بریکنگ نیوز: وہ کون تھا ۔۔۔۔؟ آج اپنی جان پر کھیل کر فیاض چوہان کووکلاء کے نرغے سے نکالنے والا بہادرنوجوان دراصل کون نکلا؟ صوبائی وزیر اطلاعات نے خود بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پی آئی سی پر وکیلوں کے حملے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے ،اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔پنجاب کابینہ کے وزراءکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جارہی

ہے جن میں پولیس کی کوتاہی کو بھی دیکھا جا رہا ہے اور اگر پولیس اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام نظر آئے تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ابھی میں وکلا برادری کو کہنا چاہوں گا کہ وہ برداشت کا مظاہرہ کریں اور ڈاکٹر صاحبان بھی ہسپتالوں کی ایمر جنسی کھلی رکھیں کیونکہ اس واقعے میں مریضوں کا کوئی قصور نہیں ہے ،لہذا مریضوں کو سزا نہیں ملنی چاہیے ۔ان کے بعد فیاض الحسن چوہان نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایامجھے عثمان بزدار صاحب نے اسلام آباد سے حکم دیا کہ آپ اس سارے معاملے کو ہینڈل کرو۔میں اس وقت میٹنگ میں تھا میں وہاں سے اکیلا نکلا اورپنچا تو مجھ پر تشددد کیا گیا اور مجھے گالیاں دی گئی ۔میں میڈیا کا بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے انتہائی مناسب کردار ادا کیا اس کے بعد میں پولیس کے پاس گیا اور حکم دیا کہ کوئی شیلنگ اور کوئی فائرنگ نہیں کی جائے گی۔اس کے بعد میں مریضوں کے پاس پہنچا اور مریضوں کو بچایا ۔اب یہ پورا کیا پلان تھا مجھے بھی پیچھے سے فائر کیا گیا یہ سارا پلان (ن) لیگ کا رچایا ہوا تھا۔ کیونکہ اس کی بے شمار تصاویر (ن)لیگی لیڈران کے ساتھ سوشل میڈیا نپر وائرل ہو چکی ہیں۔ مجھے پیچھے سے اغوا کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ لیکن کوئی اللہ کا بندہ جسے میں چہرے سے جانتا ہوں اس نے میرے اوپر ہانے والی تھپڑوں کی برسات اپنے اوپر لے لی اور سر سر کہتا مجھے دوسری جانب دھکیل کر لے گیا۔ فیاض الحسن چوہان کا مزید کہنا تھا کہ میں اس کا طے دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وکلا گردی کے بعد پی آئی سی لاہورمیں علاج کیلئے دور دراز سے آئے مریض پریشان حال ہیں۔پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیرعلاج اوکاڑہ کی خاتون کاکہنا ہے کہ مریضوں کا چیک اپ ہو رہا ہے نہ ہی کوئی علاج معالجہ،والدہ دل کے عارضہ میں مبتلا ہیں ،والدہ دل کے عارضہ میں مبتلا ہیں ، وکلا کے حملے کے بعد کوئی ڈاکٹر موجود نہیں۔شہری عادل افتخارنے کہا کہ وکلاکے سامنے ہاتھ جوڑے، لیکن کسی نے نہیں سنی،والد کو ہارٹ اٹیک ہونے پر اسپتال لایا، اب کوئی دیکھ نہیں رہا،ہسپتال میں موجود افرادنے دعویٰ کیا ہے کہ 3سے4مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.