کے لیے سلیکٹڈ کے میسج کا انتظار کرتے رہے.ریحام خان کا کہنا تھا کہ فیاض الحسن چوہان کے ساتھ جو ہوا اچھا نہیں ہوا،میں اُس کی مذمت کرتی ہوں لیکن حکومتی وزراء کو خود اپنی حیثیت اور عوام میں مقبولیت کا اندازہ ہونا چاہیے،عوام میں حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ایسے میں وزراء ہیرو بننے کی کوشش کریں گے تو ایسا ہی ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ آج حکومتی وزراء کے ساتھ لاہور کی سڑکوں پر جو ہو رہا ہے یہ اسی تربیت کا نتیجہ ہے جو سلیکٹڈ نے دی ہے،لوگوں کو گالیاں دینے اور گھسیٹنے کی دھمکیاں دینے والوں کو خود آج لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.