43

کمائی حلال کی ہو تو برسوں بعد بھی رسیدیں نکل آتی ہیں۔۔۔!!! (ن) لیگی حکومت کا پاکستانی عوام کو 2400 ارب ڈالرز کے قرض کا تحفہ، عمران خان اور پی ٹی آئی پر تنقید کرنے والے احسن اقبال کو منہ کی کھانی پڑ گئی

لاہور(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ ہم نے اداروں کو چٹھیاں نہیں مصدقہ دستاویزات دی ہیں، احسن اقبال کے لیڈرکو نہ رسیدیں ملیں اور نہ قطری خط کا کیلبری فونٹ کام آیا، جماعت قوم کے کندھوں پر2400 ارب ڈالرزکا قرض لاد کر چلتی بنی۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید

نے سیکرٹری جنرل ن لیگ احسن قبال کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں کہا کہ احسن اقبال صاحب ہم نے اداروں کو چٹھیاں نہیں مصدقہ سرکاری دستاویز دی ہیں۔بھائی کے ٹھیکوں سے اربوں کمانے والوں کے چہروں سے خوف جھلک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوف سے یادداشت متاثر ہوئی ہے یا احسن اقبال حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں۔ جس عدلیہ نے احسن اقبال کے لیڈرکو بددیانت قراردیا اسی نے عمران خان کو صادق اورامین قراردیا۔مراد سعید نے کہا کہ وزیراعظم بننے سے قبل عمران خان کبھی سرکاری منصب پر نہیں رہے۔عمران خان نے سرکاری منصب پر نہ ہوتے ہوئے بھی اپنا سارا حساب عدالت میں پیش کیا۔ عمران خان نے دکھایا کہ کمائی حلال کی ہوتو برسوں بعد بھی رسیدیں مل جایا کرتی ہیں۔ مراد سعید نے کہا کہ احسن اقبال کے لیڈر کو نہ رسیدیں ملیں اور نہ قطری خط کا کیلبری فونٹ کام آیا۔ احسن اقبال کی جماعت قوم کے کندھوں پر 2400 ارب ڈالرز کا قرض لاد کر چلتی بنی۔ احسن اقبال کی حکومت کیلئے قرض پر سود کی مد میں ہم نے 10 ارب ڈالر ادا کیے۔احسن اقبال کی حکومت اداروں کا جنازہ نکال کر رخصت ہوئی۔ حکومت تباہ حال اداروں کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے محنت کررہی ہے۔ واضح رہے مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بتایا جائے، امریکا، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں کس نے فنڈنگ کی؟ مواخذے سے بچنے کیلئے الیکشن کمیشن کو ادھورا چھوڑاگیا،پی ٹی آئی 6 دسمبر کو چیف الیکشن کمیشن کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کررہی تھی، قوم رسیدیں مانگ رہی ہے،آپ نے یہ 23 بے نا می اکاؤنٹس کیوں چھپائے؟انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات کو اجاگرکرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سیاست اور جمہوریت میں یقینی بنایا جائے کہ تمام جماعتیں ملکی مفاد میں کام کریں اور کسی غیرملکی لابی کے ہاتھوں ہائی جیک نہ ہوجائیں یا بیرونی عناصر کے ہماری جماعتوں کے اندررہ کر اپنے ایجنڈوں کو نافذ نہ کرسکیں۔الیکشن کمیشن کے قوانین جماعتوں کو پابند کرتے ہیں کہ بیرونی فنڈنگ کو شفاف انداز میں لائیں، شفاف انداز میں رپورٹ کریں، تاکہ ہماری سیاست اور جمہوریت بیرونی عناصر سے آزاد رہے، اورقومی مفاد کام کریں۔ مجھے افسوس ہے کہ وہ جماعت اور لیڈر جو سب کے اوپر کردارکشی کرکے اور کیچڑ اچھال کرتا ہے، خود کو مسٹرکلین کہتے ہیں، وہ جماعت جس نے کرپشن پر اپنا بیانیہ بنایا، ثابت ہوگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں